• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مرتب: محمّد ہمایوں ظفر

ماں قدرت کا اَن مول تحفہ، محبّت و الفت، ایثار و قربانی کی زندہ تصویر اور سراپا ایثار ہے۔ ماؤں کے واقعات، اُن کی لازوال ممتا اور مقام و مرتبے پر مبنی احادیث و روایات انسانی زندگی میں مشعلِ راہ کا کام کرتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ ’’جنّت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔‘‘ یہ حدیث مائوں کی بے پناہ عظمت اور اُن کی خدمت و اطاعت کی اہمیت واضح کرتی ہے۔

قرآنِ مجید (سورئہ لقمان اور سورۃ الاحقاف) میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے ساتھ ماں باپ کے ساتھ حُسنِ سلوک (احسان) کا حکم دیا ہے، خاص طور پر ماں کی تکالیف کا ذکر کرکے اُن کی قدر کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ مختصر یہ کہ ماں وہ ہستی ہے، جس کا کوئی نعم البدل نہیں، اس کے احسانات کا بدلہ کوئی چُکا ہی نہیں سکتا۔ اُس کی خدمت، اطاعت اور دل جوئی اولاد پر فرض ہے۔

دنیا کی تمام مائوں کی طرح ہماری ماں نے بھی ہمیں سُکھ، چین، آرام و آسائش بہم پہنچانے کے لیے بے پناہ قربانیاں دیں، جس عُمر میں لڑکیوں کو گول روٹی پکانی نہیں آتی، اُس عُمر میں وہ عظیم عورت ہماری ماں بن گئی، پھر اپنی پوری جوانی، سب کچھ ہم بہن بھائیوں کی اچھی تعلیم و تربیت کے لیے وقف کرکے، اپنا آپ بھلا، مٹا ہی دیا۔

مجھے آج بھی یاد ہے، ایک دفعہ میری چھوٹی بہن اسکول کی سالانہ تقریب میں نیا سوٹ پہن کر جانے کی ضد کر رہی تھی، تو امّی نے راتوں رات کسی نہ کسی طرح کپڑے کا بندوبست کرکے خود ہی ہاتھ کی سلائی مشین سے وہ ڈریس تیار کیا۔ اس دوران بجلی چلی گئی، تو موم بتّی کی مدہم روشنی میں لباس مکمل کیا۔ 

اسی طرح ایک بار اسکول میں مجھے گھریلو معاشیات کے پراجیکٹ کے تحت میز پوش پر کڑھائی کرکے لانے کو کہا گیا، اُن دنوں امّی کی طبیعت سخت خراب تھی، لیکن آفرین ہے، بخار کی کیفیت میں بھی رات گئے جاگ کر میرا پراجیکٹ مکمل کیا۔

بچپن میں میری چھوٹی بہن بہت عجیب و غریب فرمائشیں کیا کرتی، ایک دفعہ وہ رات تین بجے اچانک جاگ گئی اور ضد کرنے لگی کہ نمک پارے بناکر دیں۔ کوئی اور ہوتا، تو شاید ڈانٹ ڈپٹ کر اُسے دوبارہ سونے پر مجبور کردیتا، مگر امّی نے شفقت سے اُس کی طرف دیکھا اور اُسی وقت گندم کے آٹے سے میدہ نکال کر اُسے نمک پارے بنا کر دے دیے۔

امّی نے نہ صرف ہمارا بھرپور خیال رکھا بلکہ حقوق العباد میں بھی کبھی کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی۔ وہ ہمیشہ ہماری ننھیال، ددھیال کے ساتھ محلّے والوں اور عزیز و اقارب کے لیے بھی ہر لمحہ اپنی جان و مال سے مدد کو تیار رہتی ہیں۔ سردیوں کے موسم میں کسی بچّے کا سوئٹر بُن دیا، کسی کو لحاف دلوا دیا، کسی کو شاپنگ کروادی۔ جو اُن کے بس میں ہوتا ہے، اللہ کی رضا کے لیے خاموشی سے کرتی رہتی ہیں۔

زندگی کے ان ہی نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے الحمدللہ، آج ہم سب بہن بھائی، اپنی ماں کی خاموش قربانیوں کے طفیل ایک خوش حال اور مطمئن زندگی گزار رہے ہیں، جہاں صبر ہے، شُکر، عاجزی ہے، قناعت ہے، سمجھ داری ہے۔ زندگی بھر ہمارے لیے ہمیشہ تگ و دو میں مصروف رہنے والی ہماری امّی اپنی زندگی کے سارے اَن مول لمحے ہم پر قربان کرکے آج ضعیفی میں ذیابطیس اور دل کے عارضے میں مبتلا ہوچکی ہیں، مگر اتنی بیماریوں میں گِھرے رہنے کے باوجود اُن کے چہرے پر ہمہ وقت ایک پُرشفقت مسکراہٹ رہتی ہے، جو ہمیں جینے کی راہ دکھاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ ہماری امّی کو صحت و تن درستی کے ساتھ طویل عُمر سے نوازے، آمین۔ ( ثناء توفیق خان، ماڈل کالونی، ملیر،کراچی )

سنڈے میگزین سے مزید