• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

٭ زندگی ایک ایسا استاد ہے، جس سے ہم سب ہی کچھ سیکھتے ہیں۔ 

٭ناکامی سے مت گھبراؤ، یہی عروج کی پہلی سیڑھی ہے۔

٭علم وہ روشنی ہے، جو بھٹکے ہوئے انسانوں کی راہ نمائی کرتی ہے۔

٭ پھولوں کی خُوشبو سے لُطف اندوز ہونے کے لیے کانٹوں کی چُبھن برداشت کرنی ہی پڑتی ہے۔

٭اُس دیا سلائی کی طرح بنو، جو کسی اندھیرے گھر کا دیا روشن کرنے کے لیے جلتی ہے۔

٭کام یابی اُن ہی کے مقدر میں لکھی جاتی ہے، جنہیں اپنی کام یابی کا یقین ہوتا ہے۔

٭ علم، وحدت کی طرف سفر کا نام ہے۔

٭ جو قوم اپنی تاریخ بدلتی ہے، تاریخ اُس کا جغرافیہ بدل دیتی ہے۔

٭ اگر آپ اپنا آپ پڑھنا چاہیں، تو دوسروں کی آنکھوں میں پڑھ سکتے ہیں۔

٭محبت ایک ساز ہے، جو دو دِلوں کے ایک ساتھ دھڑکنے سے بجتا ہے۔

٭ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ زندگی کے اصل سبق ہمیں اُس وقت ملتے ہیں، جب وہ ہمارے لیے بےکار ہوچُکے ہیں۔

٭ بغیر شہرت کے مرجانا، پیدا نہ ہونے کے مترادف ہے۔

٭ محبّت نہ بانٹ سکو، تو نفرت بھی تقسیم نہ کرو۔ 

٭ روشنی یوں ہی نہیں ہوتی، کچھ نہ کچھ جلانا پڑتا ہے۔

٭ اپنے اخلاق و کردار ہمیشہ عُمدہ رکھو کہ اُن سے خون اور خاندان کی پہچان ہوتی ہے۔

٭دنیا کی مصیبتوں کا چوتھائی حصّہ زبان کا پیدا کردہ ہے۔

٭ دل ایک پیالہ ہے، اگر اس کو رحم، شفقت، محبّت اور اِخلاص سے نہ بھرا جائے تو یہ حسد، بغض، نفرت اور تکبّر سے بھر جاتا ہے۔

٭ انسان کا سب سے اچھا دوست اُس کا ضمیر ہے، جو اچھی بات پر شاباش دیتا اور بُری بات پر ملامت کرتا ہے۔

٭ محبّت کو الفاظ میں نہیں، لہجوں میں تلاش کرو، الفاظ تو منافقین کے بھی میٹھے ہوتے ہیں۔

٭ جہاں تم گرے تھے، وہاں مت دیکھو، وہاں دیکھو، جہاں تم پھسلے تھے۔

٭ ہمیشہ اچھے لوگوں سے رشتہ جوڑو۔ وہ اچھے دنوں میں سرمایہ اور برے ایّام میں محافظ ہوتے ہیں۔

٭ دُعاؤں کے رُوپ میں ملنے والی محبتیں، قیمتی اثاثہ ہیں۔

٭ لامحدود آرزوئیں، محدود زندگی عذاب کر دیتی ہیں۔

(بابر سلیم خان، سلامت پورہ، لاہور)

سنڈے میگزین سے مزید