محمّد احمد غزالی
حضرت بابا محمّد سماسیؒ ایک روز مریدین کے ہم راہ بخارا کے نواحی قصبے، کوشکِ ہندواں سے گزر رہے تھے۔ اچانک ایک مقام پر کھڑے ہوگئے اور پھر ہم راہیوں سے مخاطب ہوئے، ’’ مجھے یہاں سے ایک ایسے مردِ خدا کی خوش بُو آ رہی ہے، جس کی وجہ سے یہ علاقہ، یعنی کوشکِ ہندواں، جلد قصرِ عارفاں بن جائے گا۔‘‘ کچھ دنوں بعد ایک مجلس میں فرمایا،’’ اب وہ خوش بُو بڑھ گئی ہے۔‘‘
ولادت کے تیسرے روز دادا اپنے پوتے کو گود میں اُٹھائے بابا صاحبؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو بہت محبّت و شفقت سے بچّہ اُن سے لیا اور دیر تک اپنی گود میں کِھلاتے رہے۔ پھر فرمایا،’’ اسے ہم نے اپنی فرزندی میں قبول کیا۔‘‘ بعدازاں، وہاں موجود لوگوں کی طرف رُخ کرکے گویا ہوئے،’’ یہی وہ مردِ خدا ہے، جس کی خوش بُو ہم نے سونگھی تھی۔ یہ لڑکا عَن قریب اپنے زمانے کا پیشوا ہوگا۔‘‘یہ بچّہ، جس کی ولادت اور سیادت کی پیش گوئی کی جارہی تھی، حضرت بہاء الدّین نقش بند رحمۃ اللہ علیہ تھے۔
خاندان، تعلیم و تربیت
حضرت بہاء الدین نقشبندؒ 4 محرم الحرام718 یا 728 ہجری کو بخارا (ازبکستان) کے مضافاتی قصبے، کوشکِ ہندواں میں پیدا ہوئے۔نام محمّد تجویز ہوا، جب کہ والد کا نام بھی محمّد تھا۔ آپؒ کا نسب حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے اور بعض سوانح نگاروں نے شجرۂ نسب بیان بھی کیا ہے، تاہم اس کے باوجود آپؒ کے خاندان اور تعلیم سے متعلق زیادہ معلومات دست یاب نہیں ہیں۔البتہ، آپؒ کے فتاویٰ، جو ایک مرید، صلاح الدّین مبارک نے جمع کیے، اُن سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپؒ کا روحانیت کے ساتھ، علمی مقام بھی بہت بلند تھا۔
لفظ ’’ نقش بند‘‘ آپؒ کے نام کا حصّہ کیسے بنا؟ مشائخِ نقش بند کے تذکرے پر مشتمل معروف کتاب، ’’حضرات القدس‘‘ کے مطابق، ایک روز آپؒ ، مولانا زین الدّین سے ملاقات کے لیے تشریف لے گئے۔ مولانا صاحب نمازِ فجر کے بعد اوراد و وظائف میں مشغول ہوئے، تو حضرت خواجہؒ بھی اُن کے قریب آکر بیٹھ گئے، جس پر اُنھوں نے فرمایا،’’ اے خواجہؒ! ہمارا نقش بھی باندھو۔‘‘
یعنی ہمارے حال پر توجّہ فرمائیں۔ حضرت خواجہؒ نے جواب دیا،’’ ہم خود نقش بننے کے لیے آئے ہیں۔‘‘اُسی روز سے آپؒ نقش بند مشہور ہوگئے، یعنی سالک کے( راہِ طریقت کے طالبِ علم) قلب پر اللہ تعالیٰ کے نام کا نقش بِٹھانے والے۔ آپؒ کی توجّہ اور صحبت کی برکت سے چند گھڑیوں ہی میں سالک کا قلب اللہ تعالیٰ کی طرف متوجّہ ہوجایا کرتا تھا۔ حضرت علاء الدّین عطّارؒ فرمایا کرتے تھے،’’ ہمارے خواجہ نقش بندؒ کی نظرِ عنایت کا یہ کمال تھا کہ طالب قدمِ اوّل ہی میں سعادت حاصل کرلیتا۔‘‘
طویل روحانی سفر
آپؒ مادرزاد ولی تھے۔ والدہ فرماتی ہیں،’’ بہاء الدّین چار برس کے تھے کہ ایک حاملہ گائے دیکھ کر کہا،’’ یہ سفید پیشانی والا بچّہ جنے گی۔‘‘ اور ایسا ہی ہوا۔ جوانی میں قدم رکھا، تو مختلف روحانی تجربات پیش آنے لگے،پھر روحانی سفر کی باقاعدہ تکمیل کے لیے حضرت بابا سماسیؒ کے دامنِ فیض سے وابستہ ہوگئے۔اُس وقت آپؒ کی عُمر 18 برس تھی۔ دراصل، آپؒ ، بابا صاحبؒ کو اپنی شادی میں شرکت کی دعوت دینے گئے تھے۔
رات اُن کی خانقاہ میں گزاری اور نمازِ تہجّد کے بعد سر سجدے میں رکھ کر یوں دُعا کی،’’ الٰہی! مجھے دُکھ، تکالیف کا بوجھ اُٹھانے اور اپنی محبّت و شفقت برداشت کرنے کی قوّت عطا فرما۔‘‘ صبح جب بابا صاحبؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو اُنھوں نے فرمایا،’’ بیٹے دُعا میں یوں کہنا چاہیے کہ’’ الہٰی! اِس بندۂ ضعیف کو اپنے فضل وکرم سے اُس پر قائم رکھ، جس میں تیری رضا ہو۔‘‘ پھر ارشاد فرمایا، ’’بے شک، اللہ تعالیٰ کی رضا تو اِس میں ہے کہ بندہ مصیبت میں مبتلا نہ ہو، لیکن اگر وہ کسی حکمت کی وجہ سے اپنے کسی دوست پر مصیبت اور آزمائش نازل کرتا ہے، تو اپنی عنایت سے اُسے برداشت کرنے کی قوّت بھی عطا فرماتا ہے۔
لہٰذا، اپنی مرضی اور اختیار سے مصیبت و تکلیف طلب کرنا ٹھیک بات نہیں اور بارگاہِ خداوندی میں یہ گستاخی نہیں کرنی چاہیے۔‘‘اِس واقعے کے بعد آپؒ، حضرت بابا صاحبؒ ہی کے ہو کر رہ گئے۔ اُنھوں نے کچھ عرصے بعد یہ کہتے ہوئے آپؒ کو اپنے سب سے بڑے خلیفہ، حضرت امیر کلالؒ کے سپرد کردیا ،’’ دیکھو! تم میرے فرزند بہاء الدّینؒ کی تربیت میں کوئی کوتاہی نہ کرنا۔ اگر کوتاہی ہوئی تو تمھیں ہرگز معاف نہیں کروں گا۔‘‘حضرت امیر کلالؒ نے آپؒ کو امتحانات کی بھٹیوں سے گزارا تاکہ پک کر کندن بن جائیں۔ ایک روز کسی بات پر فرمایا،’’ چوں کہ تم مجھے نہیں چاہتے، لہٰذا یہاں سے چلے جاؤ۔‘‘
یہ سُن کر آپؒ مجلس سے اُٹھ کر چل دئیے۔ راستے میں خیال آیا کہ یوں اُٹھ کر نہیں آنا چاہیے تھا، سو، واپس خانقاہ کی طرف چل پڑے۔ وہاں پہنچے، تو حضرت امیر کلالؒ نے دیکھتے ہی کہا،’’ یہاں تمھارا کوئی کام نہیں ، جاؤ، کوئی دوسرا دروازہ تلاش کرو۔‘‘ آپؒ اُٹھے اور شہر، یعنی بخارا چلے گئے۔ وہاں دیکھا کہ دو افراد جوا کھیل رہے ہیں۔ ایک سب کچھ ہار چُکا تھا، لیکن پھر بھی دوسرے سے قرض مانگ کر کھیل جاری رکھنے پر مُصر تھا۔ اُس شخص نے کہا،’’ اب تمھارے پاس رہ ہی کیا گیا ہے، جو جوا کھیلو گے۔‘‘دوسرے جواری نے کہا،’’نہیں، ہار نہیں مانوں گا۔ اب جان کی بازی لگاؤں گا۔‘‘
جواری کی یہ بات سُن کر آپؒ پر گریہ طاری ہوگیا اور ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگے، خود کو کہتے جاتے،’’ بہاء الدّین! تم تو اِس قمار باز سے بھی گئے گزرے نکلے کہ اِتنی جلد میدان چھوڑ گئے۔‘‘ وہاں سے سیدھے خانقاہ آگئے۔ جب وہاں پہنچے، تو رات ہوچکی تھی اور برف باری کی وجہ سے سردی بھی بہت تھی۔ آپؒ کا معمول تھا کہ اپنے مرشد، حضرت امیر کلالؒ کے وضو اور طہارت کے لیے پانی کا اہتمام فرماتے تھے، لہٰذا لوٹے میں پانی بَھرا اور مرشد کے حجرے کے دروازے کے باہر بیٹھ گئے۔
مسلسل برف باری کی وجہ سے جسم برف سے ڈھک گیا، مگر آپؒ دروازے پر بیٹھے رہے۔ جب مرشد رات کے آخری پہر وضو کے لیے باہر نکلے، تو اُن کا قدم اندھیرے کے سبب آپؒ کے سر پر پڑا۔ محبّت نے جوش مارا اور اپنے مرید باصفا کو زمین سے اُٹھا کر سینے سے لگاتے ہوئے فرمایا،’’ یہ خلعت تمھارے ہی لیے موزوں ہے۔‘‘ پھر ایسی توجّہ فرمائی کہ آپؒ درجۂ کمال کو پہنچ گئے۔آپؒ کئی برس تک حضرت امیر کلالؒ کی رہنمائی میں سلوک کی منازل طے کرتے رہے۔وہ ایک روز اپنے پانچ سو سے زاید مریدین کے اجتماع میں آپؒ سے یوں مخاطب ہوئے، ’’اے فرزند بہاء الدّینؒ! میرے مرشد ،حضرت بابا سماسیؒ نے تمھارے حق میں جو وصیّت کی تھی، مَیں نے اپنی ہمّت اور بساط کے مطابق اُس پر مکمل عمل کیا ہے۔
جو کچھ میرے پاس تھا، وہ تمھارے سینے میں منتقل کردیا، مگر تمھاری طلب اور ہمّت بہت بلند ہے، لہٰذا، اب تمھیں جہاں کہیں سے خوش بُو پہنچے، وہاں سے رجوع کرو۔‘‘ اس پر آپ ؒ قریبی گاؤں، دیک کرانی سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ، حضرت مولانا محمد عارفؒ سے وابستہ ہوگئے اور سات برس تک اُن سے رہنمائی لیتے رہے۔جب پہلی بار اُن کے پاس گئے، تو وہ خربوزے کھا رہے تھے، اُنھوں نے خربوزے کے چھلکے آپؒ کی طرف اُچھال دئیے، جنھیں آپؒ نے زمین سے اُٹھا کر صاف کرکے کھا لیا۔
دراصل، یہ اِس بات کا امتحان تھا کہ کہیں مزاج میں تکبّر تو نہیں ہے۔بعدازاں، ایک روحانی اشارے پر مشائخِ تُرک میں سے حضرت خلیل اَتا رحمۃ اللہ علیہ سے وابستہ ہوگئے اور 12 برس اُن سے استفادہ کرتے رہے۔ اِس دَوران چھے برس ایسے بھی گزرے، جب حضرت خلیل اَتاؒ ایک علاقے کے حکم ران رہے، اِس عرصے میں آپؒ دن میں دربار میں مخصوص لباس پہنے اُمورِ مملکت میں مصروف رہتے اور خلوت میں روحانی رہنمائی حاصل کرتے۔ جب والیٔ ہرات نے حضرت خلیل اَتا ؒ کی حکومت ختم کرکے اُنھیں قید کردیا، تو آپؒ اپنے علاقے میں واپس آگئے اور باقی زندگی وہیں گزاری۔ آپؒ فرمایا کرتے تھے،’’ یہ بات نہیں کہ جو شخص دوڑا، اُس نے اللہ کو پالیا، اصل بات یہ ہے کہ جو دوڑتا رہے گا، وہی اللہ کو پائے گا۔‘‘
اویسی طرز پر تربیت
آپؒ نے ظاہری طور پر حضرت بابا سماسیؒ، حضرت امیر کلالؒ اور دیگر مشائخ سے فیض حاصل کیا، جب کہ روحانی طور پر خواجہ عبدالخالق غجدوانیؒ سے تربیت پائی۔ اِس ضمن میں آپؒ نے ایک واقعہ یوں بیان فرمایا ہے،’’ ایک رات تین مزارات پر گیا۔ جس مزار پر پہنچتا، ایک چراغ ٹمٹماتا نظر آتا۔ چراغ میں تیل اور بتّی تو تھی، مگر بتّی کو ذرا اوپر لانے کی ضرورت تھی تاکہ وہ ٹھیک سے روشن ہوسکے۔ خواجہ محمد واسع ؒ کے مزار پر گیا، تو وہاں سے حضرت محمود فغنویؒ کے مزار پر جانے کا اشارہ ہوا۔ وہاں پہنچا، تو دو افراد آئے، جنھوں نے میری کمر پر دو تلواریں باندھیں اور پھر گھوڑے پر سوار کروا کر اس کی باگ مزار مزدا اخن کی طرف پھیر دی۔
وہاں پہنچ کر قبلہ رو بیٹھ گیا۔ اِس اثنا دیکھتا ہوں کہ قبلے کی جانب کی دیوار شق ہوگئی اور ایک بڑا تخت ظاہر ہوا، جس پر ایک بزرگ تشریف فرما ہیں، جن کے سامنے ایک سبز پردہ لٹکا ہوا ہے۔ تخت کے گرد بہت سے لوگ موجود تھے۔ ایک شخص نے بتایا،’’ تخت نشین بزرگ، خواجہ عبدالخالق غجدوانیؒ ہیں اور باقی آپؒ کے خلفاء ہیں۔‘‘ پھر اشارہ کرکے خواجہ احمد صدیقؒ، خواجہ اولیاء کبیرؒ، خواجہ عارف ریوگریؒ، خواجہ محمود فغنویؒ اور خواجہ علی رامیتنیؒ کا تعارف کروایا۔
جب وہ بابا سماسیؒ تک پہنچا، تو کہا ،’’ اِنھیں تو تم جانتے ہی ہو کہ حالتِ حیات میں دیکھ چکے ہو اور اُنھوں نے تمھیں ایک کلاں(ٹوپی) بھی عطا فرمائی تھی۔‘‘ پھر مجھے کہا گیا ،’’ اب توجّہ سے بات سُنو، خواجہ عبدالخالق غجدوانیؒ تم سے کچھ ارشاد فرمائیں گے۔‘‘ مَیں نے درخواست کی کہ مَیں اُنھیں سلام کرنا چاہتا ہوں، جس پر پردہ ہٹا دیا گیا اور مَیں نے سلام کیا۔ اُنھوں نے پہلی بات یہ فرمائی کہ ’’تمھیں جو چراغ دِکھائے گئے، وہ اِس امر کی طرف اشارہ ہے کہ تم میں قابلیت تو ہے، بس استعداد کی بتّی کو کچھ اوپر لانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ روشن ہوسکے۔‘‘
پھر فرمایا،’’ ہر حال میں شریعت پر ثابت قدم رہنا، سنّت پر عمل کرنا اور بدعت سے دور رہنا۔ ہمیشہ نبی کریم ﷺ اور صحابۂ کرامؓ کے اقوال کو اپنا پیشوا بنانا۔‘‘ پھر ایک شخص نے کچھ نشانیاں دیں تاکہ اِس مکاشفے کی صداقت ظاہر ہوسکے، بعدازاں، آپؒ اِس روحانی کیفیت سے باہر آگئے۔ آپؒ کو جو نشانیاں بتائی گئی تھیں، وہ سب درست نکلیں۔ غالباً اِسی واقعے کے بعد حضرت امیر کلالؒ نے آپؒ کے سر پر بابا سماسیؒ کی عنایت کردہ کلاں، جو دراصل اُن کے مرشد، حضرت عزیزان علی رامیتنیؒ کی تھی، رکھ کر خلافت سے نوازا۔
صاحبِ سلسلہ
سلسلہ نقش بندیہ کے مختلف ادوار میں مختلف نام رہے ہیں۔ خواجہ عبدالخالق غجدوانیؒ سے حضرت امیر کلالؒ تک اِسے’’ سلسلۂ خواجگان‘‘ کہا جاتا تھا، تاہم حضرت بہاء الدّینؒ کے زمانے میں اسے نقش بند کہا جانے لگا اور آج تک یہی نام اِس سلسلے کی شناخت ہے۔ آپؒ متعلقین کو ہرحالت میں قرآن وسنّت کی پابندی کی تاکید کرتے۔ کسی نے پوچھا،’’ آپؒ کا قرب کیسے حاصل کروں؟‘‘
فرمایا،’’ اتباعِ سنّت سے۔‘‘حج سے واپسی پر والئی ہرات کی درخواست پر اُن سے ملاقات کے لیے تشریف لے گئے، تو اُنھوں نے پوچھا’’ کیا آپؒ کو مسندِ ارشاد باپ، دادا سے وراثت میں ملی ہے؟ آپؒ نے فرمایا،’’ نہیں۔‘‘ پھر پوچھا’’ کیا آپؒ سماع اور ذکرِ جہر کرتے ہیں؟ ‘‘ فرمایا،’’ نہیں۔‘‘ بادشاہ نے حیرت سے کہا’’ اِنہی باتوں کو تو درویشی کہتے ہیں اور آپؒ میں یہ دونوں نہیں ہیں۔‘‘ آپؒ نے فرمایا’’ ہمارے مشایخ میں یہ چیزیں نہیں تھیں۔‘‘ بادشاہ نے کہا’’ تو پھر اُن کے ہاں کیا ہوتا تھا؟‘‘ آپؒ نے فرمایا’’ ظاہر باخلق، باطن باحق‘‘( یعنی ظاہر میں مخلوق، دنیا کے کاموں میں مشغولیت اور باطن میں اللہ کے ذکر و احکامات کی طرف دھیان)۔
بادشاہ نے کہا ’’کیا ایسا ہوجاتا ہے؟‘‘ آپؒ نے فرمایا’’ ہاں۔‘‘ پھر سورۂ نور کی یہ آیت پڑھی، ترجمہ’’ وہی مردانِ (خدا) ہیں ،جنہیں تجارت اور خرید و فروخت نہ اللہ کی یاد سے غافل کرتی ہے اور نہ نماز قائم کرنے سے اور نہ زکوٰۃ ادا کرنے سے (بلکہ دنیوی فرائض کی ادائی کے دَوران بھی) وہ (ہمہ وقت) اُس دن سے ڈرتے رہتے ہیں ،جس میں (خوف کے باعث) دل اور آنکھیں (سب) اُلٹ پلٹ ہو جائیں گی۔‘‘فرماتے ہیں،’’ ہمارا طریقہ سب میں ملے جُلے رہنے کا ہے، کیوں کہ خلوت میں شہرت ہے اور شہرت میں آفت ہے۔‘‘
اِسی سلسلے میں آپؒ نے ایک بار فرمایا، ’’مکّہ معظمہ میں دو افراد دیکھے۔ ایک نہایت بلند ہمّت اور دوسرا پست ہمّت۔ پست ہمّت وہ شخص تھا، جو طواف کے دَوران بیتُ اللہ کے دروازے پر ہاتھ رکھ کر اللہ تعالی کے سوا کچھ اور مانگ رہا تھا۔ بلند ہمّت جوان منیٰ کے بازار میں نظر آیا، جس نے کم و بیش پچاس ہزار دینار کی خرید وفروخت کی اور اس عرصے میں اُس کا دل ایک لمحے کے لیے بھی یادِ الہٰی سے غافل نہ ہوا۔‘‘فرماتے ہیں،’’ راہِ سلوک میں مجھ پر دو بار منصور حلاج کی سی کیفیت طاری ہوئی اور نزدیک تھا کہ زبان سے وہ الفاظ نکل جائیں، جو اُن سے صادر ہوئے۔دونوں بار ایک سولی کے نیچے جا کھڑا ہوا اور خود کو کہا کہ اگر کوئی خلافِ شریعت بات کی، تو تیری جگہ یہی سولی ہے۔‘‘
شخصیت، عادات
لقمۂ حلال کے معاملے میں بے حد محتاط تھے۔ کسی نے نماز میں خشوع وخضوع سے متعلق پوچھا ،تو فرمایا،’’ یہ کیفیت طعامِ حلال سے حاصل ہوتی ہے۔‘‘ذریعۂ معاش زراعت تھا ، ہر سال جو اور ماش کاشت کرتے۔ آپؒ کے ہاں کوئی خادم یا خادمہ نہ تھی۔ مہمانوں کے لیے پُرتکّلف کھانا بنواتے۔خود بھی کھانا پکا لیتے اور دسترخوان پر مہمانوں کے سامنے رکھتے۔ سفید عمامہ اور کبھی صرف ٹوپی پہنتے۔
مزاج میں بہت انکسار تھا۔ ایک روز کسی نے کہا،’’ کوئی کرامت تو دِکھا دیجیے۔‘‘ فرمایا،’’ کیا یہ کم کرامت ہے کہ اِس قدر گناہ گار ہونے کے باوجود مجھے زمین نگلتی ہے اور نہ آسمان سے کوئی عذاب نازل ہوتا ہے۔‘‘ خواجہ فرید الدّین عطّار فرماتے ہیں،’’ آپؒ بڑھاپے میں جس قدر عبادت کرتے، ہم جوانی میں بھی اس قدر نہ کرپائے اور بے نفس ایسے تھے کہ اپنے گاؤں میں مسجد تیار کروائی، تو اُس کے لیے اپنے سر پر مٹی کی ٹوکری بھر بھر کر لاتے۔‘‘دو بار حج کی سعادت حاصل کی۔
وفات، پس ماندگان
خواجہ عبیداللہ احرارؒ فرماتے ہیں’’ جب آپؒ کا وقتِ آخر آیا تو ہم سورۂ یٰسین پڑھ رہے تھے، جب نصف سورت تک پہنچے تو انوار ظاہر ہونے لگے، ہم کلمہ پڑھنے لگے۔ آپؒ نے دونوں ہاتھ دُعا کے لیے اُٹھائے اور دیر تک دُعا مانگتے رہے، جب دُعا کے بعد ہاتھ چہرے پر پھیرے تو رُوح پرواز کرگئی۔یہ 3 ربیع الاوّل 791 ہجری، بروز پیر کا واقعہ ہے۔
آپؒ نے جنازے کے آگے یہ رباعی پڑھنے کی وصیّت کی تھی؎ ’’ مفلسانیم آمدہ در کُوئے تُو … شیئاً للہ از جمالِ رُوئے تُو۔ ‘‘یعنی’’ ہم مفلس تیرے کوچے میں آئے ہیں، للہ اپنے حُسن وجمال سے کچھ عطا کردیجیے۔‘‘آپؒ نے شادی کی اور اولاد بھی ہوئی۔ روایات میں ایک بیٹے کا ذکر ملتا ہے، جن کا عین حج کے روز انتقال ہوا، جب کہ ایک صاحب زادی، حضرت علاء الدین عطّار سے بیاہی گئیں۔ بخارا سے تقریباً 16 کلومیٹر کی دُوری پر آپؒ کا مزار ہے۔