• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

مجرموں کے خلاف آپریشن، منشیات اور مضر صحت اشیاء برآمد

آئی جی سندھ پولیس مشتاق احمد مہر کی جانب سے امن و امان کی فضا کو بحال رکھنے اور معاشرتی برائیوں خاص طور پر گٹکا پان پراگ اور دیگر نشہ آور مصنوعات جو ہماری نوجوان نسل کو نقصان پہنچا رہی ہیں، ان کی ہر ممکن روک تھام کے لیے سخت اقدامات کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں اور ٹیمیں بھی بنائی گئی ہیں ان احکامات پر کہیں مکمل کہیں، کم عمل درآمد دیکھنے میں آرہا ہے۔ لیکن ایک سے ڈیڑھ سال میں کشمور اور شکارپور میں پولیس نے وہ کام یابیاں حاصل کیں، جو کئی دہائیوں میں پولیس حاصل نہیں کرسکی تھی، جب کہ سکھر میں اس وقت ڈاکوؤں جرائم پیشہ عناصر، منشیات فروشوں اور نشہ آور مصنوعات گٹکا چھالیہ کا کام کرنے والوں کے خلاف مختصر عرصے میں ریکارڈ کام یاب آپریشن کیے گئے ہیں۔ سکھر میں پولیس نے چند روز قبل بڑی کام یابی حاصل کی اور ایک گھر میں 25 لاکھ کی طلائی زیورات اور نقدی کی ہونے والی چوری کا 10 روز میں سراغ لگا کر ملزمان کو گرفتار اور مکمل طور پر مسروقہ سامان برآمد کرکے مالکان کے حوالے کیا، جو کہ قابل تحسین ہے ۔ 

پولیس کے مطابق شہر کے اہم ترین علاقے بندر روڈ تھانہ راؤ شفیع اللہ پولیس اسٹیشن کی حدود سے نامعلوم چور سلمان شریف کے گھر سے 25 لاکھ سے زائد مالیت کی چوری کرکے فرار ہوگئے تھے، چوری کی اس واردات کے فوری بعد ایس ایس پی سکھر سنگھار ملک نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور ملزمان کی فوری گرفتاری کے ساتھ مسروقہ سامان کی برآمدگی کے لیے ٹیمیں تشکیل دیں، ایک ٹیم کی سربراہی ایس ایچ او منصور حطار کررہے تھے ،جب کہ ٹیکنکل ٹیم اور مکمل آپریشن کی نگرانی ایس ایس پی نے خود کی ، اس دوران ایک پولیس مقابلے میں سدھیر نامی ملزم کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا، جس نے دوران تفتیش لاکھوں روپے کی اس چوری کے حوالے سے انکشاف کیا اور ساتھ ہی ملزمان کی نشاندہی بھی کردی ، جس پر پولیس نے روہڑی کے علاقے اچھی قبیوں میں کارروائی کے لیےخفیہ طور پر ملوث ملزمان کی نگرانی شروع کردی۔ 

پولیس کی آپریشنل تیاری مکمل ہونے کے بعد مختلف مقامات پر سادہ لباس پولیس اہل کاروں کو تعینات کیا گیا اور ملزم کی گرفتاری مسروقہ سامان کی برآمدگی کے لیے موثر حکمت عملی کے تحت پولیس نے کارروائی کی ، جس میں پولیس کو سوفی صد کام یابی حاصل ہوئی اور ایک ملزم سجاد کو گرفتار کرلیا، ملزم سجاد کے قبضے 25 لاکھ روپے سے زائد مالیت کا مسروقہ سامان طلائی زیورات نقدی برآمد کرلی گئی اور قانونی کارروائی کے بعد چوری شدہ طلائی زیورات نقدی مسروقہ مکمل سامان مالکان کے حوالے کردیا گیا، چند روز میں چوری کا سراغ لگانے اور طلائی زیورات نقدی برآمد کرنے پر نہ صرف متاثرہ خاندان نے خوشی کا اظہار کیا اور پولیس کمانڈر ان کی ٹیم کی کوششوں کو سراہا، بلکہ شہر کے تجارتی عوامی حلقوں نے بھی پولیس کی کارکردگی کو سراہا۔

پولیس کی بڑی کام یابیاں سماجی برائیوں کے خلاف جاری آپریشن میں ہوئیں، جس میں ایس ایس پی سکھر اور آپریشن کمانڈر سنگھار ملک کی سربراہی میں سکھر پولیس نے سماج دشمن عناصر کے خلاف گھیراؤ کیا اور شہر سے ملحقہ علاقوں میں قائم مختلف ٹھکانوں کو مسمار کرکے پولیس کیمپ قائم کیے گئے، شہر و گردونواح میں منشیات کے 7 متحرک گروہ کا قلع قمع کیا گیا اور 15 کروڑ سے زائد مالیت کی منشیات چرس مضر صحت چھالیہ برآمد کی گئیں، منشیات کے 55 مقدمات درج کرکے 67 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جن کے قبضے سے 160 کلو 800 گرام چرس ، ہیرؤن 1 ہزار گرام ، بھنگ 39 کلو 400 گرام اور 169 بوتلیں 13 لیٹر شراب اور 900 کچی شراب کے ڈرم برآمد کیے گئے ، مضر صحت نشہ آور چھالیہ کے 48 مقدمات درج کرکے 57 ملزمان کو گرفتار کیا گیا 33000 پیکیٹ وزن 7 ہزار 518 کلو 476 گرام برآمد کیے گئے. ملزمان سے مختلف کاروائیوں میں 3 کاریں ، 17مسروقہ موٹرسائیکل سمیت 6 دیگر گاڑیاں برآمد کی گئیں جو اصل مالکان کے حوالے کی گئیں، جوا ایکٹ کے تحت 16 مقدمات درج کرکے 99 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، ایس ایس پی سکھر کے مطابق ڈاکووں جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ ساتھ منشیات جوا اور معاشرتی برائیوں کا خاتمہ پولیس کی اولین ترجیح ہے۔

ایس ایس پی سکھر سنگھار ملک نے بتایا کہ گنجان آبادی والے علاقوں شہر کے اہم شاہ راہوں بازاروں مارکیٹوں میں پولیس کے 300 جوانوں پر مشتمل پیدل گشت پولیس فورس بھی قائم کی گئی ہے، جو جرائم پیشہ افراد پر کڑی نظر رکھے گی۔ پولیس کے اسلحے سے لیس یہ 300 جوان بازاروں گلیوں میں اور تنگ راستوں پرگشت کریں گے اور جرائم پیشہ عناصر پر کڑی نظر رکھی جائے گی اور مکمل طور پر قیام امن کو یقینی بنایا جائے گا، خاص طور پر رمضان المبارک میں مارکیٹوں میں خریداروں کا بہت زیادہ رش ہوتا ہے اور عید الفطر کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں، تو ایسے میں جرائم پیشہ عناصر خاص طور اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں انجام دینے والے جرائم پیشہ گروہ سرگرم عمل ہوجاتے ہیں، ایسے گروہوں کی مکمل بیج کنی کو یقینی بنانے میں موٹر سائیکل سوار ٹائیگر فورس اور پیدل فورس بہت زیادہ سود مند ثابت ہوگی۔ 

ڈاکوؤں کی سرکوبی اور شہری علاقوں میں جرائم اسٹریٹ کرائم کی واردتوں کا خاتمہ یقینی بنایا جائے گا، موٹر وے نیشل ہائی وے اور لنک راستوں پر مسافروں کے سفر کو محفوظ بنانے کے لیے پولیس کی 30 سے زائد چوکیاں قائم کی گئی ہیں، جہاں جدید اسلحے اور دیگر ضروری آپریشنل سامان کے ساتھ پولیس اہل کار تعینات کئے گئے ہیں اور پولیس پیٹرولنگ میں بھی اضافہ کیا گیا ہے ۔‘‘

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید