• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

روزہ افطار کرانے پر بے شمار اجر و ثواب کی نوید (گزشتہ سے پیوستہ)

ڈاکٹر حافظ محمد ثانی

حضرت زید بن خالد جہنیؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:جو شخص کسی روزے دار کو افطار کرائے تو روزے دار کے ثواب میں سے کچھ کمی کیے بغیر افطار کرانے والے کو اتنا ہی اجر وثواب ملے گا،جتنا روزے دار کو ملے گا۔ (ترمذی،ابن ماجہ)حضرت زید بن خالدؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی روزے دار کو افطار کروائے یاکسی مجاہد کا سامان سفر تیار کروائے تو اسے بھی اس کے مثل اجر ملے گا۔(بیہقی/ شعب الایمان)

رسالت مآبﷺ نے اس ماہِ مبارک کی عظمت و اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اس میں نیکیوں پر بے شمار اجر و ثواب کی نوید سناتے ہوئے روزے داروں کو روزہ افطار کرانے کی فضیلت اور اس پر ملنے والے اجر و ثواب سے آگاہ فرمایا ہے۔ روزہ افطار کرانے میں ہر فرد کی حیثیت کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ صحابہ کرامؓ کے عرض کرنے پر کہ یا رسول اللہﷺ! ہم میں سے ہر ایک تو اس کی استطاعت اور قدرت نہیں رکھتا کہ وہ روزے دار کو روزہ افطار کرا سکے؟ اس پر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ یہ اجر و ثواب اسے بھی عطا فرمائے گا،جو روزے دار کو دودھ کی تھوڑی لسی (شربت وغیرہ) یا پانی پلا دے (کیوں کہ اللہ کے یہاں نیت کا اجر ہے) رمضان المبارک میں روزہ افطار کرانے کا یہ عمل اور یہ روایت مسلم دنیا کے بیش تر علاقوں میں پوری شان و شوکت سے نظر آتی ہے، بالخصوص عرب دنیا اور خاص طور پر حرمین شریفین کے مقدس مقامات پر سحر و افطار کے بابرکت لمحات اور پرنور ساعتوں میں یہ مناظر عام دیکھنے میں آتے ہیں۔

وہاں اس کارخیر اور باعثِ اجر و ثواب عمل میں مسابقت کے مناظر عام نظر آتے ہیں۔ خوش قسمتی سے روزہ افطار کرانے کی یہ اسلامی روایت اب ہمارے ملک بھی عام ہوتی جارہی ہے۔ صاحب خیر اور اہل ثروت حضرات اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، روزہ افطار کرانا انفاق فی سیبل اللہ کا ایک اہم شعبہ ہے،اس میں لوگوں کو کھانا کھلانے اور پیاسوں کو سیراب کرنے کا عمل اور اس کا اجر و ثواب بھی شامل ہوجاتا ہے۔ 

غربت و افلاس،مہنگائی، بے روزگاری، معاشی بدحالی اور کئی دیگر عوامل کے باعث ہمارے معاشرے میں خود داری،عزت نفس، سفید پوشی اور اپنا بھرم قائم رکھنے کے اعلیٰ اخلاقی وصف کے حامل یہ افراد نہ دست سوال دراز کرتے ہیں اور نہ کسی سے امید لگاتے ہیں۔ انہیں اپنا مہمان بنانا اور انہیں افطار میں شریک کرنا باعثِ اجر و ثواب عمل اور ایک عظیم نیکی ہے۔ تاہم ایسے میں بندگان خدا کی عزت نفس اور خودداری کا پورا لحاظ رکھنا چاہیے، نیک کام اور نیکی تب ہی بارگاہ الہٰی میں مقبول ہے، جب وہ نام نمود، شہرت و ناموری اور ریاکاری جیسی بری صفات سے پاک ہو۔اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے اور نیت کا اخلاص اور ارادے کا پرخلوص ہونا نیک اعمال اور نیکیوں کی قبولیت کی بنیادی شرط ہے۔

ہر نیکی پر سات سو گنا اجر

حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:’’(رمضان میں) مومن کے ہر نیک عمل کے عوض دس سے سات سو گنا تک اجر و ثواب عطا کیا جاتا ہے۔ سوائے روزے کے کہ رب تعالیٰ فرماتا ہے، میرے بندے نے روزہ میرے لیے رکھا ہے، لہٰذا اس کا غیر محدود اجر و ثواب میں خود عطا کروں گا، کیوںکہ اس نے کھانے پینے اور خواہشاتِ نفسانی سب کو میرے لیے چھوڑا ہے۔‘‘ (بخاری،مسلم)

اقراء سے مزید