مرتب: محمّد ہمایوں ظفر
میرے والد، سیّد نظام الدین، قیامِ پاکستان سے قبل بھارت کے صوبہ بہار کے ایک گاؤں میں قیام پذیر تھے۔ وہ بانئی پاکستان سے بہت متاثر تھے اور انہوں نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں بھی حصّہ لیا۔ اُن ہی دنوں بانئ پاکستان، قائدِ اعظم علی جناح کو شیروانی پہنائی گئی، تو اُن کی تقلید میں انھوں نے بھی شیروانی سلوائی۔
قیامِ پاکستان کے بعد ہجرت کر کے مشرقی پاکستان چلے گئے اور نئے سرے سے زندگی شروع کی۔ وہ صبح سات بجے سے رات گئے تک ملازمت کرتے۔ میری والدہ صالحہ خاتون، ایک گھریلو خاتون تھیں، مگر گھر کو ایک بار پھر کھڑا کرنے میں انھوں نے اپنے شوہر کی بھرپور مدد کی۔
وہ گھر کے کچھ صحن میں گیہوں سُکھاتیں اور شوہر کے ساتھ مل کر اُسے بوریوں میں بھرتیں۔ زندگی کی گاڑی رواں دواں تھی کہ اسی دوران مشرقی پاکستان میں عصبیت، نفرت اور تعصب کی آگ بھڑکی اور سقوط ڈھاکا کا سانحہ پیش آگیا، جس کے نتیجے میں ایک بار پھر میرے والدین دوسری ہجرت پر مجبور ہوئے اور پاکستان کے شہر کراچی آگئے۔ کراچی آنے کے بعد والد اپنے دوستوں کے ساتھ جب گورنر اور وزیروں، مشیروں سے ملنے جاتے تو مجھے بھی ساتھ لے جاتے تھے۔ اس طرح انہوں نے میری گرومنگ کی۔
یہ سچ ہے کہ ماں کی بے لوث محبّت و ممتا دنیا کی سب سے بڑی نعمت اور اولاد کے لیے باعثِ سکون و اطمینان ہے۔ مَیں جب گھر لوٹتا اور ماں کے پیار بھرے چہرے پر نظر پڑتی، تو تمام تھکن لمحوں میں دُور ہو جاتی۔ ماں کے بے غرض پیار اور قربانیوں کے حوالے سے یوں تو بے شمار واقعات مجھے ازبر ہیں، مگر اُنھیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک واقعہ نذرِ قارئین کر رہا ہوں۔ ایک روز رات ایک بجے مَیں رکشے سے گھر پہنچا۔ باہر کے کمرے میں روشنی تھی۔
جب اندر گیا، تو کرسی پہ اّماں بیٹھی بیٹھی سو رہی تھیں۔ میری آہٹ سے اُٹھ گئیں۔ خوابیدہ آنکھوں سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’آگئے، یونی ورسٹی کے بعد کہیں اور چلے گئے تھے؟‘‘ مَیں نے مختصراً جواب دیا۔ ’’جی امّاں! کئی میٹنگز تھیں، اخبارات کے دفاتر بھی جانا تھا۔‘‘ کہنے لگیں۔ ’’کپڑے بدل لو، میں کھانا نکالتی ہوں۔‘‘ لیکن میں یہ کہہ کر ہاتھ منہ دھونے باتھ روم چلا گیا کہ ’’باہر سے کھانا کھاکر آیا ہوں۔‘‘ تھوڑی دیر بعد باتھ روم سے باہر نکلا تو وہ اسی طرح وہیں بیٹھی تھیں۔
پھر اُن سے چند منٹ اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد یہ کہتے ہوئے بستر پہ دراز ہوگیا کہ ’’امّاں! مجھے صبح چھے بجے اُٹھا دیجیے گا، آٹھ بجے کی ٹرین سے اسلام آباد جانا ہے۔‘‘ اس کے بعد گہری نیند میں چلا گیا اور مجھے خبر نہیں کیا ہوا۔ حسبِ معمول چھے بجے امّاں اخبار میرے منہ پر رکھ کر چلی گئیں۔ مَیں ہر صبح اسی طرح اُٹھایا جاتا تھا۔
سرسری طور پر اخبار پر نظر ڈالنے کے بعد تیار ہوکر کمرے میں واپس آیا، تو میرا سفری بیگ تیار تھا اور امّاں ناشتا لیے کھڑی تھیں، لیکن مَیں نے گھڑی دیکھتے ہوئے بڑی عجلت سے کہا ۔’’نہیں امّاں! ناشتا نہیں کروں گا، دیر ہوجائے گی۔‘‘ لیکن وہ بھی کہاں رُکنے والی تھیں۔
مَیں سفر میں اپنے ساتھ لے جانے والی دیگر اشیاء سمیٹ رہا تھا، بالوں میں کنگھی کر رہا تھا اور وہ میرے منہ میں نوالے ڈالے جارہی تھیں۔ پھر مَیں نے جلدی سے بیگ اٹھایا اور باہر چلا گیا۔ نہ گلے ملا نہ خدا حافظ کہا۔ ٹرین چلتے ہی اوپری برتھ پر لیٹ گیا۔ بیگ سر کے نیچے رکھا، تو کچھ گرم محسوس ہوا۔ اُٹھ کر کھولا تو ضرورت کی سب اشیاء تھیں، اور ایک ناشتا دان، جس میں گرم گرم کھانے۔
میری آنکھوں سے دو قطرے نکل کر زمین پر گرے۔ اب اُن کا تصوّر کرکے تڑپ اُٹھتا ہوں کہ بس وہ ماں ہی تھیں، اُن کے جیسا کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ آج قدم قدم اُن کی کمی محسوس کرتا ہوں۔ اے کاش! مائیں جدا نہ ہوتیں یا پھر اُن کے دوبارہ مل جانے کی کوئی سبیل ہوتی۔ جی چاہتا ہے، کبھی ایک بار مل جائیں، تو بے حساب باتیں کروں۔ اُن کی زندگی میں کبھی ساتھ بیٹھنے کی فرصت ہی نہیں ملی۔ اب کس قدر پچھتاتا ہوں، بتا نہیں سکتا۔ (احتشام ارشد نظامی، شکاگو)