• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شہباز عبوری ضمانت میں توسیع کیلئے ہائیکورٹ میں پیش


مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں عبوری ضمانت میں توسیع کیلئے لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہوگئے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سردار احمد نعیم اور جسٹس فاروق حید پر مشتمل 2 رکنی بینچ شہباز شریف کی درخواست ضمانت پر سماعت کر رہا ہے، جبکہ شہباز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے عدالت میں دلائل کا آغاز کیا اور شہبازشریف ادوار میں کیے کاموں کی تفصیلات عدالت میں جمع کروائیں۔

ایڈوکیٹ اعظم نذیر تارڑ نے عدالت کو بتایا کہ شہباز شریف اب تک 1 ہزار ارب روپے قومی خزانے کا بچا چکے ہیں،انہوں نے آج تک بطور ممبر اسمبلی تنخواہ تک وصول نہیں کی۔

وکیل اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ سیف سٹی پراجیکٹ میں بھی قومی خزانے کے کروڑوں روپے بچا ئے گئے، اگر عدالت چاہے اور اجازت دے تو ہم یہ ساری تفصیلات بتا سکتے ہیں۔

ان کاکہنا تھا کہ شہبازشریف نے اپنے دورحکومت میں اربوں روپے بچائے،جس نے اربوں بچائے وہ کروڑوں روپے کی کیوں کرپشن کرے گا ؟


وکیل شہباز شریف نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ریفرنس فائل ہو چکا ہے لیکن انا کی تسکین کیلئے گرفتار کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ اب لوکل باڈی الیکشن بھی ہونے والے ہیں۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حکومت خود کہتی ہے ہم انہیں جیل میں ڈالنا چاہتے ہیں، حکومت انہیں جیل میں ڈال کر کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے، شہباز شریف کوچھ ماہ جیل میں رکھنے کے بعد کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں، اُنکی جو نیت ہے وہ آپکے سامنے ہے۔

کیس کی سماعت کے دوران شہباز شریف کی جانب سے امجد پرویز ایڈووکیٹ نے بتایا کہ نیب والیم 4 میں ہے کہ انکی فیملی اراکین ان پر انحصار نہیں کرتے،والیم 4 میں فیملی اراکین کی ٹیکس ریٹرن کی تفصیلات دی گئی ہیں اور بتایا گیا ہے کہ کون کب ٹیکس دینا شروع ہوا۔

ایڈووکیٹ امجد پرویز نے اس موقع پر شہباز شریف کے بچوں کی بلوغت اور ٹیکس ریٹرن کا چارٹ عدالت میں جمع کروا دیا اور بتایا کہجویریہ اور رابعہ ٹیکس ادا کر رہے ہیں، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز ٹیکس ادا کر رہے ہیں اور کوئی بچہ شہبازشریف کے زیر کفالت نہیں ہے۔

قومی خبریں سے مزید