• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نیل آرٹ کا بڑھتا رجحان: مضبوط شخصیت کا اظہار یا سماجی دباؤ؟

زویا نعیم، حافظ آباد

آج کل لڑکیوں /خواتین میں لمبے ناخن رکھنے کا رجحان محض فیشن تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ مضبوط شخصیت کے اظہار، منفرد شناخت اور بعض حوالوں سے خُود اعتمادی کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ زیرِ نظر تحریر میں ہم اس رجحان کی تہہ میں اُترنے اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ آخر یہ شوخ و شنگ، چمک دار اور مختلف ڈیزائنز کے ناخن ہمارے معاشرتی مزاج میں کس تبدیلی کا اِشارہ دیتے ہیں اور یہ رجحان ہماری اقدار، صحت، نفسیات اور خواتین کے کردار کے تصوّر کو کس انداز سے متاثر کر رہا ہے۔

یاد رہے، عصرِحاضر ظاہری خُوب صُورتی اور بناوٹی شخصیت کا دَور ہے۔ سوشل میڈیا، فلٹرز، فیشن بلاگز، بیوٹی سیلونز اور نِت نئے کاسمیٹک برانڈز نے حُسن و جمال کی تفہیم ہی بدل کر رکھ دی ہے۔ آج خُوب صُورتی محض چہرے کی دِل کَشی یا لباس کی شان و شوکت تک محدود نہیں رہی، بلکہ ناخن، پلکیں، بھنویں حتیٰ کہ پوروں کے نکھار کو بھی خُوب صُورتی کا لازمی حصّہ سمجھا جانے لگا ہے۔

آج کل کی لڑکیاں سمجھتی ہیں کہ شخصیت کی آرائش و زیبائش میں ہاتھوں کا کردار بہت اہم ہے اور خُوب صُورت ہاتھوں کا سب سے نمایاں وصف دِیدہ زیب ناخن ہیں۔ یہی وجہ ہےکہ آج نیل آرٹ، ایکریلک نیلز، جیلی نیلز، فرینچ ٹِپس اور قدرتی ناخنوں کی تراش خراش فیشن کی دُنیا میں مستحکم مقام رکھتی ہے، لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس رجحان کا مقصد محض آرائش وزیبائش ہے یا اس کے پسِ پردہ دیگرکچھ عوامل بھی کارفرما ہیں۔

درحقیقت، اِن دنوں لمبے ناخن سوشل اسٹیٹس کی علامت بھی سمجھے جاتے ہیں۔ جب کوئی لڑکی یا خاتون سیلون میں ہزاروں روپےخرچ کرکےاپنےناخنوں کی جدید تراش خراش کے بعد تصاویر کے ذریعے سوشل میڈیا پر اُن کی نمائش کرتی ہے، تو اس کا مقصد یہ پیغام دینا بھی ہوتا ہے کہ وہ خود پرسرمایہ کاری کرنےکی صلاحیت رکھتی ہے۔ واضح رہے، مسابقت کے اس دَور میں خُود کو منفرد اور نمایاں انداز میں پیش کرنا ایک نفسیاتی ضرورت بن چُکا ہے اور ناخن شخصیت کے اس طریقۂ اظہارکا مؤثر ذریعہ ہیں۔

نیز، اس حقیقت سے بھی مفر نہیں کہ بعض لڑکیوں اور خواتین کے لیے نیل آرٹ محض فیشن نہیں، بلکہ ایک طرح کی تھراپی کی حیثیت اختیار کر چُکا ہے۔ انہیں اپنے ہاتھوں، ناخنوں کو سنوارنے اور اُن کی خُوب صُورتی کی تعریف سُننے سے ذہنی سکون ملتا ہے۔

دوسری جانب گوناگوں مصروفیات اور الجھنوں کے اِس دَورمیں اپنے آپ کو وقت دینا اور اپنا خیال رکھنا بھی ایک بڑی ضرورت بن چُکا ہے اور بعض لڑکیوں/ خواتین کے نزدیک ناخن اِسی ضرورت کی تکمیل کرتے ہیں، لیکن ہر رجحان کے مثبت اور منفی دونوں پہلو ہوتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ جہاں لمبے، خُوب صُورت ناخن شخصیت میں اعتماد اور کشش پیدا کرتے ہیں، وہیں یہ عملی زندگی کے کئی شعبوں میں مشکلات کا سبب بھی بنتے ہیں۔ مثال کے طور پر گھر کے کام کاج اور بچّوں کی دیکھ بھال جیسے امور میں لمبے ناخن رُکاوٹ محسوس ہوتے ہیں اور بعض اوقات ناخن ٹوٹنے، اُن میں میل جمع ہونے یا انفیکشن کا خدشہ بھی ہوتا ہے۔

اسی طرح بعض لڑکیاں/ خواتین نیل آرٹ کی اس قدر شوقین ہوتی ہیں کہ ناخنوں کو لمبا، خُوب صُورت بنانے کی کوشش میں وہ اِنہیں نہایت کم زور کردیتی ہیں، کیوں کہ نیل پالش، گوند، الٹرا وائلٹ ریز اور فائلنگ کا مستقل استعمال ناخنوں کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتا ہے، مگر وہ فیشن کی خاطریہ قربانی دینے پر بھی آمادہ ہوجاتی ہیں۔

