پنجاب میں ٹورسٹ پروٹیکشن فورس منصوبہ سرخ فیتے کی نذر

January 17, 2022

راولپنڈی (وسیم اختر،سٹاف رپورٹر) پنجاب میں سیاحوں کی حفاظت کے لئے ٹورسٹ پروٹیکشن فورس بنانے کامنصوبہ سرخ فیتے کی نذرہوگیا۔ ذرائع کے مطابق 2018-19کے موسم سرمامیں پنجاب کے تفریحی مقام کوہ مری میں ملک بھرسے آنے والے سیاحوں کوتحفظ فراہم کرنے کے لئے اس وقت کی ایس ڈی پی اومری سرکل اے ایس پی فریال فرید نے راولپنڈی سے خصوصی نفری بلواکر تعینات کروائی تھی جس نے سرماسیزن میں مری میں نہ صرف سیاحوں کوسیکیورٹی فراہم کی بلکہ مختلف مواقع پرانہیں گائیڈنس بھی دی اس کامیاب تجربہ کو اس وقت کے آئی جی پولیس پنجاب اوردیگرافسروں نے سراہاجس کے بعدخاتون اے ایس پی فریال فریدنے ایک پروپوزل بناکرآئی جی پولیس پنجاب کوبھجوائی جس میں ان سے استدعاکی گئی کہ مری میں کیے گئے کامیاب تجربہ کی روشنی میں پنجاب کی سطح پرٹورسٹ پروٹیکشن فورس بنائی جائےجس کی الگ سے یونیفارم ہواوراس میں شامل اہل کاروں کوخصوصی تربیت فراہم کی جائے مجوزہ فورس کے اہل کارپنجاب بھرمیں اندرون اوربیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کوتحفظ فراہم کریں اورانہیں سیاحت کے بارے آگاہی بھی فراہم کرسکیں اس حوالے سے پنجاب میں مری کے پرفضاپہاڑی مقام کے علاوہ ،ننکانہ صاحب اورحسن ابدال میں واقع گوردواروں ،ساہیوال کے قریب ہڑپہ کے کھنڈرات ، ٹیکسلامیں پرانے کھنڈرات ،چھانگامانگاکے جنگلات اورلاہورمیں بعض تاریخی عمارتوں کودیکھنے کے لئے دنیابھراوراندرون ملک سے آنے والے سیاحوںکی سیکورٹی کے لئے اس فورس سے کام لینے کی تجویزدی گئی تھی ،ذرائع کے مطابق یہ تجویز اسی سال یعنی 2019میں سنٹرل پولیس آفس لاہورسے وزیراعلیٰ پنجاب کوبھیج دی گئی تھی لیکن تاحال اس پرکوئی پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