بیٹے کی غلطی پر کمار سانو کو معافی مانگنا پڑگئی
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بیٹے کی غلطی پر کمار سانو کو معافی مانگنا پڑگئی

معروف بھارتی گلوکار کمار سانو نے بگ باس 14 میں اپنے بیٹے جان کی جانب سے مرہٹی زبان کے حوالے سے قابل اعتراض جملہ کہنے پر معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ میں اس کی بات سے اتفاق نہیں کرتا اور مجھے نہیں معلوم کہ اس نے کیا تعلیم حاصل کی ہے۔

اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کنگ آف میلوڈی کے نام سے بھارت میں مشہور گلوکار نے کہا کہ انھیں معلوم ہوا ہے کہ ان کے بیٹے جان نے بگ باس 14 میں کچھ قابل اعتراض بات کی ہے، لہٰذا میں اسکی جانب سے معافی کا طلب گار ہوں۔ 

کئی زبانوں میں گلوکاری کے حوالے سے مشہور اور پدما شری سمیت متعدد اعزاز رکھنے والے کمار سانو کا کہنا تھا کہ انکے بیٹے نے جو بات کہی وہ انکے دماغ میں گزشتہ 41 برسوں میں نہیں آئی۔ مہاراشٹرا، ممبئی اور ممبا دیوی نے مجھے بہت نوازا، نام، عزت اور شہرت ہر چیز دی۔


میں کبھی بھی ممبا دیوی اور مہاراشٹرا کے بارے میں ایسی بات نہیں سوچ سکتا۔ مجھے بھارت کی تمام زبانوں سے پیار ہے اور انکا احترام کرتا ہوں۔ میں نے مختلف زبانوں میں گیت گائے ہیں۔

کمار سانو نے کہا کہ انھیں نہیں معلوم کہ میری بیوی نے بیٹے جان کی کس طرح پرورش کی اور یہ ایسی چیزیں کیونکر بول سکتا ہے، میں بطور والد آپ تمام سے معذرت خواہ ہوں۔ میں نے بال ٹھاکرے کی سالگرہ کی ہر تقریب میں شرکت کی۔ میں انکے خاندان کی تقریبات میں انکے بہت ہی قریب رہا ہوں۔

واضح رہے کہ بگ باس کی ایک حالیہ قسط میں جان نے کنفیشن روم میں اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگی اور کہا کہ اس نے غیر ارادی طور پر مرہٹہ زبان بولنے والوں کے جذبات مجروح کیے، اور وہ آئندہ اسکا اعادہ نہیں کریگا۔

بتایا جاتا ہے کہ جان نے نکی تمبولی سے پروگرام کے دوران کہا تھا کہ وہ مقابلے میں شریک راہول ویدیا سے مرہٹی زبان میں گفتگو نہ کریں، مجھے اس سے چڑ ہوتی ہے۔ تاہم انکے اس جملے کو بہت سے لوگوں نے غلط انداز میں لیا، اور ایم این ایس لیڈر آمیا خوبکر نے ان سے فوری معافی کا مطالبہ کیا۔ 

ادھر دوسری جانب جان کی والدہ ریتا بھٹاچاریہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر نے جان کے والد کو عزت محبت اور شہرت سمیت بہت کچھ دیا ہے، وہ اس زبان کی کبھی توہین نہیں کرینگے۔

انھوں نے تمام لوگوں سے درخواست کی کہ وہ اسے صرف ایک گیم شو سمجھ کر معاف کردیں۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید