• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

سندھ حقوق مارچ: پی ٹی آئی نے ہدف حاصل لرلیا؟

پی ٹی آئی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے شور میں پی ٹی آئی کا حقوق سندھ مارچ اختتام کو پہنچا سندھ کے مختلف اضلاع ہوتا ہوا مارچ جب کراچی میں داخل ہوا تو پی ٹی آئی کے کارکنوں نے مارچ کا پرجوش استقبال کیا مارچ کے اختتام پر کراچی کے علاقے قائدآباد میں پارٹی کے وائس چیئرمین مخدوم شاہ قریشی، وفاقی وزیر علی زیدی، مبین جتوئی اور دیگر نے کہ سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ سندھ میں جاری قتل وغارت گری کا فوری سوموٹو ایکشن لیا جائے اور اس معاملے پر فوری عدالتی کمیشن بنایا جائے۔

وزیراعلی مراد علی شاہ کے خلاف دوہری شہریت کے مقدمہ کی سماعت جلد مقررکی جائے۔آصف علی زرداری کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کا کیس جلد کھولاجائے،سندھ کے عوام 15 سال سے پیپلزپارٹی کے اقتدارسے مایوس ہوگئے ہیں۔ پیپلزپارٹی نے سندھ میں بھٹو کی سیاست کو دفن اور زرداری کی سیاست کورائج کیا ہے۔ سندھ کا 14 سوارب روپے پیپلزپارٹی کے جیبوں میں گیا ہے، سندھ کے بلدیاتی نظام کومسترد کرتے ہیں۔ سندھ میں بااختیار بلدیاتی نظام تشکیل اور ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی کو فوری ہٹایا جائے۔

صوبے میں مالیاتی ایوارڈ ضلعی سطح پر نافذ اور پولیس میں جعلی بھرتیوں کا سلسلہ بند کیا جائے، سندھ میں صحت کارڈ جاری کرنے کی اجازت دی جائے۔ آرکریں گے پارکریں گے ، تیرکے ٹکڑے چارکریں گے۔ 2023 میں سندھ میں تحریک انصاف کی حکومت ہوگی۔ کراچی کے لوگ تیار ہوجائیں تحریک انصاف سندھ کوزرداری مافیا سے نجات دلائے گی۔پی ٹی آئی نے اس موقع پر چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرتے ہوئے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ میں لوکل گورنمنٹ کے معاملے پر نئی قانون سازی کی جائے۔ایک غیر سیاسی اور غیر جانبدار شخص کراچی کا ایڈمنسٹریٹر تعینات کیا ہے۔

پی ایف سی ایوارڈ کا فوری اعلان کیا جائے۔ سندھ پولیس کے محکمے میں سیاسی مداخلت بند کی جائیں ۔سندھ کے عوام کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا جائے۔ حیدرآباد یونیورسٹی کے لیے این او سی جاری کی جائے۔ کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کا بہتر منصوبہ دیا جائے۔سندھ کے ہر شہری کو ہیلتھ کارڈ کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو یقینی بنایا جائے۔

پی ٹی آئی کے سندھ حقوق مارچ کو عوامی شرکت کے حوالے سے تاریخی نہیں کہا جاسکتا یہ مارچ سندھ میں کارکنوں کو متحرک کرنے کے لیے کیا گیا، مارچ کے اہداف مقرر نہیں تھے مہنگائی، بے روزگاری اور وفاق کی جانب سے کراچی کے عوام کو صرف وعدوں پر ٹرخانے کی وجہ سے مارچ وہ مقاصد اور عوامی توجہ حاصل نہیں کرسکا جس کی پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو امید تھی۔

سندھ حکومت کے ترجمان ومشیر قانون بیرسٹر مرتضی وہاب نے پی ٹی آئی کے مارچ کا ناکام قرار دیا اور کہا کہ کراچی سمیت سندھ بھر کی عوام نے پی ٹی آئی کے مارچ کومسترد کردیا ہے سندھ کے عوام پیپلزپارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں سندھ کے عوام نے پی ٹی آئی کے جھوٹے وعدوں کا حساب چکا دیا ہے۔

دوسری جانب پی پی پی کا مارچ سندھ سے ہوتا ہوا آگے بڑھ گیا ہے تحریر کی اشاعت تک مارچ اختتام پذیر ہوجائے گا تاہم یہ مارچ بھی سندھ میں عوام کی بھرپور توجہ حاصل نہیں کرسکا ادھر عدم اعتماد کی تحریک کا شور سندھ میں بھی سنائی دے رہا ہے حکومت کے اتحادی جی ڈی اے اور ایم کیو ایم حکومت سے خوش نہیں۔ 

وزیراعظم عمران خان کا اس ہفتے ان دونوں جماعتوں سے ملاقات کی توقع ہے کہاجارہا ہے کہ ایم کیو ایم حکومت کی اتحادی بن کرنقصان میں رہی حکومت کی تمام تر کارکردگی کا بوجھ ایم کیو ایم پہ بھی پڑے گا انہیں کابینہ میں مطلوبہ نمائندگی سے بھی محروم رکھا گیا تین برس تک حکومت کی ہاں میں ہاں ملانے کے باوجود وہ ناصرف کارکنوں پر سے مقدمات ختم کرسکے اور نا ہی سیاسی دفاتربحال کراسکے ایم کیو ایم نے بھی عدم اعتماد کی تحریک میں عندیہ دیا ہے کہ ان کا آپشن کھلا ہے اور وہ بھی گاہے بگاہےحکومت سے شکوے شکایت کرتے رہے ہیں۔ 

ادھر جماعت اسلامی کے تحت شہر میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائم، لوٹ مار کی وارداتوں میں معصوم لوگوں کے قتل، پولیس کی نااہلی، مجرموں کی سرپرستی کے خلاف اتوارکے روز شہر کے 50تھانوں کے باہر مظاہرے کیے گئے جس سے امراء اضلاع اور علاقوں کے ذمہ داران نے خطاب کیاجبکہ مرکزی مظاہرہ تھانہ نیو ٹاؤن کے باہر ہواجس سے امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن سکریٹری ضلع قائدین ولید احمد، ڈپٹی سکریٹریز بخت علی شاہ، نعمان حمید و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

مظاہرے کے شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے ہیں، شرکاء نے حکومت وپولیس کی ناقص کارکردگی کے خلاف زبردست نعرے لگائے، مظاہرے میں مردوخواتین سمیت بچوں نے بھی شرکت کی اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا، بینرز میں پھلتا پھولتا اسٹریٹ کرائمز ذمہ دار کون؟ وزیر اعلی جواب دو، آئی جی سندھ جواب دو، ڈکیتی اور اسٹریٹ کرائمز ختم کرو، کراچی کے عوام کو تحفظ دو، نااہل حکومت نااہل ادارہ سندھ پولیس، سندھ پولیس جرائم کی سرپرستی نہ کرے۔ 

جبکہ جماعت اسلامی کے امیرسراج الحق سندھ کے دورے پر ہے انہوں نے میٹاری میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پی ٹی آئی حکومت نا اہلی اور نالائقی کی وجہ سے عوام کی نظروں سے گر چکی،ساڑھے تین سالوں میں جھوٹے وعدے اور اعلانات بے نقاب ہو چکے۔حکومتی کشتی بری طرح سیاسی بھنور میں پھنس چکی قوم ظلم اور ناانصافی پر مزید خاموش نہیں رہے گی۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید