مصنّف: محمّد شریف بقاء
نظر ثانی: زید بن عُمر
صفحات: 188، قیمت: 500 روپے
ناشر: مکتبۂ جمال، تیسری منزل، حسن مارکیٹ، اردو بازار، لاہور۔
ہمارے ہاں چوہدری رحمت علی سے متعلق عام تاثر یہی ہے کہ اُنھوں نے پاکستان کا نام تجویز کیا تھا اور بس۔ تحریکِ آزادی کے اِس عظیم ہیرو کو یوں محدود کرنا صرف اُن کے ساتھ ہی ناانصافی نہیں، بلکہ قومی تاریخ کے ساتھ بھی زیادتی کے مترداف ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب قوم کے اِس محسن کا حقیقی کردار سامنے لانے کی ایک کوشش ہے، جس میں اُن کی شخصیت اور جدوجہد کے مختلف پہلوؤں پر مضامین لکھے گئے ہیں۔
چوہدری رحمت علی نے 1915ء میں، جب وہ اسلامیہ کالج کے طالبِ علم تھے، ’’ بزمِ شبلی‘‘ کے نام سے ایک انجمن بنائی، جس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا’’ شمالی ہندوستان میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور اُسے ایک آزاد مسلم مملکت بنائیں گے۔‘‘اُنھوں نے باقی زندگی اِسی خواب کی تکمیل میں گزار دی۔ 1930ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن گئے، تو وہاں بھی اسی مقصد کے لیے متحرّک رہے۔’’ پاکستان نیشنل موومنٹ‘‘ کے نام سے تنظیم قائم کی اور یہ پہلی تنظیم تھی، جس میں پاکستان کا لفظ شامل تھا۔اِسی دَوران’’ اب نہیں، تو کبھی نہیں‘‘ جیسے معروف پمفلٹ سمیت مسلم مُلک کے قیام کے لیے بہت سی کتب، رسائل اور پمفلٹ لکھے۔
اُن کے اِس کام کی ایک تاریخی اہمیت یہ بھی ہے کہ وہ انڈین وفاق کے ماتحت مسلمانوں کے کسی نظام کے برعکس، روزِ اوّل سے مسلمانوں کے لیے ایک الگ مُلک کے داعی تھے، جب کہ باقی رہنما اِس معاملے پر بہت بعد میں یک سُو ہوئے تھے۔ کتاب کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ چوہدری صاحب کی سیاسی بصیرت کمال کی تھی اور اُن کی بیش تر پیش گوئیاں سچ ثابت ہوئیں۔