• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بیلجیئم میں کورونا کی روک تھام کے لیے نئے سخت اقدامات کا اعلان

بیلجیئم میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے حکومت نے صرف ایک ماہ قبل دی جانے والی رعایتیں واپس لیتے ہوئے نئے سخت اقدامات کا اعلان کردیا۔

ان اقدامات کا اعلان بیلجیئم کے وزیراعظم الیگزینڈر دی کرو نے اس حوالے سے قائم مشاورتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں کورونا وائرس سے متاثرہ اور اس کے باعث اسپتال جانے والے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کا خیال ہے کہ بروقت اقدام نہ اٹھایا گیا تو صحت کے نظام پر شدید دباؤ آئے گا اور مریضوں کو سنبھالنا مشکل ہوجائے گا۔

یہ تمام اقدامات 27 مارچ ہفتے کے روز سے نافذ العمل ہونگے۔ ان نئے اقدامات کے تحت حجام اور تمام بیوٹی سیکٹر کو دوبارہ 4 ہفتوں کیلئے بند کردیا گیا ہے۔ فوڈ سیکٹر کے علاوہ دیگر دکانوں کو بند نہیں کیا گیا لیکن ان کیلئے نئے قوانین جاری کر دیے گئے ہیں۔

ان قوانین کے تحت بڑی سے بڑی دوکان میں لوگ پہلے سے وقت طے کرکے (اپائنٹمنٹ لیکر) جائیں گے۔ ایک وقت میں ایک چیز لینے والے 2 افراد جائیں گے اور بڑی سے بڑی دکان یا شاپنگ مال میں 50 افراد سے زائد نہیں ہونگے۔

فوڈ سیکٹر، فارمیسی، ہائی جین اشیاء فروخت کرنے والے، کپڑے، پھول پودے، کتابوں اور اخبارات کی دکانیں اور ٹیلیفون و ٹیلی کام سیکٹر کی دکانوں پر پہلے سے وقت لینے کی پابندی نہیں ہوگی۔ لیکن انہیں دیگر قیود کا خیال رکھنا ہوگا۔


علاوہ ازیں 10 افراد کی بجائے اب صرف 4 افراد کا گروپ آؤٹ ڈور ملاقات کرسکے گا۔ ہر ممکن حد تک کمپنیوں کے ملازمین آن لائن خدمات انجام دیں گے۔ ملک سے باہر غیر ضروری سفر سے گریز کیا جائے گا اور شہریوں کو ایسٹر پر بھی غیر ضروری سفر کی اجازت نہیں ہوگی۔

رات 10 بجے سے لیکر (ریجن کے لحاظ سے ) صبح کے 5 اور 6 بجے تک کرفیو پہلے ہی کی طرح جاری رہے گا۔

آئندہ پیر کے روز سے پرائمری سے لیکر اعلیٰ تعلیم تک تمام تعلیمی عمل 19 اپریل تک روک دیا گیا ہے۔ ان نئے اقدامات کے تحت کسی بھی طرح کے مظاہرے میں 50 سے زائد افراد شریک نہیں ہونگے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید