کلاسک سنیما فلم ’’فرشتہ‘‘
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان سینما کی ابتداء کے کچھ عرصے کے بعد کچھ فلم ساز آرٹ اور نیم آرٹ فلموں کا رجحان لے کر فلمیں بنانے لگے، ان کی یہ جرات مندانہ کوشش کمرشل سینما کے چاہنے والوں کو پسند نہ آئی۔ تاہم اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے میں وہ فلمیں نہ صرف پسند کی گئیں، بلکہ زیر بحث بھی رہیں، ایسی ہی کوشش 1961ء فلم ساز و ہدایت کار لقمان صاحب نے ’’فرشتہ‘‘ نامی فلم بنا کر کی۔ اس فلم کی کہانی روسی مصنف دوستو یوسکی کے ناول کرائم اینڈ پنشمنٹ سے ماخوذ تھی۔ اس ناول پر ہالی وڈ والوں نے بھی فلم بنائی، جب کہ بالی وڈ میں ’’پھر صبح ہوگی‘‘ نامی فلم بھی اس ناول پر بنائی گئی۔ روسی سوچ کو پاکستانی معاشرے سے ہم آہنگ کرنا خود ایک بے حد مشکل کام تھا۔ لقمان نے اس چیلنج کو قبول کیا اور یہ فلم بنا ڈالی۔

فلم کی مختصر کہانی کا خلاصہ کچھ یُوں ہے کہ ناصر (اعجاز) ایک فرشتہ سیرت مفلس انسان جو بی اے کا طالب علم ہے خود مفلس ہونے کے باوجود لوگوں کی مدد کرکے سکون محسوس کرتا ہے۔ بوڑھی اور بیمار ماں کے خرچ پر تعلیم حاصل کرنے والا نہ صرف اپنے ترقی پسند نظریات کے تحت معاشرے میں انقلاب کا خواہاں ہوتا ہے،بلکہ ایک سرمایہ دار دوست شمیم (افضل نذیر) ناصر کی بہن نجمی (حُسنہ) کو اپنی شریک حیات بناتا ہے۔ ناصر کا ایک اور دوست وفا (علائو الدین) ہے، جو بنیادی طور پر شاعر ہوتا ہے۔ وفا کی شاعری اور ناصر کے خیالات، صدیوں سے پسی ہوئی مظلوم انسانیت کے لیے فرشتہ بن کر ایک نئی روشنی کا پتا دیتے ہیں۔ اس کہانی کا ایک کردار جمیلہ (یاسمین) نامی ایک حیادار لڑکی ہے، جس کا شرابی باپ (طالش) ہر وقت شراب نوشی میں محو رہتا ہے۔ گھر میں بیماری اور فاقوں نے قبضہ جما رکھا ہوتا ہے۔ جمیلہ کی بیمار ماں (مایا دیوی) اس روز مر جاتی ہے ، جب اسے اپنے خاوند کی حادثاتی موت کا علم ہوتا ہے۔ 

ماں باپ کی وفات کے بعد جمیلہ اور چھوٹی بہن پروین نیلے آسمان تلے اکیلی رہ گئیں۔ بہن کو فاقوں اور بیماری سے بچانے کے لیے جمیلہ نے مجبوراً اس پیشے کی طرف قدم بڑھایا، جہاں عورت بے آبرو ہوتی ہے۔ مسٹر گرین (دلجیت مرزا) شراب خانے کا مالک جو ایک خود غرض شخص ہے، جو روزانہ کئی انسانوں کے جسم میں شراب جیسا زہر انڈیل کر خوش ہوتا ہے، پھر ایک روز اس کا ضمیر اسے ملامت کرتا ہے، انقلابی شاعر وفا سے محبت کرنے والی مسٹر گرین کی بیٹی سلونی (ایمی سنیوالا) اپنے باپ کا ضمیر جگاتی ہے۔ وفا نے اپنے دوست ناصر کو بچانے کے لیے بوڑھے کباڑیے (ساقی) کے قتل کا الزام اپنے سر لے لیا، مگر ناصر نہ مانا، سی آئی ڈی (آزاد) نے تفتیش کی تو اصل قاتل (لڈن) پکڑا گیا۔ وفا اور ناصر اس قتل کے مقدمے سے آزاد ہوگئے۔ جمیلہ نے گناہ سے کمائی گئی دولت کو آگ لگا کر ایک نئی زندگی کا آغاز کیا، ناصر اس زندگی میں نئی صبح بن کر نمودار ہوا۔ 

وفا اور سلونی کے ملاپ کے بعد مسٹر گرین نے شراب خانہ بند کرکے وہاں دودھ کی بوتلوں کا کاروبارشروع کردیا اور یوں انسانیت کو ایک نئی اور دودھ جیسی پاکیزہ زندگی دینا چاہی۔اداکار اعجاز اس فلم کے ہیرو تھے، انہوں نے اپنے مشکل کردار کو اپنی نیچرل اداکاری سے بے حد عمدہ انداز میں پیش کی۔ یہ ناول کے ہیرو راشنکوف کا کردار تھا، جو اعجاز نے ادا کیا۔ اس کردار کو نبھانے کے لیے اعجاز درانی نے روایتی بندشیں توڑ کر کھلی فضا میں سانس لے کر اس کردار کو ناول کے صفحات سے نکال کر زندہ جاویداں کردیا۔

اداکارہ یاسمین جو اپنی حزینہ اور المیہ اداکاری میں ملکہ رکھتی تھیں، اس فلم میں ان کا کردار زندگی کے قریب ہے۔ شرابی باپ کی بیٹی جو اپنی بوڑھی ماں اور چھوٹی بہن کا واحد سہارا ہے، یاسمین اس فلم میں جمیلہ کے کردار میں کنول کے پھول کی مانند نظر آئیں، جس کی جڑیں، کیچڑ اور گندے پانی میں ہیں، مگر سر مقدس، شفاف اور پاک بازی کی علامت ہے۔عوامی اداکار علائو الدین نے اس فلم میں انقلابی شاعر کا جو کردار ادا کیا تھا۔ وہ دراصل یہ کردار مصنف نے عوامی شاعر حبیب جالب کو سامنے رکھ کر لکھا۔ جالب صاحب علائو الدین کے بڑے گہرے دوست تھے۔ ان کی خواہش پر یہ کردار فلم میں شامل کیا گیا۔

آغا طالش، اس باکمال فن کار نے اس فلم میں جو شرابی کا رول ادا کیا تھا، اس کی توصیف اور تعریف میں شاید اس ناچیز کا قلم اس کا حق ادا نہ کر پائے۔ یہ ایک ریٹائرڈ تحصیل دار کا کردار تھا، جو پنشن سے ملنے والی رقم کو شراب خانوں کی نظر کردیتا ہے۔ گھر میں بیمار بیوی اور دو بیٹیوں کے غم کو شراب میں بھلا دینے والے اس شخص کی زندگی مختلف فکروں اور پریشانیوں کا مرکب بن جاتی ہے۔ 

اس کردار میں آغا صاحب نے احساسات و تاثرات کی عکاسی حقیقی انداز میں کی، جس سے کردار پر اصل کا گمان ہوتا ہے۔فلم کی دیگر کاسٹ میں حُسنہ، ایمی سنیوالا، دلجیت مرزا، افضل نذیر، سلطان راہی، ساقی، بے بی پروین، ریحان، آزاد، زینت بیگم، لڈن، حمید دانی، ایم ڈی شیخ، سلمیٰ ممتاز، عائشہ بیگم، ماہا دیوی، ہمالیہ والا کے نام بھی شامل تھے۔

فلم ساز و ہدایت کار لقمان نے 1950ء میں فلم ’’شاہدہ‘‘ کی ڈائریکشن دی۔ انہوں نے اپنے فنی کیرئیر کا آغاز 1937ء میں متحدہ ہندوستان سے کیا۔ 1946ء میں بہ طور ہدایت کار ان کی پہلی فلم ’’ہم جولی‘‘ ریلیز ہوئی تھی۔ 47ء میں وہ پاکستان آگئے اور یہاں آکر انہوں نے فلم شاہدہ بنائی۔ شاہدہ کو پاکستان کی پہلی کام یاب فلم کا اعزاز حاصل ہے۔ فلم ’’فرشتہ‘‘ کے لیے انہوں نے انگریزی ناول کرائم اینڈ پنشمنٹ کا انتخاب کیا۔ 

اردو کے مایہ ناز ڈراما رائٹر اور اداکار کمال احمد رضوی المعروف الن سے انہوں نے اس فلم کا منظرنامہ اور اسکرپٹ لکھوایا۔یہ خُوب صورت نیم آرٹ فلم جمعہ 7؍اپریل 1961ء کو کراچی کے ریوالی اور لاہور کے رٹز سنیما میں نمائش پذیر ہوئی۔ موسیقار رشید عطرے کی کمپوزیشن میں فلم کے نغمات اپنے دور میں مقبول ہوئے، جن کے بول اور تفصیلات کچھ یوں ہے۔

(1) سیکھا کہاں سے نینوں نے انداز بانکپن

(سنگر سلیم رضا) (نغمہ نگار تنویر نقوی) (فلم بندی اداکار علائو الدین)

(2) زمانہ کس قدر نامہربان ہے

(سنگر سلیم رضا) (نغمہ نگار تنویر نقوی) (فلم بندی علائو الدین)

(3)دل کی دھڑکن تیری آواز ہوئی جاتی ہے

(سنگر نورجہاں) (نغمہ نگار مظفر وارثی) (فلم بندی اداکارہ یاسمین) (4)وہ زمانہ ضرور آئے گا

(سنگر سلیم رضا) (نغمہ نگار تنویر نقوی) (فلم بندی اداکار علائو الدین)

(5) زمانہ کس قدر نامہرباں ہے۔(سنگر نورجہاں) (نغمہ نگار تنویر نقوی) (فلم بندی اداکارہ یاسمین)

(6) لو ہم نے کہہ دیا

(سنگر منیر حسین، نور جہاں) (نغمہ نگار تنویر نقوی) (فلم بندی علائو الدین۔ ایمی سنیوالا)

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید