آپ آف لائن ہیں
ہفتہ4؍رمضان المبارک 1442ھ 17؍اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بیٹے کے پاس اسلحہ نہیں تھا: متوفی طالب علم شاہ زیب کے والد اکبر خان

پشاور کے تھانہ غربی میں مبینہ پولیس تشدد سے جاں بحق ہونے والے 14 سال کے طالبعلم  شاہ زیب کے والد اکبر خان نے کہا ہے کہ اُن کے بیٹے کے پاس اسلحہ نہیں تھا اور نہ ہی اُنہیں بیٹے کی لڑائی کا علم تھا۔

پشاور میں پولیس حوالات میں خودکشی کرنے والے 14 سالہ طالب علم کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ۔

 گرفتار ایس ایچ او سمیت تھانہ غربی کے تمام عملے کے بیان قلمبند کر لیے گئے، انویسٹی گیشن ٹیم نے تھانے کا تمام ریکارڈ چیک کرلیا۔طالب علم کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار ہے ۔

 والد نے الزام لگایا کہ ان کے بیٹے کو تشدد کر کے مارا گیا ہے، اس کے بر عکس پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکے نے پھندا ڈال کر خود کشی کی۔

متوفی طالب علم شاہ زیب کے والد اکبرخان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی نمائندوں نےتحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے۔

اکبر خان نے کہا کہ حکومت نے جوڈیشل انکوائری کا کہا ہے تحقیقات کا انتظار ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اگر بیٹے نے کسی سے لڑائی کی ہے تو وہ معاملہ کہاں ہے، مجھے انصاف فراہم کیا جائے۔

دوسری جانب ڈپٹی اسپیکرخیبرپختونخوا اسمبلی محمود جان نے اس واقعے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متوفی طالب علم کے واقعے کی جوڈیشل انکوائری ہوگی۔

اس ضمن میں ایس ایس پی آپریشنز یاسر آفریدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طالب علم کی ہلاکت کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

یاسر آفریدی نے کہا کہ مانیٹرنگ کا سسٹم ہے لیکن غفلت ہوئی، مانیٹرنگ پر جس محرر کی ڈیوٹی تھی وہ بھی سلاخوں کے پیچھے ہے۔

ایس ایس پی آپریشنز کا مزید کہنا تھا کہ انگریز دور کا تھانا ہے، نئی عمارت زیر تعمیر ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز پشاور کے تھانہ غربی میں مبینہ پولیس تشدد سے 14 سال کا طالبعلم جاں بحق ہوگیا تھا۔

پولیس نے موقف دیا تھا کہ شاہ زیب نامی لڑکے کو لیاقت بازار میں دکانداروں سے تلخ کلامی اور اسلحہ تاننے پر گرفتار کیا گیا تھا، شاہ زیب کے خلاف 15 اے اے کے تحت ایف آئی آر درج کی، جس کے کچھ دیر بعد شاہ زیب نے حوالات کے اندر گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کرلی تھی۔

دوسری جانب لڑکے کے والد خیال اکبر کا پولیس پر الزام لگاتے ہوئے کہنا تھا کہ میرے بیٹے کو حوالات میں تشدد کر کے مارا گیا، میرا بچہ نجی پبلک اسکول میں ساتویں جماعت کا طالب علم تھا اور کل اس کا ریاضی کا پرچہ تھا۔

قومی خبریں سے مزید