• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب کی مثالی کارکردگی

تحریر:نوازش علی عاصم

(ترجمان نیب)

بدعنوانی ایک ایسی برائی ہے جس کی تعریف کسی شخص کو تفویض کردہ عہدے یا اختیار کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرنا بد دیانتی ہے ، دوسرے الفاظ میں بدعنوانی وہ ہوتی ہے جب کوئی شخص کسی منصب کا ذمہ دار ہو اور وہ اس منصب کو اپنے مفاد یا منافع کے لیے غلط استعمال کر ے۔ بدعنوانی میں رشوت اور رشوت ستانی بھی شامل ہیں اور اس کا پاکستانی معیشت پر گہرا اثر پڑتاہے کیونکہ بدعنوانی نہ صرف اس کی ایک بنیادی وجہ ہے بلکہ بد عنوانی نے معاشی ترقی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

اگر کوئی ملک صحت مند غیر ملکی سرمایہ کاری کے ساتھ پائیدار سماجی و معاشی ترقی حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے کرپشن کو ختم کرنا ہوگا کیونکہ بدعنوانی سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک ہے جوکہ ایک خاموش قاتل ہے جو نہ صرف ایک سنگین چیلنج ہے جو کہ معاشی ڈھانچے کو تباہ کر رہا ہے بلکہ سماجی اور معاشی استحصال کے فروغ ، غربت اور مستحق لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کا سبب بنتی ہے۔

بدعنوانی کے برے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے بدعنوانی سے نمٹنے کے علاوہ بدعنوان عناصر سے لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے لیے1999میں قومی احتساب بیورو (نیب) کا قیام عمل میں لایا گیا۔ نیب نے1999سے اکتوبر2017تک بالواسطہ اور بلا واسطہ 281ارب روپے ریکور کئے جبکہ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی متحرک قیادت میں نیب کی کارکردگی پر نظرثانی اور جائزہ لینے کے بعد نیب نے 2017 اکتوبر سے ستمبر2021تک بالواسطہ اور بلا واسطہ 539 ارب روپے ریکور کئے اور نہ صرف نئے اقدامات کیے بلکہ ایک جامع اور مؤثر انسداد بدعنوانی حکمت عملی بھی متعارف کرائی جس میں آگاہی، تدارک اور نفاذ ، احتساب سب کے لیے اور خود احتسابی کی پالیسی شامل ہے یہ اقدامات بدعنوانی سے پاک پاکستان کے ایمانی جذبے کے ساتھ اٹھائے گئے اور نیب کی یہ پالیسی مثالی رہی۔یہی وجہ ہے کہ آج نیب نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم(سی آئی ٹی)کا ایک نیا تصور متعارف کرایا ہے تاکہ اپنے تجربہ کار سینئر سپروائزری افسران کے تجربے اور اجتماعی دانشمندی سے فائدہ اٹھایا جا سکے اور ٹھوس شواہد، بیانات اوردستاویزی ثبوتوںکی بنیاد پر انکوائریوں اورتحقیقات کے معیارکو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ اس اقدام کے شاندار نتائج آئے ہیں۔نیب بدعنوانی کے خلاف اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت پاکستان کا فوکل ادارہ ہے۔نیب کو سارک اینٹی کرپشن فورم کا چیئرمین منتخب کیا گیانیب نے پاکستان میں سی پیک منصوبوں کی نگرانی کےلیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں\۔نیب نے اپنی جدید ترین پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی (PACA) قائم کی ہے جو اینٹی کرپشن تھنک ٹینک کے طور پر کام کر رہی ہے تاکہ پیشہ ور افراد کو مستقبل میں وائٹ کالر کرائمز کے چیلنجز سے نمٹنے کا اہل بنایا جا سکے۔نیب نے جدید فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے جس میں ڈیجیٹل فرانزک ، سوالیہ دستاویزات اور فنگر پرنٹ کے تجزیہ کی سہولت موجود ہے، اس اقدام سے نیب کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔گیلانی اینڈ گیلپ سروے کے مطابق 59 فیصد لوگ نیب پر اعتماد کرتے ہیں۔ معتبر قومی و بین الاقوامی اداروں ، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان ، عالمی اقتصادی فورم، گلوبل پیس کینیڈا، پلڈاٹ اور مشال پاکستان نے بدعنوانی کے خاتمےکےلیے نیب کی کوششوں کو سراہا ہے۔ مزید یہ کہ حکومت پاکستان نے ایف اے ٹی اے/اے پی جی کے اراکین کے درمیان پاکستان کی پوزیشن کو بہتر بنانے میں نیب کی کوششوں کو سراہا ہے خاص طور پر جائزہ کے بعد کی پورٹ/فالو اپ رپورٹس کی تیاری کے دوران جس نے ایف اے ٹی ایف رابطہ کمیٹی پاکستان کو اپنے کام کو مقررہ تاریخ میں مکمل کرنے میں مدد دی۔ یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ چیئرمین نیب معزز جناب جسٹس جاوید اقبال کی متحرک قیادت میں نیب نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار جن کو کوئی ہاتھ نہیں لگاتا تھاان کو پکڑا اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا۔ اس وقت مختلف احتساب عدالتوں میں1278ریفرنسز زیر سماعت ہیں جن کی مالیت1335.019ارب روپے بنتی ہے۔نیب مقدمات میں سزا کی مجموعی شرح 66.8فیصد ہے۔نیب کو اپنے قیام سے اب تک 5 لاکھ ایک ہزار 723شکایات وصول ہوئی ہیں ان میں سے4لاکھ 91ہزار 358شکایات نمٹا دی گئی ہیں۔ نیب نے 16ہزار 188شکایات کی جانچ پڑتال کی منظوری دی، 15ہزار 391شکایات کی تصدیق کا عمل مکمل کیا گیا۔ نیب نے 10ہزار297انکوائریوں کی منظوری دی جن میں سے 9ہزار260انکوائریاں مکمل کی گئیں۔ نیب نے4ہزار693انویسٹی گیشنز کی منظوری دی جس میں سے 4ہزار353مکمل کی گئیں۔ نوجوان ہمارا مستقبل ہیں، نیب نے نوجوانوں کو اوائل عمری میں بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہ کرنے کیلئے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کئے ہیں۔ نیب نے مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں میں کردار سازی کی 50ہزار سے زائد انجمنیں قائم کی ہیں۔نیب نے متعلقہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشاورت سے بدعنوانی کی روک تھام اور خامیوں کی نشاندہی کےلیے پریوینشن کمیٹیاں قائم کی ہیں۔ نیب نے اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے مانیٹرنگ اور ایولیویشن سسٹم کے ساتھ ساتھ ایک جامع معیاری مقداری نظام بھی وضع کیا ہے۔ نیب نے قانون پر عملدرآمد کی حکمت عملی کے تحت شکایات کی جانچ پڑتال ،انکوائری اور انویسٹی گیشن کےلیے 10ماہ کا وقت مقرر کیاہے۔دو ماہ میں شکایات کی جانچ پڑتال جبکہ 4ماہ میں انکوائری اور 4ماہ میں انویسٹیگیشن کی جاتی ہے۔ نیب نے اپنے تمام علاقائی بیوروز میں شکایت سیلوں کے علاوہ گواہ ہینڈنگ سیل بھی قائم کیے ہیں۔ اس وجہ سے ، نیب ٹھوس دستاویزی شواہد کی بنیاد پر معززعدالتوں میں اپنے مقدمات کی بھرپورپیروی کر رہا ہے۔نیب کا تعلق صرف ریاست پاکستان سے ہے۔ معزز جسٹس جاوید اقبال ، چیئرمین نیب کاسیشن جج کوئٹہ سے لے کر معزز سپریم کورٹ آف پاکستان کے قائم مقام چیف جسٹس اور اب چیئرمین نیب تک لوگوں کو انصاف فراہم کرنے کا 40 سال سے زیادہ کا تجربہ ہے۔ وہ انسان کی عزت نفس پر یقین رکھتے ہیں اور نیب میں آنے والے کسی بھی شخص کی عزت نفس کو پامال کرنے پر یقین نہیں رکھتے۔ نیب کی گزشتہ 4سال کی کارکردگی نہ صرف بہترین رہی۔معزز جناب جسٹس جاوید اقبال ، چیئرمین نیب کی متحرک قیادت میں نیب کی طاقتوروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیوں سے نیب کا وقار کئی گنا بڑھا دیا ہے کیونکہ نیب کا مقصد کرپٹ عناصر کو پکڑنا اور لوٹی ہوئی رقم کی وصولی کر کے اسے قومی خزانہ میں جمع کرانا ۔ جو کہ نیب کے تمام افسران کی محنت ، میرٹ اور شفافیت کی نشاندہی کرتا ہے ، جہاں بدعنوانی کے خلاف جنگ کو قومی فریضہ سمجھا جا رہا ہے۔ نیب کو امید ہے کہ بدعنوانی کے خاتمے کے لیے اجتماعی کوششوں کے ذریعے ہم نہ صرف اپنے ملک سے بدعنوانی کی لعنت کو روک سکتے ہیں بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر ، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان بھی چھوڑ سکتے ہیں۔

ملک بھر سے سے مزید