آپ آف لائن ہیں
ہفتہ12؍ربیع الثانی 1442ھ 28؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ریاضی اور طبیعات میں ایک تصور ہے جسے ہم Infinityیعنی لامحدودیت کہتے ہیں، یہ ایک پیچیدہ تصور ہے، اسکول کے زمانے میں ہمیں صرف یہ بتایا گیا تھا کہ اگر کسی بھی ہندسے کو صفر سے تقسیم کر دیا جائے تو جواب لامحدود آتا ہے۔ یہ لا محدود کیا ہے؟ کیا کوئی بھی شے لامحدود ہو سکتی ہے؟ یہ وہ سوالات تھے جو ذہن میں تو کلبلاتے تھے مگر اِن کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا یا یوں کہئے کہ کم از کم ہمیں کوئی ایسا بندہ نہیں ملا جو اِن سوالات کے تسلی بخش جواب دے کر مطمئن کر دیتا۔ جستجو ہو تو خدا بھی مدد کرتا ہے، پچھلے دِنوں ایک ایسی کتاب پڑھنے کا موقع ملا جس میں لکھاری نے نہ صرف اِن گتھیوں کو سلجھا دیا ہے بلکہ کائنات سے متعلق سربستہ رازوں کو یوں بیان کیا ہے جیسے کوئی ولی جذب و مستی کے عالم میں اپنے مرید کو دوسری دنیاؤں کی جھلک دکھا دے۔ تین ہفتے پہلے فدوی اِس کتاب پر ایک کالم لکھ چکا ہے جس میں وعدہ کیا تھا کہ کتاب کا نام بعد میں بتاؤں گا، وعدے پر قائم ہوں مگر پہلے کتاب کے کچھ حصے ’چکھ ‘ لیں!

کائنات کی لامحدودیت کا سوال نیا نہیں ہے، آئن اسٹائن نے کہا تھا کہ کائنات بیک وقت محدود بھی ہے اور اِس کی کوئی سرحد بھی نہیں، بالکل ویسے جیسے زمین کی سطح لامحدود نہیں مگر بظاہر اِس کی کوئی حد بھی نہیں۔ کائنات کے معاملے میں بھی یہ ممکن ہے کیونکہ آئن اسٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت کے مطابق کائنات خم دار ( curved)ہے سو یہ بیک وقت محدود بھی ہو سکتی ہے اور بغیر سرحد کے بھی۔ لامحدود کا تصور دراصل اِس قدر خوفناک ہے کہ اسے انسانی ذہن میں سمونا بےحد مشکل ہے، جب ہم کائنات کو لامحدود کہتے ہیں تو یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر ایسا ہو تو پھر ہم جیسی دنیاؤں کی تعداد بھی لامحدود ہوگی اور اُن دنیاؤں میں ہم جیسے انسان اور اُن کے ساتھ پیش آنے والے واقعات و معاملات بھی لامحدود ہوں گے جس کے نتیجے میں یہ بات تقریباً یقینی ہوگی کہ کائنات کے کسی دوسرے حصے میں بعینہ میری طرح کوئی شخص یہ کالم لکھ رہا ہوگا اور آپ کی طرح کوئی اسے پڑھ رہا ہوگا لیکن یہ بات اگر ایسے ہی ہوتی تو اب تک ہماری ہمزاد سے ملاقات ہو چکی ہوتی مگر اِس کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے اور اِس کی وجہ یہ ہے کہ لامحدودیت بلاشبہ بہت وسیع تصور ہے مگر ایٹموں کے مجموعے سے جو اشیا وجود میں آ سکتی ہیں وہ لامحدود نہیں ہو سکتیں لہٰذا کائنات بھی لامحدود نہیں۔ بات کچھ پیچیدہ ہو گئی، اسے دوسرے طریقے سے دیکھتے ہیں۔

