• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شیروں کے ساتھ رہنے والا افریقی قبیلہ

تحریر:اینتھونی ہیم۔۔۔لندن
جہاں تک انھیں یاد ہے، میئترنگا کامونو سیئتوتی ہمیشہ شیروں کو مارنے کے ہی خواب دیکھا کرتے تھے۔جب وہ جنوبی کینیا کے ماسائیوں کی سرزمین پر پروان چڑھ رہے تھے تو وہاں ہر طرف شیر تھے۔ ایمبوسیلی نیشنل پارک، جو اپنے ہاتھیوں، شیروں اور کیلیمن جارو کے پہاڑ کے نظارے کی وجہ سے بہت مشہور ہے، جنوب میں کچھ زیادہ دور نہیں ہے۔ شیر اور دوسرے جانور اس پارک اور ماسائی علاقے میں آزادانہ گھومتے تھے کیونکہ درمیان میں کوئی باڑ نہیں تھی۔ اور سیئتوتی یہیں رہتے تھے۔ماسائی کمیونل علاقے، جنھیں گروپ رانچیز بھی کہا جاتا ہے، اگرچہ ایک دوسرے سے جغرافیائی لحاظ سے قریب ہیں، لیکن پھر بھی یہ نیشنل پارک سے بالکل ہی الگ تھلگ دنیائیں ہیں۔ایمبوسیلی کے اندر ہاتھی گہرے سبز دلدلوں میں گھومتے ہیں اور شیر چیتے اور ہائناز یا لگڑ بگڑ وائلڈبیسٹ اور بھینسوں کے پیچھے لگے رہتے ہیں۔ ان علاقوں سے آگے سخت زمینوں پر مخفی شیر ​​ماسائی چرواہوں اور ان کے مویشیوں کے ساتھ لُکا چھپی کھیلتے ہیں۔ ان علاقوں میں خشک سالی کے دوران خاک اڑتی ہے اور بارش کے بعد یہاں کیچڑ کی دلدل بن جاتی ہے۔دیہی افریقہ کے بیشتر علاقوں میں اب بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ شیر اور دوسرے شکار کرنے والے جانور باڑ کے پیچھے نہیں بلکہ لوگوں کے ساتھ رہتے ہیں، اور زندگی دونوں کے لیے مشکل ہوتی ہے۔ماسائی اور شیروں نے اس زمین کو صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ بانٹا ہے۔ ماسائی اپنے آپ کو بھی اسی طرح دیکھتے ہیں جس طرح وہ شیروں کو دیکھتے ہیں۔ عظیم، اعلیٰ اور مضبوط۔ اس سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شیر ہمیشہ ماسائی جنگجو کی ہمت کا حتمی پیمانہ رہے ہیں۔ بڑے ہونے کے عمل یا رائٹ ٹو پیسیج کو ’ما‘ زبان میں اولمائیو کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس میں جب ایک نوجوان پختگی کی عمر کو پہنچتا ہے تو اسے اپنے آپ کو ایک اچھا جنگجو ثابت کرنے کے لیے شیر کو مار کر اپنی تیاری دکھانا پڑتی ہے۔جب سیئتوتی ابھی چھوٹے تھے تو ان کے خاندان والے انھیں شیر کے شکار اور شکار کرنے والے جانوروں سے لڑائی کی عجیب و غریب کہانیاں سناتے تھے۔ ان سے بھی بہت زیادہ توقع کی جا رہی تھی، کیونکہ صرف ان کے خاندان میں ان کے والد اور چچائوں نے مل کر 15 شیر مارے تھے۔ سیئتوتی نے 19 سال کی عمر میں اپنا پہلا شکار ایک شیرنی کا کیا تھا اور اس کا پیچھا کر کے بہت قریب سے اس کے سینے میں اپنا نیزہ مارا تھا۔ انھوں نے دیکھا کہ شیرنی کے دو بچے جھاڑیوں میں گھس گئے تھے۔اس طرح کی ہلاکتیں بغیر کسی وجہ کے ہوتی تھیں۔ ماسائی اور شیروں شکار دو برابر کے دشمنوں کے درمیان موت کی جنگ سمجھی جاتی تھی۔ یہ ٹرافی ہنٹنگ نہیں تھی، جس میں اکثر نام نہاد شکاری شیروں کے سامنے آنے تک محفوظ پوشیدہ جگہوں میں چھپ کر انتظار کرتے ہیں، اور پھر اسے ایک طاقتور ہتھیار سے مار دیتے ہیں۔ شیر کو ایک نیزے کے ذریعے ہاتھ سے لڑائی میں مارنے کے لیے بڑی ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماسائی شیروں کے شکار بھی نسبتاً کم ہی کرتے تھے، اور ان رسمی ہلاکتوں کا شیروں کی مجموعی تعداد پر بہت کم اثر پڑتا تھا۔اپنے پہلے شیر کے شکار کے بعد سیئتوتی نے اگلے برسوں میں مزید چار شیر مارے ہیں۔ وہ اپنی عمر کے لوگوں میں شیر کا شکار کرنے والے بہترین افراد میں سے ایک ہیں اور اپنے لوگوں کے لیے ایک ہیرو۔ ماسائی شیروں کے بغیر دنیا میں رہنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے اور نہ ہی وہ یہ چاہتے ہیں۔سیئتوتی کہتے ہیں کہ ’اگر ماسائلینڈ میں شیر نہ ہوتے تو اس کا مطلب کچھ برا ہوتا، شیر کی دھاڑ جنگل میں خوشی کی علامت ہے اور خوش قسمتی کی بھی ہے۔چوتھا شیر مارنے کے بعد سیئتوتی کو گرفتار کر لیا گیا، کچھ عرصے کے لیے وہ قید رہے اور 70 ہزار کینیا کے شلنگ کا جرمانہ ہوا۔ اگرچہ بڑے پیمانے پر اس کا ارتکاب ہوتا ہے لیکن پھر بھی کینیا میں 1977 سے باقی تمام شکار کی طرح شیر کا شکار بھی غیر قانونی ہے۔ جیل سے رہا ہونے کے کچھ عرصے بعد سیئتوتی کی کچھ گائیں لاپتہ ہو گئیں۔ انھیں یقین تھا کہ یہ بھی کسی شیر کا کام ہے اور وہ انھیں لے گیا ہے۔ وہ اس کے کھوج میں دو شیروں کے پیروں کے نشانات کا پیچھا کرتے ہوئے جنگل میں نکل گئے۔ کچھ گھنٹوں کے بعد وہ ایک سوئے ہوئے نر شیر کے ایک یا دو میٹر قریب پہنچے اور اس کے سینے میں نیزہ گھونپ دیا۔یہ جاننے کے لیے کہ واقعی شیر نے ان کی گائیں ماری تھیں سیئتوتی نے اس کا پیٹ چاک کیا۔ لیکن وہ خالی نکلا۔اچانک سیئتوتی کو احساس ہوا کہ انھوں نے ایک بے گناہ شیر کو مار دیا ہے۔ سیئتوتی نے وہاں موجود دیگر ماسائی نوجوانوں سے کہا کہ شیر مارنے کا کوئی جشن نہیں ہو گا۔ اگرچہ شیر کی گردن کے بال اور دم اہم ٹرافیاں تھیں اور ماسائی شکاریوں کے لیے بڑی اہمیت تھی، پھر بھی سیئتوتی نے شیر کی لاش کو جھاڑیوں میں پھینک دیا اور خاموشی سے گھر چلے گئے۔اس کے بعد کئی مہینے سیئتوتی کو چین نہیں آیا۔ وہ کسی سے نہیں ملتے تھے۔ جب دوسرے نوجوان جنگجو شیر کے شکار کے لیے نکلتے تو وہ گھر پر ہی رہتے۔ جلد ہی ان کے انکار پر باتیں ہونے لگیں۔ دوسرے انھیں طعنے دینے لگے۔ انھیں بزدل کہا گیا جس کا انھیں بہت دکھ ہوا۔ لیکن وہ قائم رہے۔ انھیں پتہ تھا کہ وہ اپنے آخری شیر کا شکار کر چکے ہیں۔اس دوران سیئتوتی نے جانوروں کے تحفظ کے ایک پروگرام کے بارے میں سنا جو علاقے میں شروع ہوا تھا۔ لائن گارڈیئنز کے نام سے شروع ہونے والے اس پروگرام کی بنیاد بہت سادہ تھی،وہ نوجوان ماسائی جنگجو جنھوں نے کبھی شیروں کو مارا تھا وہ اب شیروں اور ماسائی برادریوں کے محافظ بن جائیں گے۔سیئتوتی کہتے ہیں کہ ’پہلے میں روایتی وجوہات کی بنا پر قتل کرتا تھا، تاکہ یہ ثابت کروں کہ میں ایک جنگجو تھا۔ اس نے مجھے بڑا وقار دیا تھا۔ اس وقت بس یہی طریقہ تھا۔ اب مجھے شیروں کو بچانے میں بھی وہی اطمینان ملتا ہے جو مجھے انھیں مارنے میں ملتا تھا۔
یورپ سے سے مزید