آپ آف لائن ہیں
منگل 2ربیع الاول 1442ھ20؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سانحۂ APS پر جوڈیشل کمیشن رپورٹ پبلک کرنے کا حکم


سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحۂ آرمی پبلک اسکول سے متعلق جوڈیشل کمیشن رپورٹ پبلک کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے رپورٹ پر اٹارنی جنرل کے کمنٹس کو بھی پبلک کرنے کا حکم دیتے ہوئے امان اللّٰہ کنرانی کو عدالتی معاون مقرر کر دیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس کو ہم چلائیں گے۔

جسٹس فیصل عرب نے شہداء کے والدین سے سوال کیا کہ آپ چاہتے ہیں کہ سیکیورٹی میں غفلت کے ذمے داروں کو بھی سزا ملے؟

شہداء کے والدین نے جواب دیا کہ ہم زندہ دفن ہو چکے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے کہا کہ المیہ ہے کہ چھوٹے لوگوں کو ذمے دار قرار دے دیا جاتا ہے، جبکہ بڑوں سے کچھ پوچھا نہیں جاتا، یہ روایت ختم ہونی چاہیے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ سانحۂ آرمی پبلک اسکول پوری قوم کا دکھ ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ حکومت کو ایکشن لینا چاہیے کہ ایسے واقعات نہ ہوں، وہ لوگ جو مقصد حاصل کرنا چاہتے تھے انہوں نے حاصل کیا، سیکیورٹی اداروں کو اس سازش کی اطلاع ہونی چاہیے تھی، اتنی سیکیورٹی میں بھی عوام محفوظ نہیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ اٹارنی جنرل سن لیں، یہ متاثرین کیا چاہتے ہیں، ملک کا المیہ ہے کہ حادثے کے بعد صرف چھوٹے اہلکاروں پر ذمے داری ڈال دی جاتی ہے، اٹارنی جنرل صاحب! اب اس روایت کو ختم کرنا ہو گا، اٹارنی جنرل صاحب! آپ کو سزا اوپر سے شروع کرنا ہو گی۔


جسٹس اعجاز الاحسن نے شہداء کے والدین سے کہا کہ یہ صرف آپ کا دکھ نہیں، ہم سب کا دکھ ہے، پوری قوم کا دکھ ہے۔

متاثرہ والدین نے کہا کہ ایک ہال میں سب کو جمع کر کے قتل کیا گیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ آئندہ ایسا واقعہ رونما نہ ہو، جو سیکیورٹی کے ذمے دار تھے ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے، اتنا بڑا سیکیورٹی لیپس کیسے ہوا؟

انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیکیورٹی اداروں کے پاس اطلاع تو ہونی چاہیے تھی، جب عوام محفوظ نہیں تو بڑی سیکیورٹی کیوں رکھی جائے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے کیس کی سماعت ایک ماہ تک کے لیے ملتوی کر دی۔

قومی خبریں سے مزید