• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ دنوں حیدرآباد کے ہوٹل میں جھگڑے کے دوران نوجوان بلال کاکا کے قتل نے سندھی پٹھان نسلی فسادات کوجنم دیا، جو کراچی تک پھیل گیا۔ اور ہنگامہ آرائی کا مرکز سہراب گوٹھ میدان جنگ بن گیا۔ سہراب گوٹھ کے قریب مشتعل افراد نے شدید احتجاج کے دوران ہنگامہ ارائی کی، سٹرکوں پر ٹائرنذرآتش اورگاڑیوں پرپتھراؤ کیا،جس سے متعدد گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ مشتعل مظاہرین کے پتھراؤ سے ایک شخص جاں بحق ہوا ،مظاہرین نے آلا صف اسکوئر پر آنے اور جانے والی سڑک بند کردی، جس کے باعث ٹریفک پولیس نے ٹریفک کو سہراب گوٹھ سے ناگن چورنگی کی جانب موڑ دیا گیا، سڑک بند ہو نے سے ٹریفک جام ہو گیا اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں، الآصف اسکوائر آنے والے ٹریفک کو واپس براق پمپ سے بھیجا گیا۔ 

مشتعل افراد نے2 پولیس موبائلوں کو بھی گھیر لیا، اطلاع ملنے پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نےموقع پر پہنچ گئی۔ مظاہرین کا پولیس پر پتھراؤ، فائرنگ سےسپرہائی وے پر پھنسے شہری انتہائی خوف کا شکار رہے، خواتین ، بچے اور دیگر افراد بیچ راستوں میں پھنس گئے، جب کہ پولیس کی جانب سے کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آسکی، علاوہ ازیں مشتعل افرادنے رات گئے سچل گوٹھ کے کچھ ہوٹلوں کو بھی بند کرادیا تھا۔ 

 نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پُورےعلاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، اطلاعات کے مطابق ہنگامہ آرائی کے دوران کہیں کہیں قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع غائب بھی نظرآئےاور شہریوں کو لاوارث چھوڑ دیا گیا تھا۔ نامعلوم افراد نے سہراب گوٹھ بس اڈے پر ہوائی فائر نگ بھی کی، جس سے بھگڈرمچ گئی۔

بعدازاں رینجرز کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کرحالات کو قابو کرکے ٹریفک کو مکمل طور پر بحال کرا دیا، جب کہ 28 ہزار لیٹر والے آئل ٹینکر کوبھی جلنے سے بچالیا گیا، ہنگامہ آرائی کےنتیجےمیں 2 افراد جاں بحق، جب کہ فائرنگ، پتھراؤاور ڈنڈے لگنے سے متعدد افراد زخمی ہو گئے، اس دوران شر پسند عناصر نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سرکاری دفاتر اور پرائیوٹ املاک کو بھی نقصان پہنچایا اور بس ٹرمنل پر حملہ کر دیا، اس دوران پولیس نے شرپسندوں کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا، بھگڈراور ہاتھا پائی کے دوران ڈیوٹی پر تعینات سہراب گوٹھ کےاے ایس آئی تراب شاہ کا سرکاری نائن ایم ایم پستول اور اس کی 600 گولیاں اور سب مشین گن کی ساڑھے 700 گولیاں اور موبائل فون چھین لیا۔ 

پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے پولیس افسر کے چھینے ہوئے ہتھیار سے بھی فائرنگ کی، ذرائع کے مطابق ملزمان نے موٹر وے ایم نائن، سپر ہائی وے اور سروس روڈ پر کاروں، موٹر سائیکلوں اور دیگر گاڑیوں میں سواریوں اور راہ گیروں سے بھی لوٹ مار کی، پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر لیے ہیں۔ 

ڈی ایس پی سہراب گوٹھ سہیل فیض کا کہنا ہے کہ اسلحہ چھیننے والے ملزم کو شناخت کر لیا گیا ہے ، جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ گلشن معمار تھانے کی حدود ناردرن بائی پاس افغان بستی کے قریب نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے 2نوجوان عصمت اللہ ولد خان محمد اور رفیع ا للہ ولد جان محمد زخمی ہو گئے، جنھیں عباسی اسپتال منتقل کیا گیا، سہراب گوٹھ تھانے کی حدود الآصف اسکوائر میں گولی لگنے سے افغانی لڑکا 14سالہ رحمت اللہ ولد داواخان، بائیں ٹانگ میں گولی لگنےسےزخمی ہو گیا،جسے سول اسپتال منتقل کیا گیا ، سہراب گوٹھ تھانے کی حدود الاعظم اسکوائر کے قریب فائرنگ سےنوجوان 24 سالہ عبدالبشیر ولد عبدالقیوم زخمی ہو گیا، جسے عباسی اسپتال منتقل کیا گیا۔ اس دوران سوشل میڈیا نے بھی دل کھول کر افواہوں کا بازار گرم رکھا اور جلتی پرتیل چھڑکنےکا کام کیا، من گھڑت اورجھوٹی افواہیں پھیلا کرشہریوں کو مزید خوف زدہ کیے رکھا۔ 

سوشل میڈیا سے چلنے والی خبرجمالی کٹ کے قریب سے شرپسندوں کے ہاتھوں لڑکیوں کے اغواء کی جھوٹی افواہ سےشہریوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئےکراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو نے اس افواہ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے کسی بھی علاقے سے کسی لڑکی کو اغواء نہیں کیاگیا۔ 

اس حوالے سے ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ لڑکیاں خود ہی گھر سے گئی ہیں، لڑکیوں کے گھر سے چلے جانے کے معاملے کو لسانی فسادات سے نہ جوڑا جائے، پولیس لڑکیوں کے معاملے کی جامع تحقیقات کررہی ہے۔ کراچی پولیس چیف نےشہریوں سے اپیل ہے کہ وہ کسی بھی افواہ پر کان نہ دھریں، اس وقت سوشل میڈیا سے بے شمار افواہیں سرگرم ہیں، افواہ پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی، افواہیں پھیلا نے والوں کے خلاف پی ٹی اے اور پیمرا سے رابطہ کرکے کارروائی کریں گے۔ حالات قابو میں ہیں۔ 

ایڈیشنل آئی جی کراچی کی ہدایات پر ایس ایس پی ایسٹ کا تینوں ڈویژن کے ایس پیز اور تھانوں کی موبائلوں کے ہمراہ سپر ہائی وے سمیت متاثرہ علاقوں میں فلیگ مارچ کیاگیا، سہراب گوٹھ کے مختلف علاقوں میں پرتشدد احتجاج کے حوالے سےڈسٹرکٹ ایسٹ پولیس کی بھاری نفری سہراب گوٹھ کے علاقے میں داخل ہو گئی۔ شرپسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران پولیس نے 3 مقدمات درج کرلیے۔ 

سہراب گوٹھ تھانے اور سچل تھانے میں دہشت گردی کے 2 مقدمات درج ہوئے ہیں ، جب کہ ایک مقدمہ مبینہ ٹاؤن تھانے میں زبردستی دُکانیں بند کرانے والوں کے خلاف درج کیا گیا ۔اس دوران پولیس نے 160 سے زائد افراد کو پوچھ گچھ کی غرض سے حراست میں لیا تھا۔ پولیس نے 40 سے زائد افراد کو باضابطہ گرفتار کر لیا گیا، جب کہ ضلع ملیرمیں کسی بھی ناخوش گوار صورت حال سے فوری نمٹنے کے لیے پولیس کو الرٹ کر کے ایس ایس پی ملیر سید عرفان بہادر کی سربراہی میں گھگھر پھاٹک تا ائیرپورٹ تک پولیس کی بھاری نفری مو جود اور گشت کرتی نظر آئی۔ 

ضلع ملیر میں ٹریفک بھی رواں دواں رہا۔ ملیرمیں حالات پولیس کے کنٹرول میں تھے ۔ ایس ایس پی ملیر کی ہدایت پر ڈسٹرکٹ ملیر کے تمام ڈی ایس پیز، ایس ایچ اوز اپنے اپنے علاقوں میں گشت اور اسنیپ چیکنگ میں مصروف رہے۔ بعد ازاں 2دن کی شرپسندی اور ہنگامہ آرائی کےبعد قانون نافذ کرنے والےاداروں نےحکمت عملی کے تحت تمام صورت حال ،جس کے بعد عوام میں احساس تحفظ پیدا ہوا اور معمولات زندگی بحال ہوگئے۔ ڈسٹرکٹ ملیر میں امن وامان کی صورت حال معمول کے مطابق رہی۔

تادم تحریر سہراب گوٹھ سپرہائی وے پر احتجاج کی آڑ میں ہنگامہ آرائی، شہریوں سے لوٹ مار، جلاؤ گھیراؤ کےواقعات کی تفتیش کے لیے بنائی گئی خصوصی ٹیم نے مختلف علاقوں میں تابڑتوڑ کارروائیوں کے دوران ہنگامہ آرائی میں ملوث 79 مرکزی ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ ایس ایس پی ایسٹ عبدالرحیم شیرازی نے بتایا کہ ملزمان کو ڈیجیٹل ایویڈینس کی مدد سے گرفتار کیا گیا، خصوصی آپریشن میں چوہدری سہیل فیض سمیت 7افسران نے حصہ لیا۔عبدالرحیم شیرازی نے انکشاف کیا کہ سہراب گوٹھ پر جلنے والی بس، جناح سندھ میڈیکل یونی ورسٹی کی تھی، جب کہ شر پسند عناصر بس جلا کر ٹِک ٹاک ویڈیوز بناتے رہے اور پولیس افسر کو پتھر مارنے والا ملزم سامنے کھڑا ہوکر اعتراف کرتا رہا۔

ایس ایس پی ایسٹ کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر 200 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا تھا، جس میں سے بے گناہ افراد کو رہا کرکے 79 ملزمان کو باقاعدہ گرفتار کر لیا گیا۔ اب تک 72 ملزمان کو جیل بھی بھیجا جاچکا ہے، کار جلانے والے 15 میں سے 4 بے گناہ کو چھوڑا گیا، ایس ایس پی کہنا ہے کہ گرفتار تمام ملزمان کا مجرمانہ ریکارڈ بھی موجود ہے۔ایس ایس پی ایسٹ کے مطابق ہنگامہ آرائی کے 2 مقدمات سچل 2 سہراب گوٹھ 1 مبینہ ٹاون تھانے میں میں درج تھا ، ویڈیوز میں بس ٹرمنل پر حملہ، پولیس کو گھیرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، گرفتار ہر ملزم کا ویڈیو، تصویری ریکارڈ اور شواہد موجود ہیں۔ 

حکام نے بتایا کہ منصوبہ بندی کے تحت رش اکھٹا کرکے ہنگامہ آرائی کی گئی، خواتین کی بالیاں کھینچی گئیں اور لوٹ مار چھینا جھپٹی کی گئی، لوٹ مار کے دوران 2 افراد جاں بحق بھی ہوئے۔ عبدالرحیم شیرازی کا کہنا تھا کہ مفرور ملزمان کی تصاویر اور ویڈیوز پولیس نے حاصل کرلیں ہیں، دیگر شہروں اور مضافاتی علاقوں میں چھپے ہوئے ہیں، جنھیں جلد گرفتار کیا جائے گا۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید