• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جامعہ کراچی ہراسانی معاملہ کیا ہے؟

پاکستان کی بڑی جامعات میں شامل جامعہ کراچی میں مبینہ طور پر ہراسانی کے معاملے نے سنگینی اختیار کرلی ہے۔

ہوا کچھ یوں کہ جامعہ میں قائم انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کے طالب علم سید شہیر علی نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں یونیورسٹی میں پیش آئے واقعے کو رقم کیا جس کے بعد سے جامعہ کی سیکیورٹی پر سوال اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔

سید شہیر علی نے اپنی ایک طویل پوسٹ میں انہیں اور ان کے ساتھ موجود طالبہ کو یونیورسٹی کے اندر مبینہ طور جنسی ہراساں کیے جانے کے واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے اسے حال ہی میں لاہور موٹر وے پر ہونے والے گینگ ریپ سے تشبیہ دی تھی۔

ان کی اس پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بحث شروع ہوگئی اور ٹوئٹر پر ’کراچی یونیورسٹی از ناٹ سیف‘ یعنی ’کراچی یونیورسٹی محفوظ نہیں‘ کا ہیش ٹیگ پاکستان کے ٹوئٹر ٹرینڈ پینل پر ٹرینڈ کرتا رہا۔

طالب علم سید شہیر علی نے اپنی فیس بک پوسٹ میں لکھا کہ ’وہ گذشتہ رات ایک دوست کی سالگرہ سے رات ساڑھے 11 بجے واپس جامعہ کراچی آئے اور ایک ساتھی طالبہ کو آئی بی اے کے گرلز ہاسٹل میں چھوڑنے کے بعد وہ اپنی دوسری ساتھی طالبہ کو چھوڑنے کے لیے یونیورسٹی کے مسکن گیٹ کی طرف روانہ ہوئے۔‘

سید شہیر علی کے مطابق جب وہ کراچی یونیورسٹی کے آئی بی اے گرلز ہاسٹل میں اپنی ساتھی کو چھوڑنے کے بعد واپس جارہے تھے کہ چار موٹر سائیکلوں پر سوار تقریباً 10 نوجوانوں نے ان کی گاڑی کو روکا اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی۔


واضح رہے کہ کراچی یونیورسٹی کے چار داخلی اور خارجی راستے ہیں، جن میں سے دو یعنی سلور جوبلی اور شیخ زید مین یونیورسٹی روڈ پر واقع ہیں جبکہ ایک گیٹ ابوالحسن اصفہانی روڈ پر واقع مسکن چورنگی کی طرف واقع ہے

اس گیٹ سے داخل ہونے کے بعد یونیورسٹی کے اندر جانے والے راستے پر کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ، کراچی یونیورسٹی بزنس اسکول (کے یو بی ایس) آئی بی اے کے بوائز اور نیو بوائز ہاسٹل واقع ہیں، مگر عام طور پر یہ راستہ ویران ہوتا ہے اور کراچی یونیورسٹی کے طلبہ کے مطابق شام کے بعد اس راستے پر اسٹریٹ لائٹس بھی نہیں ہوتیں۔

شہیر علی نے پوسٹ میں اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ اگر وہ افراد گاڑی کے اندر پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے تو یقیناً ان کو مار پیٹ کر پھینک دیتے، جس کے بعد سب جانتے ہیں کہ لڑکی کے ساتھ کیا سلوک ہوتا۔

شہیر کا کہنا تھا کہ وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے اور مسکن گیٹ پر پہنچ کر چوکیداروں کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ لڑکے 15 سے 25 برس کے درمیان لگ رہے تھے لیکن ان کی آنکھوں میں وحشت عیاں تھی۔

شہیر کی مذکورہ پوسٹ نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد جامعہ کے ایوننگ پروگرام کے طلبہ نے اپنے تجربات سے بھی آگاہ کیا۔

قومی خبریں سے مزید