مرتب: محمّد ہمایوں ظفر
ماں، محبت و شفقت، ایثار و قربانی اور صبر و برداشت کا دوسرا نام ہے، جو اولاد کے لیے دنیا کی سب سے بڑی نعمت، ٹھنڈک ہی ٹھنڈک ہے۔ یہ وہ پیاری ہستی ہے، جس کا گھنیرا سایہ اولاد کو رنج و غم سے محفوظ رکھتا ہے، جو اپنی راحتیں، خوشیاں قربان کر کے اولاد کا دامن خوشی و مسّرت سے بھر دینا چاہتی ہے۔ بلاشبہ، ماں اللہ تعالیٰ کی محبّت کا ایک روپ، دنیا کا سب سے بہترین تحفہ اور کائنات کا سب سے مخلص رشتہ ہے۔
میری والدہ شریفن بیگم، ایک کم گو اور اپنے کام سے کام رکھنے والی خاتون تھیں۔انھیں اس دارِ فانی سے کوچ کیے چھےبرس بیت گئے، مگر آج بھی ان کی کمی شدّت سے محسوس ہوتی ہے۔ بچپن میں اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلانا، اسکول بیگ تیار کرنا، روز مرّہ کے دیگر معمولات بحسن و خوبی انجام دینا اُن کا معمول تھا۔
نیز، رشتے داروں اور ہمسائیوں سے اخلاق سے پیش آنا،ہر کسی کی خوشی غمی میں شریک ہونا، خصوصاً بچّوں کی تعلیمی سرگرمیوں پر نظر رکھنا، اُن کے مزاج کا حصّہ تھا۔ آج اُن کے دنیا سے جانے کے بعد اُن کی باتیں، اُن کے ساتھ گزرے لمحات بہت یاد آتے ہیں۔
مَیں نے 1998ء میں گریجویشن کا امتحان پاس کیا، تو بے حد خوش ہوئیں، بے پناہ دُعائیں دیں اور یہ ان ہی دعاؤں کا نتیجہ ہےکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ترقی و کام رانی سے نوازا۔ ان کی گفتگو محض عام بات چیت نہیں ہوتی تھی، وہ ہمیشہ حکمت و دانائی اور اصلاحِ احوال پر مبنی ہوتی۔ ہر بات میں نصیحت کا پہلو ضرور ہوتا۔ خاص طور پرہمیں اس بات کی تلقین کرتیں کہ اپنے کام سے کام رکھو، کسی کی غیبت نہ کرو، لوگوں سے حُسنِ اخلاق سے پیش آؤ۔
ہمیں اُن کی ٹھنڈی چھائوں میں رہنے کی عادت ہوگئی تھی، اُن کے بغیر جینے کا تصوّر بھی نہیں کرسکتے تھے، مگر بلاشبہ دنیا کی سب سے بڑی سچّائی موت ہے۔ ہر شخص کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہےاور 20؍ستمبر 2020ءکو مختصر علالت کے بعد ہماری والدہ بھی اچانک راہئ ملکِ عدم ہوگئیں۔
سچ تو یہ ہے کہ ہم موت کی اٹل حقیقت کے مفہوم سے تب ہی آشنا ہوئے۔ آج بھی والدہ کی بہت شدّت سے آتی ہے، اُن کی بے پناہ کمی محسوس ہوتی ہے۔ اللہ پاک ہماری والدہ کی مغفرت فرماکر اپنے جوارِ رحمت میں بہترین جگہ عطا فرمائے۔(آمین) (فیصل کان پوری، ناظم آباد،کراچی)