جرمن ماہر طبیعات ورنر ہائزنبرگ کے مطابق کسی بھی مقررہ وقت پر الیکٹرونز کی رفتار اور مقام کا تعین کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ الیکٹرونز اُسی وقت ’ظاہر‘ ہوتے ہیں جب اُنہیں ملاپ کرنا ہوتا ہے اور جب وہ ملاپ نہیں کر رہے ہوتے اُس وقت وہ ’وجود‘ ہی نہیں رکھتے۔ الیکٹرونز کی نقل و حرکت قدرت کے کسی قانون کے تابع نہیں، کب، کہاں، کون سا الیکٹرون حرکت کرے گا، کسی کو نہیں معلوم۔ باالفاظ دیگر مستقبل طے شدہ نہیں! ہائزنبرگ کی یہ دریافت آج تک انسانی ذہن کے لئے ایک پُراسرار معمہ ہے۔ اِسے کوانٹم میکینکس کہتے ہیں۔ جس طرح کائنات کی لامحدودیت کو سمجھنا ایک دقیق مسئلہ تھا، اِسی طرح یہ گتھی سلجھانا بھی بےحد مشکل تھا کہ ایٹم کو کتنے لامتناہی ذرات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ کوانٹم میکینکس نے یہ بات ثابت کی کہ کسی بھی سالمے کو لامتناہی ذرات میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا، اسپیس کی تقسیم کی ایک حد ہے، ایک خاص سطح کے بعد یہ تقسیم ناممکن ہو جاتی ہے، اُس حد کے بعد کوئی شے وجود نہیں رکھ سکتی، شاید وقت بھی نہیں۔ اِس حد کو روس کے ریاضی دان ’ماتوی برونستین‘ نے دریافت کیا، اسے پلانک لینتھ کہا جاتا ہے، یہ کس قدر چھوٹی ہے اِس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ اگر ہم اخروٹ کے چھلکے کو اِس کائنات جتنا بڑا کر لیں تو پھر بھی ہم اِس پلانک لینتھ کا مشاہدہ نہیں کر پائیں گے۔ یہ ہے وہ مقام جہاں زمان و مکاں اپنی ہیئت تبدیل کر لیتے ہیں۔ اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ ماضی کے کسی بھی لمحے میں یہ کائنات پلانک لینتھ سے کم حجم کی نہیں رہی ہوگی کیونکہ پلانک لینتھ سے ’پہلے‘ کے کسی لمحے، میں ’وجود‘ ممکن نہیں تھا۔ گویا جس طرح کائنات کا لامحدود پھیلاؤ ثابت نہیں اسی طرح کائنات کی لامحدود تقسیم بھی ثابت نہیں۔ اِس موقع پر کتاب کے مصنف نے کمال کا جملہ لکھا ہے کہ ’’لامحدود کا مطلب اِس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہ جسے ہم شمار نہ کر سکیں یا جسے سمجھ نہ پائیں۔ یہ نام ہم نے اُس تصور کے بارے میں رکھ چھوڑا ہے جس کے بارے میں ابھی ہمیں علم نہیں جبکہ قدرت ہمیں بتا رہی کہ ایسا کچھ بھی نہیں جو صحیح معنوں میں لامحدود ہو‘‘۔

فسطائی حکومتیں بھی اپنی طاقت کو لامحدود سمجھتی ہیں۔ ماتوی برونستین صرف ریاضی دان ہی نہیں ایک سچا انقلابی بھی تھا، اُس نے ایک ایسے روس کا خواب دیکھا تھا جہاں سماجی انصاف ہو، آزادی ہو، مساوات ہو، قانون اور آئین کی عمل داری ہو۔ وہ لینن کا پیروکار تھا۔ تاہم جب اسٹالن نے اقتدار سنبھالا تو اُس کے خواب بکھرنے لگے، اسٹالن کی فسطائی حکومت کو اُس نے قبول نہیں کیا اور رفتہ رفتہ وہ اِس حکومت کا ناقد بن گیا۔ فسطائیت میں اِس تنقید کی گنجائش نہیں تھی سو وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ فروری 1938میں اِس عظیم ریاضی دان کو اسٹالن کی پولیس نے گرفتار کر لیا۔ ایک ہی دن اُس پر ’مقدمہ‘ چلا اور اسی دن اسے موت کی سزا سنا کر قتل کر دیا گیا۔ کہنے کو اُس وقت بھی ایک حکومت تھی، اُس وقت بھی پولیس تھی اور اُس وقت بھی عدالت تھی۔ ماتوی برونستین کو یہ سزا ایک عدالت نے ہی سنائی تھی۔ سچائی وہ نہیں جو نظر آتی ہے۔

نوٹ: کتاب کا نام ہے ’Reality is not what it seems‘ اور مصنف کا نام ہے ’کارلو روویلی‘۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین