آپ آف لائن ہیں
منگل7؍رمضان المبارک 1442ھ 20؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

صحتِ زباں: الفاظ اور محاورات کا درست استعمال

٭…دوران اور درمیان

آج کل یہ عجیب رواج ہوگیا ہے کہ لفظ ’’دوران ‘‘کے بعد لوگ ـ’’میں‘‘ نہیں لکھتے حالانکہ ’’دوران میں ‘‘ درست ہے اورجملے میں صرف ’’دوران ‘‘ لکھنے سے جملہ قواعدی طور پر درست نہیں رہتا۔عام طور پر’’دوران‘‘ کا لفظ جملے میںاب یوںاستعمال کیاجاتا ہے:

اس دوران یہ بات ہوئی (غلط)

کھانے کے دوران سب سے بات ہوئی (غلط)

جبکہ درست جملے یوں ہوں گے :

اس دوران میں یہ بات ہوئی (صحیح)

کھانے کے دوران میں سب سے بات ہوئی (صحیح)

اس کی وجہ یہ ہے کہ ’’دوران ‘‘ کا لفظ مدت، عرصہ ، وقت یا زمانہ کے معنی میں ہے اور اگر جملے میں دوران کی بجاے مثلاً’’مدت ‘‘ کا لفظ لکھا جائے اور اس کے بعد ’’میں‘‘ نہ لکھا جائے، جیسے ’’ اس مدت یہ بات ہوئی‘‘ تو جملہ کس طرح صحیح کہا جاسکتا ہے ۔درست جملہ یوں ہوگا ’’اس مدت میں یہ بات ہوئی‘‘ یا ’’اس عرصے میں یہ بات ہوئی ‘‘۔ اسی لیے ’’اس دوران میں یہ بات ہوئی ‘‘درست ہوگا۔

یہ غلطی ’’میں ‘‘ کا محل ہونے کے باوجود ’’میں‘‘نہ لکھنے سے ہوتی ہے۔ ایک اور غلطی اس وقت ہوتی ہے جب ’’میں ‘‘ کے استعمال کا کوئی محل نہیں ہوتا اور لوگ ’’میں ‘‘ لکھ دیتے ہیں ۔ یہ ’’درمیان‘‘ کے ساتھ ہوتا ہے۔ ’’درمیان‘‘ کے بعد’’میں ‘‘نہیں آسکتا کیونکہ ’’در‘‘ کا مطلب ہی ’’میں ‘‘ ہے۔ ’’میان ‘‘ کے معنی ہیں وسط یا بیچ۔ ’’درمیان ‘‘کا مطلب ہے بیچ میں، وسط میں۔ لہٰذا ’’درمیان‘‘ کے بعد ’’میں ‘‘ نہیں آسکتا ۔

’’در‘‘ اور’’ میان ‘‘دونوں فارسی سے آئے ہیں۔اسی ’’میان ‘‘ سے لفظ بنا ’’میانی ‘‘ ، معنی ہیں پاجامے کے دونوں پائنچوں کے بیچ میں لگنے والا کپڑا ۔ چونکہ یہ دونوں پائنچوں کے ’’درمیان‘‘ہوتا ہے اس لیے اس کا نام میانی پڑگیا۔ ایک اورلفظ جو میان سے بنا ہے وہ ہے ’’میانہ ‘‘، معنی ہیں بیچ کا، وسطی ۔ اسی سے میانہ رو اور میانہ روی کی ترکیبیں بنی ہیں ۔ میانہ رو کا مطلب ہے وہ جو اوسط درجے کی رفتار سے چلے، گویا جس میں اعتدال ہو ، جو کسی کام میں افراط یا کمی نہ کرتا ہو وہ میانہ رو ہے۔اعتدال میں رہنے کا یہ عمل میانہ روی کہلاتا ہے۔

لیجیے صاحب ! بات تو ہورہی تھی ’’دوران ‘‘ اور ‘‘میں ‘‘ کی اور اس ’’دوران میں ‘‘ میان بھی آگیا ۔

٭…مطمعِ نظر نہیں مطمحِ نظر

عربی میں ایک لفظ ہے مطمح ، جس کے معنی ہیں مقصد یا ہدف۔ مطمحِ نظر کے معنی ہوئے نظر کا مقصد یا ہدف ،نگاہ کا مرکز یعنی جہاں نظر ہو ،مراد ہے :مقصد ، اصل منشا یا ارادہ۔ اسی لیے درست ترکیب مطمح ِ نظر ہے لیکن بعض اوقات اسے مطمعِ نظر لکھ دیا جاتا ہے (یعنی م ط م ح کی بجاے م ط م ع )جو درست نہیں ہے ۔اس ترکیب کا درست استعمال مثلاًیوں ہوگا: علمی اداروں کا مطمحِ نظر علم کا فروغ ہونا چاہیے ناکہ منافع کمانا۔