آپ آف لائن ہیں
جمعرات17؍ربیع الثانی 1442ھ3؍دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ماربل فیکٹریز اجلاس ، پاور کرشرز ایکٹ پر عملدرآمدنہ ہونے پر تشویش

پشاور (لیڈیرپورٹر )ڈپٹی سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی محمود جان کی زیر صدارت ماربل فیکٹریز سے متعلق اجلاس گزشتہ روز اسمبلی کانفرنس روم میں منعقد ہوا اجلاس میں سیکرٹری ماحولیات شاہد اللہ، سیکرٹری ایگریکلچرل محمد اسرار،سپیشل سیکرٹری انڈسٹریز نادر رانا، ایڈیشنل سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو محمد ہمایون ایڈیشنل سیکرٹری ایریگیشن آفاق وزیر، ایس ای ایریگیشن آفتاب احمد، ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفیئر محمد یاسین، ڈائریکٹر جنرل ای پی اے ڈاکٹر محمد بشیر خان، ایکسئینز اسد علی، سمیع اللہ کنڈی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر پشاور اشفاق خان، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر جمرود آفتاب احمد، ڈپٹی کمشنر خیبر اور ایس پی ہیڈ کوارٹر نے شرکت کی۔اجلاس میں ماربل فیکٹریز کے بارے میں اسمبلی سے پاس شدہ پاور کرشرز ایکٹ2020ء پر عملدرآمدنا ہونے پر تشویش اظہار کیا گیا شرکانے کہا کہ ماربل انڈسٹری کو قانونی دائرہ کار میں لانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اس کی وجہ سے علاقہ میں سانس و دیگر بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ڈپٹی سپیکر نے حکام کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر فیکٹریز کو قانون کے مطابق NOC اور لائسنس حاصل کرنے کیلئے نوٹسز جاری کریں تاکہ ان کو قانونی دائرہ کار میں لایا جاسکے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ علاقہ میں تقریباً پانچ چھ سو فیکٹریز ہیں جن کیلئے لائحہ عمل

مرتب کرنے کیلئے تقریباً 6 ماہ کا عرصہ درکار ہے کیونکہ اس ضمن میں کافی مسائل ہیں جن میں سیفٹی ٹینک کا نہ ہونا، ماربل نکاسی آب و مواد کیلئے ڈرین اور صفائی کے نظام کا وضح کرنا، واٹر لاگنگ اور روڈز پر پانی کے بہائو کو روکنا اور پانی کی ری سائیکلنگ شامل ہیں، اجلاس میں ڈپٹی سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی محمود جان نے محکمہ انڈسٹری کے سپیشل سیکرٹری کو فوکل پرسن مقرر کرتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ اس معاملے کو حل کرنے کیلئے اپنی زیر نگرانی ایک میٹنگ بلائیں اور تمام محکموں کے حکام کے ساتھ مسئلے کے حل کیلئے اقدامات اٹھائیں تاکہ معاملے کو قانون و رولز کے مطابق کیا جاسکے۔

پشاور سے مزید