نوجوان کسی بھی قوم کا بیش قیمت سرمایہ، اثاثہ ہوتے ہیں، کیوں کہ یہی نوجوان مستقبل میں ڈاکٹر، انجینئر، سائنس داں، تاجر اور سیاسی رہنما بن کر قوم کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر نوجوان حصولِ تعلیم کے ساتھ مختلف اقسام کے ہُنر بھی سیکھ لیں، تو وہ نہ صرف اپنی زندگیاں بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ مُلک کی تعمیر و ترقّی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یاد رہے، موجودہ دَورمیں صرف ڈگری حاصل کرنا کافی نہیں رہا، بلکہ عملی مہارتوں اور فنی صلاحیتوں کا ہونا بھی ازحد ضروری سمجھا جاتا ہے۔ آج دُنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور روزگار کے تقاضے بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔ بہت سے نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بھی بےروزگار ہیں، کیوں کہ ان کے پاس عملی مہارتوں کی کمی ہے، جب کہ اس کے برعکس مختلف علوم وفنون سیکھنے والے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع زیادہ میسّر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج دُنیا بَھرمیں فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
بلاشبہ کوئی بھی ہُنر سیکھنے سے نوجوانوں میں خُود اعتمادی بھی پیدا ہوتی ہے کہ جب کوئی نوجوان کمپیوٹر پروگرامنگ، گرافکس ڈیزائننگ، موبائل فون ریپئرنگ، پلمبنگ یا دیگر فنی مہارتیں سیکھ لیتا ہے، تو وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے قابل ہوجاتا ہے اور اس کے نتیجے میں وہ ملازمت تلاش کرنے کی بجائےخُود روزگار کے مواقع پیدا کرسکتا ہے۔
جدید دَور میں ڈیجیٹل اِسکلز خصوصی اہمیت کی حامل ہیں۔ آج فِری لانسنگ، ویب ڈویلپمنٹ، ویڈیو ایڈیٹنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور مصنوعی ذہانت سے متعلق مہارتیں نوجوانوں کےلیےآمدنی کے نِت نئے دروازے کھول رہی ہیں اور انٹرنیٹ کی بدولت آج ایک نوجوان گھر بیٹھے دُنیا کے کسی بھی مُلک کے لیے کام کر کے معقول آمدنی حاصل کرسکتا ہے۔ فنی تعلیم کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے غُربت اور بےروزگاری میں کمی واقع ہوتی ہے۔
جب نوجوان ہُنر مند بن جاتےہیں، تو وہ معاشی طور پرخُود کفیل ہوجاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں خاندانوں کا معیارِ زندگی بہتر ہوتا ہے اور معاشرے میں خوش حالی فروغ پاتی ہے۔ ترقّی یافتہ ممالک کی کام یابی کا اہم راز بھی یہی ہے کہ وہاں فنی اور تیکنیکی تعلیم کو رسمی تعلیم کے برابر اہمیت دی جاتی ہے۔
دوسری جانب ہنرمندی نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتیں بھی اُجاگر کرتی ہے۔ ایک ہنرمند نوجوان نہ صرف مسائل کا بہترحل تلاش کرسکتا ہے، نِت نئی ایجادات و اختراعات کے ذریعے معاشرے کی ترقّی میں اپنا حصّہ بھی ڈال سکتا ہے۔
واضح رہے، نوجوانوں کے لیے مختلف فنی مہارتیں سیکھنے کی اہمیت کے پیشِ نظر ہرسال دُنیا بَھر میں 15جولائی کو ’’ورلڈ یُوتھ اِسکلز ڈے‘‘ بھی منایا جاتا ہے۔ اس دن دُنیا بَھر میں نوجوانوں کو باروزگار بنانے کے لیے ہُنر سیکھنے کی اہمیت پر زور دیا جاتا ہے اور اس ضمن میں مختلف سیمینارز، ورک شاپس اور آگہی پروگرامز بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔ ان اِسکلز یا فنی مہارتوں کو تین اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں ٹیکنیکل اِسکلز، سافٹ اِسکلز اور اینٹرینیوشپ اِسکلز شامل ہیں۔
ٹیکنیکل اِسکلز میں آئی ٹی، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور گرافکس ڈیزائننگ وغیرہ شامل ہیں۔ سافٹ اِسکلز، کمیونی کیشن اِسکلز، لیڈرشپ اِسکلز اور ٹائم مینجمینٹ اِسکلز کا احاطہ کرتی ہیں، جب کہ اینٹرپرینیورشپ اِسکلز یں بزنس پلاننگ، سیلزاینڈ مارکیٹنگ اور فنانشل مینجمینٹ وغیرہ شامل ہیں۔
یاد رہے، آج مصنوعی ذہانت، آئی ٹی اور سوشل میڈیا سے وابستہ مختلف اِسکلز کا دُرست استعمال نوجوانوں کو گھر بیٹھے صاحبِ ثروت بنا سکتا ہے، نیز ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ گرچہ آج جیسی ’’گلا کاٹ مسابقت‘‘ ماضی میں نہیں تھی، لیکن آج جیسے ترقّی کے مواقع بھی اس سے قبل میسّر نہ تھے۔
موجودہ دَور میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ، کانٹینٹ کری ایشن، ویڈیو ایڈیٹنگ، اینیمیشن، اے آئی اور آن لائن کمیونی کیش ٹُولز سیکھ کر نوجوان یوٹیوب چینل، انسٹا گرام اور فیس بُک سمیت دیگر آن لائن پلیٹ فارمز سے پیسا کما سکتے ہیں۔
دوسری جانب ان دِنوں اقوامِ متّحدہ بھی دُنیا بَھر کے نوجوانوں کو ہُنرمند بنانے کے لیے سرگرمِ عمل ہے اور اس ضمن میں بہت سے اسٹارٹ اپ کورسز بھی کروائے جاتے ہیں اور اگر کوئی نوجوان قابلِ عمل کاروباری آئیڈیا پیش کرے، تو اُسےاپنا کاروبار شروع کرنے کے لیےقرض بھی فراہم کیا جاتا ہے، جس سے وہ اپنا کاروبار شروع کرکے ایک کام یاب بزنس مین بن سکتا ہے۔
اس وقت پاکستان میں جتنے افراد بھی مختلف اِسکلز کی فیلڈ میں نمایاں مقام حاصل کرنے کے بعد دوسروں کی رہنمائی کررہے ہیں، اُن میں سے زیادہ تر ذاتی کوششوں ہی سے اس مقام تک پہنچے ہیں۔ آج نِت نئے علوم و فنون نہایت سرعت سے ترقّی کررہے ہیں۔ گرچہ پاکستان میں بھی حکومت کی جانب سےمختلف یُوتھ اِسکلز پروگرامز متعارف کروائے گئے ہیں، لیکن ان میں سے بیش تر نوجوانوں کی دِل چسپی کے مطابق نہیں ہوتے۔
نیز، ان کی تکمیل کے بعد نوجوان اس قابل بھی نہیں ہو پاتے کہ کہیں انٹرن شپ ہی کر سکیں، جب کہ عالمی سطح پر یہ کورسز کروانے کا مقصد یہ ہوتاہےکہ بےروزگار نوجوانوں کو مختلف ہُنرسکھا کر اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جائے، تاکہ وہ ایک باعزّت شہری کی زندگی گزارنے کے علاوہ مُلکی معیشت میں بھی اپنا کردار ادا کرسکیں۔
موجودہ دَور میں ایک جانب اقوامِ عالم تعلیم اور روزگار کے مابین فرق ختم کرنے کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہی ہیں، تو دوسری طرف تیز رفتار تیکنیکی ترقّی اور اقتصادی ترجیحات میں تبدیلی نے نوجوانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ آیا وہ تعلیم کے میدان میں طویل جدوجہد کرکے نام اور پیسا کمائیں یا پھر کسی ہُنر یا کاروبار کے ذریعے اپنی عملی زندگی کا آغاز کریں۔
پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصّہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور اگر آبادی کے اس بڑے حصّے کو معیاری فنی تعلیم فراہم کی جائے، تو یہ مُلک کی سب سے بڑی طاقت ثابت ہوسکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ سرکاری اورنجی سطح پر فنی تربیتی مراکز قائم کیے جائیں، جدید کورسز متعارف کروائے جائیں اور نوجوانوں کو مختلف ہنر سیکھنے کی ترغیب دی جائے۔