• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عبدالباسط

فرانسیسی فلسفی والٹیئرکا قول ہے کہ’’ عظیم لوگوں نے ہمیشہ جھونپڑوں میں زندگی بسر کی اور وہاں سے ہی ترقی کی راہوں پر آگے بڑھے۔‘‘ ایسا نہیں ہے کہ مشہور اور امیر لوگ کبھی مشکل حالات سے نہیں گزرے یا انہوں نے ناکامیوں کا سامنا نہیں کیا ہوتا، بس فرق یہ ہوتا ہے کہ وہ مشکل حالات سے پریشان ہو کر کوشش کرنی نہیں چھوڑتے، ہر وقت حالات کا رونا نہیں روتے ، کبھی وقتی ناکامی پر کف افسوس یا وقت ضائع نہیں کرتے۔ ہمیشہ مثبت و پر امید رہتے ہیں۔ مشکل سے مشکل حالات کا ہمت و استقامت سے مقابلہ کرتے اور محنت جاری رکھتے ہیں، بالآخر دنیا ان کے سامنے سر تسلیم خم کر لیتی ہے۔

علامہ اقبال نے فرمایا تھا’’ دنیا نہیں تنگ مردان جفاکش کے لیے‘‘ جفاکشی اور ریاضتیں عام سے غریب بچے کو دنیا کا امیر ترین انسان بنا دیتی ہیں۔’’لی کاشنگ ‘‘ 1928 میں چین میں پیدا ہوا۔ یہی بچہ بارہ سال کا تھا جب اس کے والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا، گھریلو ذمہ داریوں کا سارا بوجھ اس کے ناتواں کندھوں پرآن پڑا۔ باپ کی وفات کے بعد عزیز و اقارب ، دوستوں کی طرف دیکھنے کی بجائے زمانے کے حوادث سے نبرد آزما ہونے کا فیصلہ کیا۔

پرائمری تعلیم کو خیرآباد کہہ کر چھوٹے بہن بھائیوں کی خدمت کے لیے ذریعہ معاش تلاشنے لگا۔ اس نے جفاکشی کو سینے سے لگایا ،وہ بس اسٹینڈ اور مقامی بازاروں میں ’’واچ بینڈ‘‘ کا اسٹال لگا کر گھڑیوں کے پٹے بیچنے لگا۔ سرشام جب واپسی گھر لوٹتا تو سوداسلف سے کچھ روپے بچا کر رکھ لیتا۔اس کی والدہ بھی کفایت شعار تھیں ، بیٹے کی ہمت بندھاتی اور جذبہ و لگن سے محنت کی تلقین کرتیں۔ وہ پانچ سال تک اسی پیشے سے وابستہ رہا۔ یہاں تک کہ ہول سیلرز کی لسٹ میں شمار ہونے لگا۔ ہول سیلر بنا تو اس کی عمر فقط سترہ سال تھی۔ دن رات کی محنت سے غربت کے بادل چھٹنے لگے تو دل میں اپنی کمپنی بنانے کی خواہش نے انگڑائی لی۔ 1950میں کمپنی قائم کرنے کا عزم کیا، مگر سرمایہ کم تھا۔ 

محنت کرتے جائیں، آگے بڑھتے جائیں

یہ بھی پر امید، محنت پہ محنت کیے جارہا تھا۔ اپنے ویژن میں سچا اور مخلص تھا۔ اس نے جاننے والوں کچھ رقم ادھار لی اور کمپنی کی بنیاد رکھنے میں کام یاب ہوگیا۔ اس نے اپنی مینوفیکچرنگ کمپنی کو ترقی کی راہ پرگامزن کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ۔ باقاعدگی سے تجارتی خبریں پڑھتے کہ کیسے دنیا بھر میں پلاسٹک فلاورز اعلیٰ کوالٹی میں فراہم کیے جاسکتے ہیں، مسلسل تگ و دو سے ہر سمت، ہر زاویے سے سوچا آخر کار ماہر کاریگر ملے ، جو کام کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوئے۔ چند ہی برسوں میں کاروبار پھلتا ، پھولتا گیا اور یہ بڑا پلاسٹک فلاور سپلائر بن گیا۔ 

یہی یتیم اور غریب ان پڑھ بچہ مستقبل میں کام یاب بزنس مین بنا۔ تھوڑے ہی عرصے میں ان کا شمار ہانگ کانگ کی فلاحی شخصیت اورنام ور بزنس مین کے طور پرہونے لگا۔ کام یابی کا تصور محنت و مشقت، عزم ، حوصلہ، سادگی اور خلوص و استقامت اور دوام کے ساتھ ہے نہ کہ سرمائے کے ساتھ۔یاد رہے اگر کسی کے پاس سرمایہ نہیں ہے، تب بھی وہ کام یابی سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔ اس کی کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں ، سائنس دان’’ تھامس ایڈسن‘‘ اخبار فروش تھے، امریکی صدر’’ آئزن ہاور‘‘ بھی اخبار فروش تھے، اسی طرح معروف سائنسدان’’ مائیکل فیراڈے ‘‘غریب لوہار کے بیٹے تھے، امریکی صدر’’ ابراہم لنکن ‘‘غریب کسان کے بیٹے تھے۔

یونانی ارب پتی’’ ارسٹائل اوناسس‘‘ ہوٹلوں میں برتن دھوتے تھے۔ سابق صدر’’ جمی کارٹر‘‘ مونگ پھلی فروش کے بیٹے تھے۔ یہ تمام لوگ ان تھک محنت سے اس مقام تک پہنچے ہیں۔ بڑا آدمی بننے کے لیے بڑے آدمی کا بیٹا ہونا ضروری نہیں ہوتا، بلکہ محنت ، لگن اور ہمت و حوصلے سے کام کرناضروری ہوتا ہے۔ نوجوان دوستو! آپ بھی محنت کیجئے پھر دیکھئے کیسے عزت، دولت، شہرت آپ کے قدم چومتی ہے ہے۔ عزت و شہرت میں کمال محنت و استقامت سے حاصل ہوتا ہے نہ کہ فضول کاموں میں وقت گزارنے سے۔ تو آیئے آج سے عہد کیجئے کہ ہم ہر کام میں اس کا حق ادا کریں گے۔ محنت شاقہ و جہد مسلسل کوہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔ کیوں کہ محنت کے بغیر عروج حاصل نہیں ہوتا۔

متوجہ ہوں!

قارئین کرام آپ نے صفحۂ ’’نوجوان‘‘ پڑھا، آپ کو کیسا لگا؟ ہمیں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔ اگر آپ بھی نوجوانوں سے متعلق موضاعات پر لکھنا چاہتے ہیں، تو قلم اٹھائیے اور اپنی تحریریں ہمیں ضرور بھیجیں۔ ہم نوک پلک درست کر کے شائع کریں گے۔

نوجوانوں کے حوالے سے منعقدہ تقریبات کا احوال اور خبر نامہ کے حوالے سے ایک نیا سلسلہ شروع کررہے ہیں، آپ بھی اس کا حصّہ بن سکتے ہیں اپنے ادارے میں ہونے والی تقریبات کا مختصر احوال بمعہ تصاویر کے ہمیں ارسال کریں اور پھر صفحہ نوجوان پر ملاحظہ کریں۔ ہمارا پتا ہے:

انچارج صفحہ ’’نوجوان‘‘ روزنامہ جنگ،

میگزین سیکشن،اخبار منزل، آئی آئی چندریگر روڈ کراچی