• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

سندھ، طلبہ یونین کو بحال کرنے والا پہلا صوبہ بن گیا

سندھ میں سیاسی منظر نامے میں تیزی آگئی ہے سندھ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے خلاف احتجاج، ریلیاں اور مظاہرےکئے جا رہے ہیں تودوسری طرف پی پی پی کی جانب سے27 فروری کے مارچ کی تیاری جاری ہیں جبکہ 23 مارچ کو وفاقی حکومت کے خلاف پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں خصوصاً جے یو آئی تیاریوں میں جتی ہوئی ہے26 فروری کو پی ٹی آئی نے حقوق سندھ مارچ کا بھی اعلان کررکھا ہے۔ 

پی پی پی وفاقی حکومت کے خلاف 27 فروری کو کراچی سے اسلام آباد مارچ کرے گی کہاجارہا ہے کہ اگر دونوں ریلیوں کا روٹ ایک ہوا تو کارکنوں کے درمیان تصادم کا خطرہ ہے سندھ حکومت اس ضمن میں کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے یہ آنے والے دنوں میں واضح ہوگا دوسری جانب تمام ضلعی ناظمین اور ذمہ داروں سے خطاب کرتے ہوئےامیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے ”حقوق کراچی“تحریک کے اگلے مرحلے میں عوامی رابطہ مہم اور 4مارچ سے نکالے جانے والے ”حقوق کراچی کارواں“کی تفصیلات کا اعلان کردیا ہے۔ 

حقوق کراچی کارواں جماعت اسلامی کے تنظیمی اضلاع میں گشت کرے گا۔حقوق کراچی کارواں کے شہر بھر میں گشت سے کراچی میں ایک نئی سیاسی فضا اور ماحول پیدا ہوگا اور کراچی کا ہر شہری وفاقی و صوبائی حکومتوں سے اپنا حق مانگے گا اور حکمران جماعت ایم کیو ایم پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی کو ان کا اصل چہرہ اور آئینہ دکھائے گا۔

کہاجارہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں بلدیاتی انتخاب میں کارکنوں کو متحرک رکھنے کے لیے ہیں ادھر یہ بھی کہاجارہا ہے کہ 27 فروری اور 23 مارچ کے لانگ مارچ کی اہمیت ختم کرنے کے لیے وفاقی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کا شوشہ چھوڑا گیا ہے ان تمام سیاسی محرکات کی بنیاد پر رمضان المبارک سے قبل سیاسی جماعتوں کے درمیان بڑا میدان لگنے کی توقع کی جارہی ہے۔

دوسری جانب نواب شاہ میں زمین کے تنازع پرایڈیشنل ایس ایچ او سمیت پانچ افراد کو گولیاں مار کر قتل کردیا گیا جبکہ پندرہ افراد فائرنگ کی زد میں آکر زخمی ہوگئے مرنے والے افراد کا تعلق بھنڈقبیلےسے تھا۔ نواب شاہ کے سانحہ کا الزام مرنے والوں کے لواحقین نے زرداری قبیلے کے بااثر افرادپر عائد کیاجس کے بعد لواحقین نے لاشیں قومی شاہراہ پر رکھ کر نواب شاہ کے علاقے نواب ولی محمد پر دھرنا دے دیا۔ پی ٹی آئی کے اسدعمر ،گورنرسندھ عمران اسماعیل اور علی زیدی نے اس سانحہ کا نوٹس لیا ہے۔ نوکوٹ میں 2 بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ 

بلاول ان تمام واقعات پر خاموش ہیں۔ ان تمام واقعات کے خلاف سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی خرم شیر زمان اراکین نے صوبے میں بدامنی کے خلاف تحریک التواء سندھ اسمبلی میں جمع کروادی۔ پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی خرم شیر زمان ، بلال غفار، ریاض حیدر، ڈاکٹر سنجے گنگوانی سدرہ عمران، ادیبہ حسن دیگر ارکان نے سیکریٹری اسمبلی کو تحریک التواء جمع کروائی پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کی جانب سے صوبے میں بد امنی کیخلاف سندھ اسمبلی میں احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔

پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ صوبے میں2021 میں 78 ہزار 640 کیسز کراچی میں رپورٹ ہوئے ہیں 2ہزار گاڑیاں ، 51ہزار موٹر سائیکلیں، 25 ہزار سے زائد موبائل فون چھینے گئے ہیں 15 کیسز اغواء برائے تاوان کے کیسز رپورٹ ہوئے یہ واقعات سندھ حکومت کے منہ پر کالا دھبہ ہے دن بدن سندھ میں زیادتی کے واقعات بڑھ گئے ہیں انہوں نے اپنی گفتگو میں مزید کہا کہ نوکوٹ میں 2 معصوم بچیوں کو بیدردی سے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا کیا پی پی کے لوگوں کے گھروں میں ماں بہنیں نہیں ہیں ہماری سندھ کی بیٹیوں کو ذلیل و رسواء کیا جارہا ہے۔ 

خرم شیر زمان نے مزید کہا کہ چانڈکا میڈیکل کالج میں نمرتا کماری کے قتل کو خودکشی کا رنگ دیا گیا نواب شاہ پیپلز میڈیکل کالج میں ڈاکٹر پروین رند کو ڈرایا دھمکایا جارہا ہے ہسٹلز میں خواتین ڈاکٹروں کو جنسی حراساں کیا جارہا ہے واقعات کے منظر عام پر آنے کے بعد ان واقعات کو خودکشی کا رنگ دیدیا جاتا ہے پارلیمانی لیڈر خرم شیر زمان نے سندھ حکومت کو آڑھے ہاتھوں لیا سندھ میں بچیوں کے ساتھ ظلم کیا جارہا ہے۔

تحریک اسمبلی میں جمع کرانے کے بعد امکان ہے کہ سندھ اسمبلی کا اجلاس ہنگامہ خیزہوگا ادھر سندھ اسمبلی نے طلبہ یونین کی بحالی کا تاریخی بل متفقہ طور پر منظور کرلیا ۔بل کی منظوری کے موقع پر ایوان میں زبردست نعرے بازی کی گئی، اس بل کی منظوری کے بعد صوبہ سندھ کو یہ اعزاز حاصل ہوگیا ہے کہ وہ طلبا یونین کو بحال کرنے والا پہلا صوبہ بن گیا ہے ، وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ نے اس بل کی منظوری کو ایک تاریخی واقعہ قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے تعلیمی اداروں میں مثبت ماحول پروان چڑھے گا، طلبہ یونینز نفرت اور اشتعال انگیز سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیں گی، اس تاریخ ساز فیصلے کا کریڈٹ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کو جاتا ہے۔ 

اجلاس میں سندھ اسٹوڈنٹس یونین بل 2019 ایوان میں پیش کیا گیا جس کی حمایت اپوزیشن کے تمام پارلیمانی گروپوں کی جانب سے کی گئی جن میں پی ٹی آئی، ایم کیو ایم، جی ڈی اے بھی شامل تھے، ایوان کو بتایاگیا کہ طلبہ یونین کی بحالی کے مسودہ قانون میں تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی ہےطلبہ یونینز پر 1984 میں پابندی لگائی گئی تھی اور اب سندھ اسمبلی ایک قانون کے ذریعے اسے ختم کررہی ہے اس طرح سندھ طلبہ یونین کو بحال کرنے والا پہلا صوبہ بن گیا ہے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید