آپ آف لائن ہیں
پیر 8؍ ربیع الاوّل1442ھ 26؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

6 غذائی اجزا ہماری صحت کیلئے نہایت ضروری

غذائی ماہرین کی جانب سے بہتر، مثبت اور مکمل غذا کا استعمال لازمی قرار دیا جاتا ہے، ڈائیٹنگ یا چند غذاؤں کو ناپسندیدہ قرار دے کر چھوڑ دینے سے انسانی جسم غذائیت کے لحاظ سے مختلف غزائی اجزا کی کمی ’ڈیفیشنسیز ‘ کا شکار ہو جاتا ہے جس سے مجموعی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ماہرین غذائیت کے مطابق اعتدال میں رہتے ہوئے ہر قسم کی غذا کا استعمال لازمی کرنا چاہیے، صحت مند اور بھر پور زندگی جینے کے لیے گوشت، سمندی غذاؤں، سبزیوں، پھلوں اور ڈیری مصنوعات کا استعمال اپنی غذا میں  شامل رکھنا چاہیے۔


غذائیت سے متعلق وٹامنز اور منرلز کی کمی کا سامنا کسی بھی جنس کو کسی بھی عمر میں کرنا پڑ سکتا ہے، اسی لیے ہر عمر میں غذا کا خاص خیال رکھنا اور وٹامنز اور منرلز کی کمی کے باعث سامنے آنے والی علامات پر نظر رکھنا ضروری ہے۔

وٹامنز اور منرلز کی عام پائی جانے والی کمی ’نیوٹرینٹ ڈیفیشنسیز‘ (nutrient deficiencies) میں پروٹین ، وٹامن اے ، بی ، سی ، ڈی ، کیلشیم ، فولیٹ ، آئیوڈین، اور آئرن شامل ہیں۔

انسانی جسم میں پروٹین کی کمی

پروٹین کی کمی، بڑوں، بچوں اور بزرگوں میں پائی جا سکتی ہے، جسم میں پروٹین کی کمی کی وجہ ڈپریشن، زیادہ دیر تک بھوکا رہنا اور بھوک کو مارنے کے سبب پیدا ہوتی ہے۔

بچوں میں پروٹین کی کمی کا پایا جانا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، ماہرین غذائیت کے مطابق بچوں کی غذا پر خصوصی توجہ دینی چاہیے جبکہ ہر عمر کے فرد کو غذا میں پروٹین کا وافر مقدار میں استعمال شامل رکھنا چاہیے ۔

آئرن

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزشن کے مطابق  وٹامنز اور منرلز کی کمی میں سب سے زیادہ خطرناک آئرن کی کمی ہے، آئرن کی کمی  کا مسئلہ عام پایا جاتا ہے، ہر دوسرا فرد اس سے متاثر نظر آ تاہے، کم ہیموگلوبن کی وجہ سے وجود میں آنے والی یہ کمی زیادہ تر بچوں اور خواتین کو متاثر کرتی ہے۔

آئرن کی کمی حاملہ خواتین کے لیے موت کا سبب بھی بن سکتی ہے اور اس کی کمی سے نو زائیدہ بچے کا وزن کم اور پیدائش کے فوراً بعد متعدد بیماریوں میں گھر سکتا ہے۔

ہیموگلوبن کی مقدار پوری کرنے کے لیے لال لوبیا، کدو، پھلیاں ، سورج مکھی کے بیج ، کدو کے بیج ، کالی کھجوروں کا استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

وٹامن اے

وٹامن اے کو چربی گھلانے والا جز قرار دیا جاتا ہے، اس کے علاوہ وٹامن اے آنکھوں کی بینائی تیز اور قوت مدافعت کو مضبوط بنانے میں بھی کردار ادا کرتا ہے، اس کی کمی کے باعث بینائی کمزور اور مدافعتی نظام کمزور ہو سکتا ہے۔

وٹامن اے کی زیادتی بھی باعث نقصان ثابت ہو سکتی ہے جسے ’وٹامن اے ٹاکسٹی‘  کہا جاتا ہے۔

وٹامن اے کی بھرپور مقدار حاصل کرنے کے لیے گاجر ، پالک ، بروکولی ، لال اور پیلی شملہ مرچ، کدو، انگور، چکوترے اور شکر کندی کا استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

وٹامن ڈی کی کمی

وٹامن ڈی کی کمی سے بہت سی بیماریاں جنم لیتی ہیں جن میں  زخموں کا دیر سے بھرنا، ہڈیوں کا کمزور ہو جانا، بالوں کا گرنا اور سانس لینے میں دشواری شامل ہے، وٹامن ڈی 3 کیلشیم کو جذب کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے ۔

طبی ماہرین کے مطابق وٹامن ڈی کی کمی کی وجوہات میں دھوپ نہ سیکنے سمیت غیر مناسب غذا کا استعمال بھی شامل ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ جو افراد دن کے اوقات میں گھروں اور دفتروں میں مصروف اور دھوپ سے دور رہتے ہیں ان میں وٹامن ڈی کی کمی پائی جانا عام سی بات ہے۔

وٹامن ڈی کی مقدار حا صل کرنے کے لیے دھوپ سیکنا، مچھلی، مچھلی کا تیل ( سپلیمنٹس ) ، پنیر کا استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

آئیو ڈین کی کمی

طبی ماہرین کہتے ہیں کہ آئیوڈین انسانی خوراک کا ایک اہم جز ہے جس کی کمی سے انسانی دماغ اور جسم کی نشو نما متاثر ہوتی ہے، آیو ِڈین انسانی خوراک کا ایک اہم معدنی جز و ہے جو بہت ہی کم مقدار میں یومیہ بنیادوں پر انسانی جسم کو درکار ہوتا ہے، یہ نا تو قد رتی طور پر جسم میں بنتا ہے اور نا ہی ذخیرہ ہوتا ہے۔

آئیوڈین کو نمک کے ساتھ ملا کر انسانی جسم کو فراہم کیا جاتا ہے، ماہرین طب کے مطابق جسم میں آئیوڈین کی کمی کے باعث انسانی دماغ اور جسم کی نشو نما متاثر ہوتی ہے۔

آئیوڈین کی کمی پوری کرنے کے لیے مچھلی، انڈوں اور سمندری دیگر غذاؤں کا استعمال کرنا چاہیے۔

وٹامن بی 12 کی کمی

وٹامن بی 12 دماغی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے ، اس کی کمی کے سبب خون کی کمی اور نظام ہاضمہ، معدے اور آنتوں سے متعلق شکایات سامنے آتی ہیں۔

وٹامن بی 12 کی کمی سے دیگر بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں۔

وٹامن بی کی کمی پوری کرنے کے لیے انڈے کی زردی، جھینگے، دودھ سے بنی مصنوعات کا استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

صحت سے مزید