• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مرتب: محمّد ہمایوں ظفر

رشتے زندگی کا قیمتی اثاثہ، خاندان کی پہچان، شناخت ہوتے ہیں اور اگر ان رشتوں میں خلوص و محبّت اور احساسات و جذبات کے عناصر شامل ہوں، تو وقت کی سختیوں میں بھی نہیں مرجھاتے، بلکہ اپنی خوشبو، رنگ اور تازگی سے زندگی کو بہار بخشتے رہتے ہیں۔ نیز، کچھ ایسے رشتے خاندان بھر میں خاص اہمیت کے بھی حامل ہوتے ہیں، زندگی کے کسی بھی معاملے میں اُن کے مشورے کے بغیر آگے بڑھنا مشکل نظر آتا ہے۔

ایسا ہی ایک پیار بھرا اٹوٹ رشتہ، ہمارا سلیم ماموں سے تھا۔ وہ ہم سب کے ماموں ہی نہیں، پکّے دوست بھی تھے۔ وہ انتہائی مہذب، ملن ساراور خوش گفتار ہونے کے ساتھ خوب رُو اور جاذبِ نظر، بلا کے ذہین اور ہر موضوع پر دست رس رکھتے تھے۔ جدید تراش خراش کا نفیس لباس، اُن کی شخصیت کو مزید پُرکشش بنادیتا تھا، وہ لباس کو جمالیاتی ذوق کا آئینہ دار کہا کرتے تھے۔

ہر محفل کی جان سمجھے جاتے اور اُن سے ملنے والا شخص پہلی ہی ملاقات میں اُن سے متاثر ہوجاتا۔ مختصر یہ کہ ہم نے اُن کی طرح ذہانت واخلاقیات کا امتزاج بہت ہی کم لوگوں میں دیکھا۔ وہ کسی بھی سامع کے صرف ایک جملے سے جھٹ پٹ ایک تخیّلاتی کہانی تخلیق کرلیتے، جس میں مزاح کا تڑکا اور دل چسپی کا بھرپور عنصر شامل ہوتا۔

ماموں کا ایک غیر معمولی ہُنر یہ تھا کہ وہ روتے ہوئے بچّوں کی آنکھوں کی نمی اور آنسوئوںکو قہقہوں میں بدل دیتے، مسکراہٹوں کی نرم میٹھی پھوار اور قہقہوں کی بارش سے ماحول کو خوش گوار بنادیتے۔ گھر بھر کے بچّوں کے ساتھ ماموں کی بڑی گاڑھی چھنتی، اُن کی ہر چیز ہماری تھی اور ہم سب کی چیزوں میں ماموں کا حصّہ ضرور ہوتا۔

وہ بچّوں کے ساتھ کھیلتے تو محبّت اور شفقت کی چاشنی اور بذلہ سنجی کے امتزاج کے ساتھ ایک معصوم اور پیارا سا بچّہ بن جاتے۔ کھانے پینے کے بے حد شوقین تھےاور کھانے کو محض کھانا نہیں، بلکہ ایک فن کا اظہار سمجھتے اور اس فن کے سچّے قدردان بھی تھے۔

مختصر یہ کہ ماموں ہماری زندگی میں بہار کی مانند تھے، وہ ہم سے کبھی جدا بھی ہوجائیں گے، اس کا ہم نے کبھی تصوّر بھی نہیں کیا تھا، مگرجب ایک دن اچانک ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر راہئ ملک عدم ہوئے، تو ہم اُسی وقت جدائی کے اصل مفہوم سے آشنا ہوئے۔ بلاشبہ، ماموں کا اچانک بچھڑنا ایک ایسا صدمہ ہے، جس کا مداوا ممکن نہیں۔ مگر ایسے کڑے وقت میں صبر کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہوتا۔ بس، اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ ماموں کو جنّت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ (روبینہ شاہد، کراچی)

سنڈے میگزین سے مزید