معاشرتی سطح پردیکھا جائے،تویہ رجحان ہمارے سماجی رویّوں اور اقدار کی بھی تصویر کَشی کرتا ہے۔ گرچہ مشرقی تہذیب میں حُسنِ زن کا تصوّر ہمیشہ سے موجود رہا ہے، مگر آج اس کا اظہار آزادانہ طور پر کیا جانے لگا ہے اور یہ شخصی اظہار کے رنگ میں ڈھل چُکا ہے۔ ماضی میں خواتین کی آرائش و زیبائش سادگی و نفاست کا مرقّع ہوتی تھی، مگر اب اس میں گلیمر اور جدیدیت کے عناصر بھی شامل ہوچُکے ہیں۔

یہ تبدیلی کسی حد تک مثبت بھی ہے، کیوں کہ خواتین کا سجنا سنورنا اور اپنی شخصیت کو مؤثر انداز میں پیش کرنا ایک صحت مند سماجی رویّہ ہے۔ نیز، یہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ عورت خُود کو اہم سمجھتی ہے اور اپنی ذات کے حوالے سے خُود فیصلے کرنا چاہتی ہے، مگر اِس کے ساتھ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ کیا یہ رجحان واقعتاً خواتین میں خُود اعتمادی پیدا کررہا ہے یا یہ بناؤ سنگھار محض دِکھاوا ہے۔ کیا لمبے ناخن واقعی شخصیت میں نکھار لاتے ہیں یا ایک ایسا فیشن ہے کہ جس میں صرف پیسا، وقت اور توانائی صَرف ہورہی ہے؟

کیا لڑکیاں اور خواتین اپنی اصل شخصیت پس پُشت رکھ کر ایک ایسی مسابقتی فضا کا حصّہ بن رہی ہیں، جس میں خُوب صُورتی کا معیار روز بدلتا ہے اور آسودگی کی کوئی حد نہیں؟ یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ ہر خاتون کے لیے اس رجحان کا مقصد یک ساں نہیں ہوتا۔ کچھ خواتین کو لمبے ناخن رکھنے کا شوق ہوتا ہے، کچھ سماجی دباؤ اور رجحان کی پیروی کے تحت ایسا کرتی ہیں اور بعض کو اس طرح اپنی شخصیت کی مضبوطی کا احساس ہوتا ہے، لیکن جب یہ رجحان اتنا عام ہوجائےکہ ہر لڑکی ہی اسے ضروری سمجھنے لگے، تو یہ فیشن کم اور نفسیاتی دباؤ زیادہ بن جاتا ہے اور یہ دباؤ صرف لمبے ناخنوں تک محدود نہیں، بلکہ زندگی کے دیگر پہلوؤں پربھی اثرات مرتّب کرتا ہے، مثلاً لباس، میک اپ، جسمانی ساخت اورسوشل میڈیا پرموجودگی وغیرہ۔

مزید برآں، سوشل میڈیا کےاس دَورمیں دیگرخواتین کے خُوب صُورت ہاتھ اور ناخن دیکھ کر خُود کو کم تر محسوس کرنا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ آج فیس بُک، انسٹا گرام اور ٹک ٹاک نےحُسن کے’’فلٹرڈ‘‘ غیر حقیقی معیارات قائم کر دیے ہیں، جہاں ہر چیز ہی پرفیکشن کی نمائندگی کرتی ہے اور جب لڑکیاں اورخواتین ان تصاویر کو حقیقت سمجھ کر ان سے اپنا موازنہ کرتی ہیں، تو اُن میں احساسِ کم تری پیدا ہوتا ہے۔

یاد رہے، لمبے ناخن اس مسابقتی کلچر کی صرف ایک کڑی ہے،جب کہ اس کےپسِ پردہ ایک وسیع نفسیاتی جنگ جاری ہے۔ دوسری جانب آج کل دینِ اسلام اور مشرقی روایات کے تناظر میں بھی یہ موضوع زیرِبحث ہے۔ ہماری دینی تعلیمات طہارت اور صفائی پر زور دیتی ہیں اور بہت زیادہ لمبے ناخن رکھنے سے صفائی کا اہتمام مشکل ہوجاتا ہے۔ سو، اس لحاظ سے بھی ہمیں توازن برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ خُوب صُورت نظر آنا معیوب نہیں، مگر اس کے ساتھ ہی اعتدال اور پاکیزگی بھی نہایت ضروری ہیں۔

ہماری مذہبی تعلیمات اور روایات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ حقیقی خُوب صُورتی وہ ہے،جو وقار، شائستگی اور پاکیزگی سے ہم آہنگ ہو۔ قصّہ مختصر، لمبے ناخن رکھنے کا بڑھتا ہوا رجحان صرف ایک فیشن نہیں، بلکہ اس کے سماجی و نفسیاتی پہلو بھی ہیں۔ گرچہ یہ عمل خُود اعتمادی اور شخصیت سازی کا ایک ذریعہ ہے، مگر اس ضمن میں احتیاط اور اعتدال ملحوظِ خاطر رکھنے کی اشدضرورت ہے۔

خواتین کو اپنی آرائش و زیبائش کا پورا حق حاصل ہے، مگر انہیں اپنی صحت، گھریلو کام کاج میں سہولت، مذہبی تعلیمات اوراصل شخصیت کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ حُسن اور خُوب صُورتی کی اصل دیکھ بھال وہ ہے، جو آپ کی شخصیت کو مکمل کرے، نہ کہ شخصیت اس کی تابع ہوجائے۔ ہاتھوں اورناخنوں کی دیکھ بھال انہیں خُوب صُورت اور دِیدہ زیب بناتی ہے، لیکن اصل حُسن اُن ہاتھوں میں پوشیدہ ہے، جو محبّتیں بانٹتے، محنت کرتے، دُعائیں دیتے اور زندگی کے سفر کو آسان بنانے کا ہُنر رکھتے ہیں۔

سنڈے میگزین سے مزید