• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

بلدیاتی انتخابات: کیا وزیراعظم اپنا وعدہ پورا کریں گے؟

سپریم کورٹ نے حکومت آزاد کشمیر کو بلدیاتی انتخابات جنوری تک مہلت دینے کی استدعا مسترد کردی گزشتہ سال حکومت نے اگست 2022 بلدیاتی انتخابات منعقد کروانے کی تاریخ دی تھی رواں ہفتے جب عدالت نے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کو بلدیاتی انتخابات کی اپ ڈیٹ دریافت کی تو سیکرٹری حکومت نے عدالت کو بتایا کہ ہمارے اہم لوگ پاکستان میں ہونے والی مردم شماری میں مصروف ہیں جنوری 2023 تک مہلت دیں لیکن عدالت نے حکومت کو اتنی لمبی مہلت دینے سے انکار کردیا اور ایک ماہ کے اندر بلدیاتی انتخابات کی تاریخ دینے کا حکم دیا۔ 

دوسری جانب الیکشن کمیشن کی جانب سے حکومت آزاد کشمیر کو بلدیاتی انتخابات کیلئے فنڈز کی فراہمی کیلئے تحریک کی جس کا حکومت کی جانب سے کوئی جواب موصول نہ ہونے پر دوبارہ مکتوب لکھنے کا فیصلہ کیا سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کو ابتدائی طور پر 30کروڑ کی گرانٹ کی فراہمی کردی ہے جبکہ الیکشن کمیشن نے 90 کروڑ روپے کی تحریک کی تھی عدالت نے حکم دیا ہے کہ ایک ماہ کے اندر بتایا جائے شیڈول کب جاری ہورہا ہے اب حکومت آزاد کشمیر مشکل میں پھنس گی ہے اگر عدالت کے حکم پر عملدرآمد نہیں ہوتا تو پھر توہین عدالت میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ 

دوسری جانب حکومت کے اندرونی حالات ایسے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات مشکل نظر آرہے ہیں حکومت فوری طور پر آزاد کشمیر میں بلدیاتی انتخابات کیلئے تیار نہیں بلدیاتی انتخاب سے قبل تحریک انصاف کے کارکنوں کی ناراضگی کا ازالہ کرنا ہے تحریک انصاف کے ورکر صوابدیدی عہدوں کی تقسیم پر پارٹی کی پالیسیوں سے ناراض ہے تحریک انصاف کی حکومت اس وقت تک بلدیاتی انتخابات کرانے کیلئے تیار نہیں ہوگی جب تک انہیں الیکشن میں کچھ حاصل نہیں ہوتا اس وقت تک بلدیاتی انتخابات ہونا نظر نہیں آرہے ماضی میں بلدیاتی انتخابات نہ ہونے کے پیچھے حکمران جماعت کے وزرائے حکومت تھے اس کی وجہ ترقیاتی فنڈز ہیں اگر بلدیاتی ادارے بحال ہوتے ہیں ترقیاتی فنڈز ممبران اسمبلی کے ہاتھ سے نکل جائیں گے پھر ترقیاتی فنڈز وارڈز کی سطح پر تقسیم ہونگے کونسلر کو ترقیاتی ملنے سے ایم ایل اے بے اختیار ہوجاتے ہیں اور چیرمین ضلع کونسل اور چیرمین یونین کونسل ممبر اسمبلی سے بھاری ہوگا۔ 

وزرائے حکومت سے زیادہ بااختیار چیرمین ضلع کونسل ہوگا جس کے ضلع میں چار سے پانچ ممبر اسمبلی ہوتے ہیں ممبران اسمبلی سے زیادہ اختیارات چیرمین ضلع کونسل کے ہونگے ایسی بنیاد پر حکومتی اراکین اسمبلی اور وزرائے حکومت بلدیاتی انتخابات میں رکاوٹ ڈالتے رہے ہیں سابقہ ن لیگ کی حکومت کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے جب بلدیاتی انتخابات کا فیصلہ کیا تو کابینہ کی اکثریت نے اپنے استعفے وزیر اعظم کو پیش کے جس پر وزیر اعظم کو بلدیاتی انتخابات کے معاملہ میں عدالت سے مہلت پر مہلت لیکر عام انتخابات کا وقت قریب آنے پر بلدیاتی انتخابات کو التوا میں ڈال دیا گیا وزیر اعظم سردار تنویر الیاس نے بجٹ سیشن میں اپنے خطاب میں عوام کی سہولت کیلئے بلدیاتی انتخابات کا وعدہ کیا ہے۔ 

اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیر اعظم کی کابینہ اس حوالے سے کتنی مخلص ہیں بلدیاتی انتخابات ہوتے ہیں یا نہیں حکمران جماعت کے ممبران اسمبلی کی نیند حرام کی ہوئی ہیں وزیر اعظم سردار تنویر الیاس نے مرکزی ایوان صحافت کی نئی تعمیر ہونے والی بلڈنگ کے افتتاح کے موقع پر آزاد کشمیر کے میڈیا کی جدید ترین سہولیات دینے کا وعدہ کیا پریس فاونڈیشن اخبارت کے اشتہارات کا بجٹ تین گنا بڑھانے کا اعلان کیا اور بجٹ میں یہ ساری مراعات شامل بھی کی ہیں اخبارات کے مالکان کو بھی کہا کہ وہ اپنے ورکرز کا خیال رکھیں مرکزی ایوان صحافت کی تقریب میں وزیر اعظم سردار تنویر الیاس نے ایک اور پنڈورہ بکس کھول دیاآزاد کشمیر میں نیشنلٹوں پر الزام لگایا کہ وہ بھارت کی خفیہ ایجنسی سے فنڈنگ لیکر یہاں حالات خراب کرنا چاہتے ہیں ان پر سخت پابندیاں لگانے کا کہا اور ایک جیل بنانے کی دھمکی دی جہاں انڈین بدنام زمانہ جیل، تہاڑ جیل جیسی سختیاں کی جائیں گی۔ 

جس پر آزاد کشمیر بھر سے وزیر اعظم کے اس خطاب پر میڈیا اور سوشل میڈیا پر مزاحمت دیکھنے کو ملی شدید تنقید کے بعد حکومت نے سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف تنقیدی پوسٹیں بند کرنے کیلئے کمشنر آفس سے سرکاری پریس ریلیز جاری کرنا پڑی کہ قومی اداروں، شخصیات، نظریات کیخلاف سوشل میڈیا پر تبصرہ اور کمنٹس کرنا قانونی اور اخلاقی جرم ہے جو کہ قابل گرفت ہے۔ لہذا سوشل میڈیا کے تمام ذرائع کو پروپیگنڈہ کرنے کے لیے استعمال کرنے والوں کے خلاف فوجداری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔غیر قانونی اور غیر اخلاقی پروپیگنڈہ کے ذمہ داران کو گرفتار کر کے عدالتوں کے روبرو پیش کیا جائے گا۔

ڈویژنل سطح پر مانیٹرنگ ٹیم مامور کردی گئی ہیں، آئندہ چوبیس گھنٹوں میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔ ترجمان کمشنر آفس مظفرآباد ڈویژن کے مطابق ایسے تمام لوگوں کی ڈیجیٹل شناخت کے تعین کرنے کی کی ٹیکینکل کپیسٹی موجود ہے۔ تمام وٹس ایپ گروپس،فیس بک سمیت دیگر سوشل میڈیا کے ذرائع پر اپنی آئی ڈیز یا نام بدل کر مختلف آئی ڈیز اور پیجز پر جو لوگ پروپیگنڈہ کرتے ہیں وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں ورنہ انہیں قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔

کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہے کوئی بھی نام بدل کر خفیہ آئی ڈی کے ذریعے قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکتا کمشنر آفس کی جانب جاری کردہ وارننگ کے بعد بیرون آزاد کشمیر یورپ امریکا سمیت دیگر ممالک میں مقیم کشمیریوں اور نیشنلٹوں کی جانب سے حکومت آزاد کشمیر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں منصوبہ بندی کے تحت کشمیریوں کی نسل کشی ہورہی ہے مسلم اکثریتی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے روزانہ کی بنیاد پر کام ہورہا ہے کشمیر کے دریاؤں کارخ موڑ کر پاکستان کو اقتصادی لحاظ سے کمزور کیا جارہا ہے کشمیری پاکستان کی بقاء کی جنگ لڑ رہے تھے پاکستان کی طرف بہنے والے دریاوں پر پیرا دیے رہے تھے کئی مرتبہ دریائے جہلم پر بھارت کی جانب سے بنایا گیا وولر بیراج کو تباہ کیا کشمیری پاکستان کو معاشی ترقی کی شاہراہ پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں۔

پاکستان کو اس وقت توانائی کے بحران کا سامنا ہے پاکستان کے پن بجلی کے تمام ہائیڈل منصوبے کشمیر سے بہہ کر آنے والے دریاؤں پر ہیں بھارت ان دریاؤں کا پانی روکنے کیلئے کوششوں میں مصروف ہے دریائے نیلم کا پچیس فیصد پانی روک لیا گیا ہے دریائے جہلم کے پانی پر تین بڑے بند بنائے ہوئے ہیں جن میں وولر بیراج سب سے بڑا بند ہے آئے روز جہلم کا پانی روک لیا جاتا ہے منگلا ڈیم جو پاکستان میں بڑا پانی کا ذخیرہ ہے اس سے پنجاب کا بڑا حصہ سیراب ہوتا ہے اگر بے حسی جاری رہی اس کے مستقبل پر سوالیہ نشان بنا ہوا ہے پاکستان کے مفاد کی خاطر کام کرنے والے اداروں کو اس حوالے سے سوچنا ہے گا بھارت پاکستان پر آبی جارحیت کرنے کی پلاننگ پر لگا ہوا ہے اس کی پیشگی منصوبہ بندی کی ضرورت ورنہ بہت دیر ہوجائے گی۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید