• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کار حادثہ میں جاں بحق نوجوانوں کی نماز جنازہ، ہزاروں افراد کی شرکت

مانچسٹر (ابرار/ ذوالفقار علی/ غلام مصطفیٰ مغل) 27 اپریل کو کار حادثہ میں مرنے والے تین پاکستانی نوجوانوں کی میتیں گریٹر مانچسٹر پولیس اور کارونر نے ورثا کے حوالے کردیں، مرحومین کی نماز جنازہ مشترکہ جگہ مسلم ہیرٹیج سینٹر مانچسٹر میں ہزاروں افراد نے ادا کی۔ نماز جنازہ متوفی نوجوان حمزہ فاروق کے والد گرامی نے خود پڑھائی، جبکہ اس موقع پر متوفی حمزہ اقبال کے والد گرامی نعیم اقبال، چوہدری محمد افضل بیٹو بھی موجود تھے، نماز جنازہ کے موقع پر مکی مسجد کے خطیب نعیم الرحمن، مسلم ہیرٹیج سینٹر کے امام، چیئرمین ناصر محمود، جسٹس (ر) علامہ خالد محمود نے شرکت کی، جبکہ اس موقع پر مسلم کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے نیشنل پیس کمیٹی کے چیئرمین علامہ عظیم جی، نماز جنازہ میں لندن، بریڈ فورڈ، گلاسگو، یارکشائر، لنکا شائر، گریٹر مانچسٹر کے مختلف شہروں سے لوگوں نے شرکت کی۔ مسلم لیگ ن برطانیہ کے صدر زبیر گل نے بطور خاص لندن سے آکر شرکت کی، جبکہ پاکستانی کرسچن کمیونٹی اور مقامی چرچ کے فادر فلک شیر کے علاوہ سابق لارڈ میئر نعیم الحسن، کونسلر رب نواز، کونسلر شوکت علی، کونسلر آفتاب رزاق، چوہدری مسرت، جبران سونی، سجاد کاظمی اور دیگر افراد نے شرکت کی۔ قبل ازیں پولیس اور کارونر کار ڈرائیور کا تعین کرنا چاہتے تھے کہ اصل میں کون ڈرائیور تھا، اس حادثہ میں بچ جانے والے ایک17سالہ نوجوان نے پولیس کو رضاکارانہ بتایا کہ وہ کار چلا رہا تھا اور پولیس کی گاڑی کو پیچھے دیکھ کر حواس باختہ ہوگیا اور اچانک سپیڈ مزید تیز ہوگئی اور یہ خونی حادثہ ہوگیا، جس میں تین نوجوان جان سے گئے۔ کارونر نے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے بعد خاندان کی آٹھ روز تک پریشانی کو دیکھ کر مسلم کمیونٹی کے نمائندوں سابق لارڈ میئر کونسلر نعیم الحسن اور کونسلر رب نواز کی انتھک کوششوں سے تینوں میتیں ورثا کے حوالے کیں۔ حمزہ فاروق اور حمزہ اقبال کو لندن سمسٹری کے مسلم قبرستان میں دفن کیا گیا، جبکہ منیب افضل کو چیڈل چیشائر کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔
تازہ ترین