• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

مسئلہ کشمیر: عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا

مسئلہ کشمیر ایک اہم نازک اور فیصلہ کن موڑ میں داخل ہو چکا ہے اس موقع پر بھرپور کوشش کرنی چاہیے کہ ہندوستان کے ان عزائم کو ناکام بنانے کے لیے انٹرنیشنل فورمز پر اپنی بھرپور آواز دنیا تک پہنچائیں اور بھارت کے مکروہ چہرے سے رنگین نقاب اتار پھینکیں مقبوضہ کشمیر کے عوام اس وقت ایک سنگین صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں اور وہاں بھارت کی ریشہ دوانیاں اور انسانی حقوق کی پامالیاں عروج پر ہیں ایسی صورتحال میں عالمی برادری کے ساتھ مل کر مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کو رکوانے کے لیے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا اور بھارت کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانا ہوگا۔ 

اس وقت اہم کام کشمیریوں کی نسل کشی کو رکوانا ہے ہندوستانی آرمی سرچ آپریشن کے نام پر نہتے کشمیری نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کیا جارہا ہے ایک طرف کشمیریوں کی نسل کشی اور دوسری جانب ہندوستان کے لوگوں کو ریاست میں آباد کرکے آبادی کا تناسب تبدیل کرکے مسلم اکثریتی آبادی کو اقلیت میں تبدیلی کی کوششیں کر رہا ہے گزشتہ دنوں پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں نے مقبوضہ کشمیر کی عوام کے حق میں مسلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے ایک ریلی نکالی جس میں صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار قیوم نیازی سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان سردار عتیق احمد خان سابق صدر و وزیراعظم سردار یعقوب خان عبدالرشید ترابی حریت کانفرنس اور دیگر سیاسی جماعتوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ 

جس کے اختتام پر مقررین نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا جس میں سب سے اہم بات سابقہ وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کی تھی کہ آزاد کشمیر کی حکومت کے تحریک آزادی کے حوالے سے رول کا تعین کیا جائے انہوں اس بات کا اظہار وزیر اعظم عمران خان کی موجودگی میں آزاد جموں و کشمیر جائنٹ سیشن سے 5اگست 2020 کو بھی کیا تھا آزاد کشمیر حکومت کو بین القوامی سطح پر مسئلہ کشمیر پیش کرنے کا حق دینے سے مسئلے کو پزیرائی مل سکتی ہے آزاد کشمیر میں جب مسلم لیگ ن کی حکومت تھی اس وقت کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے یورپی یونین کے ممبران سے ملاقاتیں کیں جس کے بعد یورپین پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر کو زیر بحث لایا گیا۔ 

جس پر ہندوستان کو خاصی خفت اٹھانا پڑی یورپین پالرلیمنٹ کے اراکین نے کھل کر کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر افسوس کا اظہار کیا عالمی رائے عامہ حاصل کرنے کیلیے ایسے پروگراموں کی اشد ضرورت ہے ہندوستان کا جھوٹ ہمارے سچ پر ہاوی نہیں ہو سکتا دنیا سچ کا ساتھ دے گی پاکستان کے سفارت خانے اپنا کردار اس طرح ادا نہیں کرسکے جس طرح کرنا چاہیے تھا اس اہم مرحلے پر اگر کشمیریوں کو موقع دیا جائے وہ بہتر طریقے سے اپنی نسلوں کی بقاء کا مسلہ پیش کر سکتے ہیں اس وقت پاکستان کے اندرونی اور سیاسی حالات اس قدر پیچیدہ ہوگے ہیں وہ کسی اور معاملات کو سوچنے سے قاصر ہے کبھی کبھار دفتر خارجہ سے کشمیر پر بھی پریس ریلیز جاری کردی جاتی ہے۔ 

اس سے بڑھ کر کشمیر پر کوئی پیش رفت نہیں ہورہی ۔ پاکستان کے پانچ بڑے دریاؤں کا منبع کشمیر ہے ان دریاؤں پر تمام بڑے ہائیڈل پروجیکٹ اور ڈیم ہیں پاکستان کی توانائی اور آبپاشی کا انحصار کشمیر پر ہے ہندوستان ان دریاؤں کے حوالے سے انتہائی خطرناک عزاہم رکھتا ہے وولر بیراج دریائے جہلم پر ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہ مولا میں بنایا ہے جو کئی مرتبہ مجاہدین نے تباہ کیا اس طرح کے اور بہت پراجیکٹس ہندوستان کے پلان کا حصہ ہیں جو محض جاری تحریک آزادی کی وجہ سے شروع نہیں ہوسکے ورنہ ہندوستان کئی دریاؤں کا رخ موڑ چکا ہوتا وہ ویسے ہی پاکستان کی معشیت کو تباہ کرنے کے درپے ہے مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کی عوام نے 75سالوں سے تکمیل پاکستان کی جنگ لڑی ہے کشمیر کی غالب اکثریت ریاست کا مستقبل پاکستان سے جوڑنا چاہتی ہے ہندوستان کی آٹھ لاکھ فوج کی موجودگی میں ہندوستان کے اہم قومی ایام پر پاکستان کاپرچم لہرا کر ایسے سلامی دی جاتی ہے۔ 

یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور کشمیر کے درمیان لازوال رشتہ ہے پاکستان کی عوام نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو زندگی و موت مسئلہ سمجھا ہے حکومتوں نے بہت مواقعوں پر اپنی موقف میں تبدیلی لائی لیکن عوام کا موقف ایک ہی رہا حکومت پاکستان اور پالیسی ساز اداروں کو تمام پہلوؤں پر غور وفکر کرتے ہوئے حکمت عملی کو اپناتے ہوئے تحریک آزادی کشمیر کو اجاگر کرنے کیلئے حکومت آزادکشمیر کے رول کا تعین کریں اور کشمیریوں پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں اپنی آزادی کی جنگ بین القومی سطح پر خود لڑنے کا موقع دیا جائے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید