• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملک سےکرپشن کے خاتمے کے لیے لوٹی گئی قومی دولت کی ریکوری کے لیے خصوصی ٹاسک فورس کے قیام کے ٹھیک تین سال بعد وزیر اعظم کا " احتساب نہ کر سکنے کا اعتراف"کیا سیاسی و انتظامی شکست ،اپوزیشن کو عدالتوں سے سزائیں دلوانے میں ناکامی اور مہنگائی میں مسلسل اضافے نے" کے پی کے" بلدیاتی انتخابات میں حکومتی پارٹی کو شکست سے دو چار کر دیا اور وزیراعظم اپنی پارٹی کی تنظیم نو پر مجبور ہو گئے۔ 

اب ایک طرف پی ڈی ایم نے 23 مارچ کو وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی کا اعلان کر رکھا ہے تو دوسری طرف وزیراعظم تین ماہ کو اہم قرار دے رہے ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی چھ ہفتے بعد 27 فروری کو کراچی سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کے عوام کو حکومت کے عذاب سے نجات دلانے کے عزم کا اظہار کر دیا ہے، پی ڈی ایم اور پی پی پی اکھٹے ہو کر بھی وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی کر سکتے ہیں مگر نتیجہ کیا ہو گا؟

کیا حکومت کے اتحادی ساتھ چھوڑ دیں گے اور وزیر اعظم عمران خان تحریک عدم اعتماد کا شکار ہو جائیں گے ؟ سیانے کہتے ہیں تسلی رکھیں ابھی کچھ نہیں ہو گا، عمران خود بھی دعویدار ہیں کہ مدت پوری کریں گے، سپریم کورٹ سے نااہل اور دو نیب ریفرنسز میں قیدو جرمانے کے سزا یافتہ تین با کے وزیر اعظم محمد نواز شریف کی وطن واپسی کے لیے حکومت نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کا اعلان کر دیا ہے،کیا نتائج نکلتے ہیں زیادہ دور کی بات نہیں، الیکشن کمیشن میں سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ سامنے آنے پر اپوزیشن نے بھنگڑے ڈالتے ہوئے کہا کہ کرپشن زدہ حکومتی چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔ 

صادق اور امین کا ڈھونگ ختم شہباز شریف کہتے ہیں کہ شفافیت کا نعرہ دھوکہ تھا جبکہ مریم نواز استعفے کا تقاضا کر رہی ہیں ،وزیر اعظم کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی بنیاد درست سیاسی فنڈ ریزنگ پر ہے، سیاسی گرو کہتے ہیں فنڈریزنگ کیس میں بچ جانے کی صورت میں بھی پی ٹی آئی کا مستقبل تابناک نظر نہیں آتا، عمران خان نے ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر مختلف شکلوں میں ٹیکس میں اضافہ مسلسل جاری ہے، اقتدار سے پہلے اور پہلے 100 دنوں میں بجلی اور گیس کی قیمت میں کمی کا وعدہ کیا تھا مگر اس وعدے پر بھی ایفا نہیں ہو سکی۔

مخالفین کا کہنا ہے کہ عمران خان نے جس تبدیلی کا وعدہ کیا تھا سوا تین برسوں میں اس میں کوئی کامیابی نظر نہیں آئی،تاہم پی ٹی آئی کے حامی فاٹا کے انضمام کو اپنی ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہیں مگر کے پی کے بلدیاتی انتخابات میں ناکامی نے اس کامیابی کو بھی ناکامی میں بدل دیا ہے، 50 لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریوں کا اعلان مذاق بن کر رہ گیا ہے،اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمارے سیاستدان سیاسی وعدے کرتے وقت جمع تفریق نہیں کرتے، بڑے بڑے وعدے کرکے خوش ہوتے ہیں مگر انہیں اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ وعدوں کی تکمیل پر پیسے خرچ ہوتے ہیں اور اکثر وعدے قرض لے کر پورے کئے جاتے ہیں، قرض اتارنا بھی ہوتا ہے، ایسا کرتے نانی یاد آ جاتی ہے، قرض اتارنے کے لئے اکثر مزید قرض لینا پڑتا ہے۔ 

کے پی کے سے سینیٹر منتخب ہونے اور مشیر خزانہ سے وزیر خزانہ بننے کے بعد شوکت ترین نےقوم کو خبردار کیا ہے کہ " ٹیکس دیں ورنہ لینے آئیں گے"عمران خان کو مسٹر کلین کا خطاب دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے اپنی تنخواہ نہ لینے کا بتاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ عوام کی خدمت کے لیے آئے ہیں، ٹیکس دیں پھر ہم سے حساب بھی مانگیں، سب کا حساب ہمارے سامنے ہے، سیل ٹیکس بھی دینا ہو گا،صرف 30 لاکھ افراد ریٹرن فائنل کرتے ہیں اب بچنے کا کوئی راستہ نہیں، جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کو ساڑھے گیارہ فیصد کی سطح پر لے کر جانا ہے،پی ٹی آئی کے دور اقتدار میں مہنگائی کی شرح ساڑھے 20 فیصد سالانہ بڑھ گئی ہے۔ 

قانون کی بے توقیری کھلم کھلا دیدہ دلیری سے کی جا رہی ہے،پولیس رشوت کو عیب ہی نہیں سمجھتی ۔پٹواری کرپشن اپنا حق سمجھتا ہے، بابو بھی بچوں کے لیے میٹھا و فروٹ مانگتے جھجکتا نہیں، ماسٹر بھی ٹیویشن پر زور دیتا ہے ،نیب ،ایف آئی اے اور محکمہ اینٹی کرپشن کی موجودگی کے باوجود ہر جگہ کرپشن کا دور دورہ ہے، تبدیلی اپنا رنگ نہیں دکھا سکی، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج انسانیت کی تذلیل میں مصروف ہے اور کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کر کے انہیں اقلیت میں بدلنے کی سازش جاری ہے، بھارت میں مسلمانوں سمیت اقلیتوں کو ختم کرنے کی کوشش انتہا کی طرف رواں دواں ہے جبکہ افغانستان میں انسانی بحران کا خدشہ سر اٹھا رہا ہے۔ 

پاکستان بھر میں کورونا پھر سر اٹھا رہا ہے، روزانہ کی بنیاد پر کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے،وزیر اعظم کہتے ہیں کورونا کے باوجود معیشت مستحکم رہی، صنعتی شعبہ نے 950 ارب منافع کمایا، برامدات 25 فیصد، ریونیو 38 فیصد اور ترسیلات زر میں 27 فیصد اضافہ ہوا، شرح نمو چار فیصد متوقع ہےپی ٹی آئی کے منشور کے مطابق بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا دینےکا وعدہ پورا کر دیا گیا ہے، کم لاگت گھروں کی تعمیر میں بھی پیش رفت ہوئی ہے، متبادل توانائی کے شعبے میں بھی جزوی عملدرآمد دیکھنے میں آیا ہے۔

 سیاحت کے فروغ کے لیے گیسٹ ہاؤسز کو عوام کے لیے کھولنے کے وعدے کو بھی پورا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔معذوروں کے لیے خصوصی امدادی پروگراموں کا آغاز، لائیو سٹاک شعبے کی بحالی اور گوشت کی پیدوار میں اضافے کے اقدامات موثر ثابت نہیں ہو سکے، انڈوں مرغی ،بیف اور مٹن گوشت کی قیمتیں متوسط طبقے کی پہنچ سے بھی نکل چکی ہیں، وزیراعظم حکومتی ارکان اسمبلی کے سوالات کے جوابات تو شاید اپنے اجلاسوں میں دے رہے ہوں مگر اپوزیشن ارکان کو وزیر اعظم تک رسائی ہی نہیں ملک میں خواتین پولیس تھانوں کا قیام عام نہ ہو سکا، اپوزیشن اور حکومت ابھی تک چیئرمین نیب کی نامزدگی کا معاملہ حل نہیں کر سکیں، جمہوریت کو مضبوط اور مستحکم کرنے کی باتیں تو کی جاتی ہیں مگر عملاً جمہوری رویوں کا اظہار نہیں کیا جا تا۔ 

حکمران جماعت تو اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں پی ایم ایل(ن) اور پی پی پی کو خاندانی جماعتیں قرار دیتی ہے جہاں نسل در نسل قیادت چلتی ہے, وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کہتے ہیں شریفیہ اور زرداریہ بچوں میں تو سیاسی شعور تک نہیں،حکمران جماعت بلدیاتی انتخابات کے ضابطہ اخلاق پر بات چیت کے لیے اپوزیشن سے رابطے کر چکی ہے مگر ابھی بات سرے نہیں چڑھ سکی، حکمران جماعت کی خواہش ہے کہ پارلیمنٹیرینز کو اپنے انتخابی حلقوں میں انتخابی مہم میں شرکت کی اجازت ہونی چاہیے، الیکشن کمیشن کی طرف سے نوٹس نہیں ملنے چاہیے، الیکشن جب سیاسی بنیادوں پر ہونے ہیں تو پارلیمنٹیرینز کو تو نہیں روکا جانا چاہیے۔ 

سیاسی حلقوں کے مطابق ایک ہی وقت میں دو طرح کی تیاریاں کی جارہی ہیں، پپلز پارٹی کے کارکنوں کو حکومت کے خلاف احتجاج کے ساتھ ساتھ بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں بھی کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے (ن) لیگ تو پہلے سے ہی بلدیاتی الیکشن پر فوکس کئے بیٹھی ہے،بلدیاتی انتخابات صرف (ن) لیگ کی ہی نہیں تمام سیاسی جماعتوں کا اپنے کارکنوں سے ہمہ وقت رابطے کا واحد راستہ ہے جس کی بنیاد پر دوستیاں دشمنیاں اور رشتہ داریاں بھی استوار ہوتی ہیں۔کے پی کے میں دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات مارچ 2022ء میں بتائے جا رہے ہیں۔

اس تناظر میں مولانا فضل الرحمن کے لئے شاید حکومت کے خلاف لانگ مارچ لے کر اسلام آباد کی طرف بڑھنا ممکن نہ ہو،ملکہ کوہسار مری کو ضلع کا درجہ دئیے جانے کی بازگشت سنائی گئی ہے، یہ پاکستان کے مختلف علاقوں سے برفباری دیکھنے کے لیے آئے والے شہریوں کی زندگیوں کے خاتمے سے منسوب ہے،جن کی زندگی سے قبل ان کی جان ومال کے تحفظ کے لیے ایس او پیز تو بنائے گئے مگر دو درجن شہریوں کی موت کا سبب بننے والی علاؤہ کلڈانہ ایمرجنسی ریسکیو میں شامل نہ تھا،ممنوعہ علاقے میں پارکنگ اموات کا سبب بنیں۔ 

سیانوں کا کہنا ہے کہ کسی معاشرے کی تہذیب و تمدن کا اندازہ اس کے شہریوں کے ٹریفک قوانین پر عملدرآمد سے لگایا جا تا ہے ،ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کا عادی شخص ہر جرم کا مرتکب ہو سکتا ہے اس لئے ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کرانے سے قومیں مہذب بنتی ہیں۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید