• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ڈیٹ لائن لندن،آصف ڈارا
( گزشتہ سے پیوستہ) 
برطانیہ کی سرخ فہرست (ریڈلسٹ) میں شامل ممالک سے آنے والے برطانوی باشندوں اور مستقل رہائشیوں کو ہزاروں پونڈ خرچ کرکے ہوٹلز میں 10 دن اور 11 راتیں کاٹنا پڑتی ہیں اور اس لسٹ میں شاید ہی کوئی کھڑپینچ ملک شامل ہو، تقریباً سب کا تعلق تیسری دنیا کے ساتھ ہے، یہ لوگ اگر قرنطینہ کے بھاری اخراجات میں کمی کے لئے کسی اور ملک میں جو امبریا گرین لسٹ میں ہو، جانا چاہیں تو انہیں یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ آیا اس ملک نے بھی تو ان کو اپنی ریڈلسٹ میں نہیں رکھا ہوا، ترکی جب امبرلسٹ میں تھا تو پاکستانی اور انڈین باشندوں سمیت کئی ممالک کے لوگوں نے اس بہتی گنگا میں نہ صرف ہاتھ دھوئے بلکہ اشنان بھی کیا، شاید ترکی کو کورونا کے کم کیس ہونے کے باوجود ’’قرنطینہ کمائی‘‘ کی سزا دی گئی، میرے اور میرے خاندان کے لئے چونکہ بلجیم میں قیام کرنا اس لئے انتہائی مفید اور سستا تھا کہ وہاں میرا چھوٹا بھائی خالد ڈار بھی اپنے ایک بڑے گھر میں رہتا ہے اور مجھے وہاں پر کوئی کرایہ بھی ادا نہیں کرنا پڑتا مگر بلجیم نے بھی پاکستانیوں کے لئے بہت سی پابندیاں لگا رکھی تھیں، ان میں ویکسین کی دونوں ڈوز کے ساتھ ساتھ اسلام آباد میں بلجیم کے سفارتخانے سے این او سی لینا بھی ضروری تھا، یہ این او سی ویب سائٹ پر دستیاب نہیں تھا۔ فون کرنے پر بتایا جاتا تھا کہ ای میل کریں، ای میل کریں تو جواب ملتا تھا کہ ویب سائٹ پر جائیں، یہ بالکل ایسا ہی تھا کہ جیسے پاکستانی دفاتر کے ’’بابو‘‘ فائلوں کے ساتھ پنگ پانگ کھیلتے ہیں، این او سی کے حصول میں ناکامی کے بعد میں نے برطانیہ میں قرنطینہ کرنے کا فیصلہ کیا، یہ سب کچھ ایک آنے والے ڈرائونے خواب کی طرح لگ رہا تھا، طرح طرح کے واہمے تھے کہ کھانا کیسے ملے گا، ہوٹل کے کمرے کیسے ہوں گے، سروس کیسی ہوگی جیسا کہ پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے شکایت کی تھی کہ کھانا ٹھنڈا اور باسی ہوتا ہے، اس لئے میں نے بہت سے دوستوں کو روزانہ کھانا پہچانے کی درخواست دے دی تھی، وہ تو قسمت اچھی تھی کہ ایسا کچھ نہیں ہوا، ہمیں سٹی آف لندن میں 5 ستاروں والے ایک ہوٹل میں چار کمرے دیئے گئے جو کہ ایک ہی فلور پر تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے، چنانچہ یہ اطمینان ہوا کہ ہم سب الگ الگ مگر ساتھ ساتھ ہیں، ہوٹل میں داخل ہوتے ہی یہ خوشگوار حیرت ہوئی کہ سیکورٹی پر مامور زیادہ تر عملہ دیسی تھا، ان میں پاکستانی، انڈین، بنگلہ دیشی اور دوسرے ممالک کے اہلکار شامل تھے جنہیں سیکورٹی ایجنسی جی4ایس (G4S) نے ہائر کر رکھا تھا، چیک اِن کا عمل سیکورٹی کے عملے نے مکمل کیا اور ایک ایسا پیپر بھی دیا جس پر سب کے کمروں کے نمبر درج تھے اور اس پر کھانے کا ساتوں دن اور تینوں وقتوں کا مینو درج تھا، یہ بھی حیرت والی بات تھی کہ اس میں ایک طرف انگلش اور دوسری طرف حلال دیسی کھانے کا مینو درج تھا، ناشتے، دن کا کھانا اور رات کا کھانا منگوانے کے اوقات بھی درج تھے، چنانچہ کھانے کی ٹینشن ذرا کم ہوئی، اسی دوران سعید نیازی کا فون آگیا اور انہوں نے پوچھا کہ وہ رات کا کھانا لے آئیں، میں نے سارا ماجرا سنا دیا، پہلی رات کو بریانی کے ساتھ ساتھ میٹھی ڈش بھی دی گئی، میں نے سارے دوستوں کو ہوٹل میں کھانا لانے سے منع کردیا کہ ہوٹل والے ٹھیک وقت پر گرما گرم کھانا پہنچا دیتے تھے، شاید یہ اس وجہ سے بھی تھا کہ پہلے پہل پاکستان سے جو لوگ آئے ان کا کھانے کے بارے میں تجربہ انتہائی خراب تھا، شاید انہیں مینو بھی نہیں دیا گیا اور حلال دیسی کھانے بھی مینو میں شامل نہیں تھے، تاہم اس میں کچھ قصور خود ہمارے لوگوں کا بھی ہوتا ہے کیونکہ ہوٹل والے بہرحال کھانے کے اوقات کے بارے میں ضرور پوچھتے ہیں، اگر کسی نے ناشتے کا وقت 8 بجے کا دیا ہے اور وہ 10بجے اٹھ کر دروازے سے ناشتہ اٹھائے گا تو یقیناً ناشتہ ٹھنڈا ہی ہوگا، میرے سامنے والے کمرے میں ایک دن ایک پاکستانی مہمان سیکورٹی والوں سے اونچی آوازمیں باتیں کر رہا تھا اور اس نے ہنگامہ برپا کر رکھا تھا، میں نے دروازے سے جھانک کر صورتحال جاننے کی کوشش کی مگر بے سود رہی مگر جب ان میں سے ایک سیکورٹی والا مجھے واک کرانے کے لئے لابی میں لے جانے کے لئے آیا تو اس نے بتایا کہ مہمان موصوف کے ناشتے کا وقت 8 بجے ہے اور وہ 11 بجے کے بعد اٹھ کر گرم ناشتہ مانگتے ہیں، یہ وقت تو لنچ کا ہوتا ہے، ویسے بھی 5 اسٹار ہوٹلز میں کھانا گرم کرنے کا کوئی رواج نہیں کہ اسے مضر صحت قرار دیا جاتا ہے، ہماری ان کوتاہیوں کے باوجود یہ بھی حقیقت ہے کہ اب بھی برطانیہ کے مختلف شہروں میں ایسے ہوٹل موجود ہیں جہاں مہمانوں کا خیال نہیں رکھا جاتا اور حلال کھانا بھی دستیاب نہیں ہوتا، جب تک ریڈلسٹ موجود ہے سارے سرخ ممالک کے باشندوں کو مل کر اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنا ہوگی، اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی ادائوں پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔
یورپ سے سے مزید