Advertisement

پی ایم ڈی سی تحلیل کرنے کے خلاف ڈاکٹروں کا مارچ

October 29, 2019
 

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ پی ایم ڈی سی کو تحلیل کرنے کا آرڈینینس 2019واپس لیا جائے، کیونکہ اس سے ڈاکٹرزمیں بے چینی ہے، وہ اپنے مستقبل کے متعلق ابہام کا شکار ہوچکے ہیں، یہ باتیں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو ٹراما سینٹر کے سامنے اور کراچی پریس کلب کے باہر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہیں، مارچ کا آغاز سول اسپتال کے قریب ایس ایم بی بی ٹراما سینٹر سے کیا گیا، جس کے شرکاء پیدل مارچ کرتے ہوئے ڈاؤ میڈیکل کالج پہنچے اور وہاں سے ریلی کی صورت میں پریس کلب پہنچے، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے کہا کہ ہاؤس جاب کے لیے لائسنیسنگ امتحان کا طریقہ درست نہیں، اسے مسترد کرتے ہیں، اسکے بجائے طبی تعلیم کو مزید بہتر کرکے بہترین گریجویٹس تیار کئے جائیں، انہوں نے کہا کہ حکومت کے اقدامات نہیں لگتے، یہ کسی سوچی سمجھی سازش کا حصہ لگتا ہے، طویل عرصے سے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلانے کی کوشش کی جارہی ہے، پاکستان میں طبی تعلیم کو ریگولرائزیشن اور رجسٹریشن کرنے والے ادارے کو موم کی ناک بنادیا گیا تھا اور آخر میں اسے تحلیل کرکے نیا آرڈیننس پاکستان میڈیکل کمیشن 2019جاری کردیا ہے،انہوں نے مطالبہ کیا کہ پی ایم ڈی سی کو بحال کیا جائے اور قانون کے مطابق چلایا جائے، انہوں نے کہا کہ حکومت نے مایوسی کا شکار ہوتے ہوئے ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات پر توجہ نہ دی تو یہ احتجاج کراچی کے ہر چوک کے بعد سندھ کے دیگر شہروں اور قصبات تک پہنچ جائے گا، ہم مطالبات تسلیم ہونے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔


مکمل خبر پڑھیں