• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امیروں کے ٹیکسوں پر نظرثانی، صاحب حیثیت کی کل آمدنی پر تاریخ میں پہلی بار ٹیکس لگائیں گے، حکومت 14 ماہ پورے کرے گی، حکومت

اسلام آباد(ایجنسیاں‘جنگ نیوز)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پہلے ریاست اور پھر سیاست کو اتحادی حکومت کی ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ شرائط طے پا گئی ہیں‘ اگر مزید شرائط نہ لگا دی گئیں تو اگلے چند دنوں میں معاہدہ ہو جائے گا‘حکومت کے باقی 14ماہ پورے کریں گے‘.

سابق حکومت کی سنگین غلطیوں سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، دوست ممالک کے ساتھ تعلقات خراب کئے‘ پی ٹی آئی حکومت نے چین اور آئی ایم ایف کو ناراض کیا‘.

آئی ایم ایف بھی کہتا ہے کہ سابق حکومت کی طرف سے کئے گئے معاہدے کی شرائط پوری کریں کیونکہ ہمیں آپ پر اعتبار نہیں ہے‘چین اور سعودی عرب کب تک ہماری مدد کریں گے‘ وہ بھی یہ سوچتے ہوں گے کہ پاکستان کب اپنے پاؤں پر کھڑا ہو گا‘ماضی میں جھانکنے اور رونے دھونے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا‘ ہمارا راستہ مشکل ضرور ہے ناممکن نہیں‘ابھی مشکلات آنی ہیں‘ ہمیں ہمت کرکے وہ فیصلے کرنا ہوں گے .

جن سے ملک خوشحالی کی جانب گامزن ہو‘آہستہ آہستہ کشکول توڑکر دم لیں گے ‘سابقہ حکمرانوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ 30 روپے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی اور 17 فیصد سیلز ٹیکس کا معاہدہ کیا لیکن عالمی منڈی کے مطابق قیمتیں بڑھانے کے وعدے پر عمل نہیں کیا اور اپنے کئے ہوئے معاہدے کی دھجیاں بکھیر دیں‘ ساڑھے تین سال قوم کو ایک دھیلے کا بھی ریلیف نہ دیابلکہ ملک کو مشکل میں ڈالا، موجودہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مجبوراً اضافہ کیا‘.

 لوڈ شیڈنگ پر قابو پائیں گے، پاکستان کھویا ہوا مقام جلد حاصل کر لے گا‘محصولات بڑھانے کیلئے امیروں کیلئے ٹیکسوں پر نظرثانی کی جائے گی‘صاحب حیثیت افراد کی کل آمدن پر تاریخ میں پہلی بار ٹیکس لگائیں گے ‘پریس کانفرنس میں ٹیکس کی شرح کا اعلان کروں گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو مسلم لیگ (ن) کے سینیٹرز سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ سابق حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاہدہ کیا اس پر عمل نہیں کیا‘سابق حکومت نے آئی ایم ایف کی تمام شرائط مان لی تھیں، آئی ایم ایف کے ساتھ 30 روپے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی اور 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کا معاہدہ کیا لیکن عالمی منڈی کے مطابق قیمتیں بڑھانے کے وعدے پر عمل نہیں کیا اور اپنے کئے ہوئے معاہدے کی دھجیاں بکھیر دیں، مارچ میں جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں زیادہ تھیں تو پی ٹی آئی حکومت نے تحریک عدم اعتماد میں اپنی شکست کو دیکھتے ہوئے اچانک قیمتیں کم کر دیں.

  پی ٹی آئی حکومت نے تیل کی مد میں کوئی رقم مختص نہیں کی اور نہ ہی کابینہ سے منظوری لی‘اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ آنے والی حکومت کیلئے جال بچھا کر جائے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں جھانکنے اور رونے دھونے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا، فیصلہ کر لیں کہ تاریخ کا رخ موڑنا ہے، پھر اﷲ تعالیٰ بھی ہماری مدد کرے گا، ملک کو بحران سے نکالنے کیلئے شبانہ روز محنت کریں گے، پاکستان آج مشکل وقت سے گزر رہا ہے۔

اہم خبریں سے مزید