مون سون کا موسم شروع ہوتے ہی صوبہ خیبر پختون خوا کے کئی علاقوں کے عوام میں تشویش اور خوف کی لہر دوڑ جاتی ہے کہ جب بالائی علاقوں سے آنے والا بارش کا پانی سیلابی ریلے کی صُورت اِن علاقوں میں داخل ہوتا ہے، تو اپنے ساتھ تباہی و بربادی بھی لے کر آتا ہے۔ یہ اپنے سامنے آنے والی ہر چیز بہا لے جاتا ہے۔ وادیٔ پشاور، ملاکنڈ اور جنوبی اضلاع کے بعض علاقے سیلاب کے حوالے سے ریڈ زون میں واقع ہیں، جہاں ہر سال ہی سیلاب سے تباہی ہوتی ہے۔ امسال بھی جون اور جولائی کی طوفانی بارشوں اور سیلاب نے صوبے کے کئی اضلاع میں تباہی مچادی۔
بارانِ رحمت کے لیے مانگی گئی دعاؤں اور نمازِ استسقا کے بعد بارشیں تو شروع ہوگئیں، لیکن کسے معلوم تھا کہ یہ بارشیں اتنی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گی۔ عیدالاضحٰی سے دو دن قبل شروع ہونے والی تباہ کُن بارشوں اور ان کے نتیجے میں دریاؤں کی طغیانی اور سیلابی ریلوں سے صوابی، کرک، ٹانک، چترال، چارسدّہ، مہمند اور مردان سمیت صوبے کے9 اضلاع میں 30 سے زاید افراد ہلاک اور سیکڑوں مکانات ملیامیٹ ہوگئے۔ فصلیں، باغات تباہ اور رابطہ سڑکیں بہہ گئیں، جب کہ ٹانک میں پورا گاؤں ہی صفحۂ ہستی سے مِٹ گیا۔
عیدِ قرباں سے ایک دن قبل ضلع صوابی میں طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلے کے نتیجے میں کئی نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے۔صوابی کی یونین کاؤنسل ٹھنڈ کوئی اور مضافات میں موسلادھار بارش کے باعث گاؤں کئی فِٹ پانی میں ڈوب گیا۔ 9جولائی کی صبح تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش شروع ہوئی، تو یونین کاؤنسل باجا، بام خیل، مرغز اور دیگر علاقوں کا سیلابی پانی ویلیج کاؤنسل ٹھنڈ کوئی میں داخل ہوگیا اور وہاں شمالی بانڈہ اور بنگلا دیش بانڈہ میں واقع گھر چار چار فِٹ پانی میں ڈوب گئے، جس سے گھروں میں موجود سامان بہہ گیا اور لوگوں نے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر اپنی جانیں بچائیں۔ نیز، زیدہ روڈ بند ہونے سے متاثرہ علاقوں کا زمینی رابطہ کٹ گیا۔
شمالی بانڈہ میں درجنوں مکانات منہدم ہونے کے ساتھ ایک پُل بھی سیلابی پانی میں بہہ گیا۔موسلادھار بارش سے کلابٹ، زروبی، تحصیل ٹوپی، یارحسین ریجن کے کئی علاقوں اور تور ڈھیر، جلبئی، جہانگیرہ، چھوٹا لاہور، گوہاٹی، ادینہ اور اسماعیلہ کے علاقوں میں بھی املاک کو شدید نقصان پہنچا،جب کہ مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔صوابی میں 8افراد جاں بحق ہوئے،جب کہ درجنوں مویشی، گھروں کا قیمتی سامان اور گاڑیاں سیلابی ریلے کی نذر ہوگئیں۔ مرغز، شمکو بانڈہ اور پنج پیر کے علاقے گاڑ میں بھی سیلاب نے گھروں کو شدید نقصان پہنچایا۔
عید الاضحٰی کے دوسرے دن سرکل کنڈیان، ضلع ٹانک میں سیلابی ریلے نے پورا گاؤں تباہ کر ڈالا۔ سوموار کے روز شروع ہونے والی بارش سے ضلع ٹانک میں سرکل کنڈیان کے مشرق کی جانب واقع پہاڑی سلسلے میں اچانک طغیانی آگئی۔ اونچے درجے کے اِس سیلاب نے جب سرکل کنڈیان کو ہِٹ کیا ،تو دیکھتے ہی دیکھتے گاؤں پائی، غریب آباد، اماخیل، نندور اور دیگر چھوٹی بڑی آبادیوں کے اندر سیلابی پانی داخل ہوگیا، بدترین سیلاب سے گاؤں پائی میں80 فی صد مکانات زمین بوس ہوگئے، جب کہ گاؤں نندور بھی شدید متاثر ہوا اور ان علاقوں کے کئی افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیوں کا آغاز کرتے ہوئے سیلاب میں بہنے والے درجنوں افراد کوبچایا، جب کہ اطلاع ملتے ہی پاک فوج، فرنٹیئر کور، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو1122 کی ٹیمز بھی موقعے پر پہنچ گئیں، جنہوں نے ریسکیو آپریشن کے بعد ریلیف سرگرمیوں کا آغاز کیا، متاثرین میں خیمے، کچن سیٹ اور اشیائے خور ونوش تقسیم کی گئیں، جب کہ صوبائی حکومت نے ضلع ٹانک کو آفت زدہ قرار دے دیا۔
ضلع مہمند کی تحصیل حلیم زئی، غلنئی میں بھی سیلابی ریلے میں کئی افراد بہہ گئے۔ تحصیل صافی اور پڑانگ میں شدید بارشوں اور طغیانی کے باعث لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے، تخت بھائی کے علاقے کوٹ جونگھڑوں، چارسدّہ تنگی، اتمانزئی، ترنگزئی اور درگئی میں بھی بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچائی، جہاں کئی مکانات اور گھروں کی چھتیں گرنے سے متعدّد افراد جاں بحق ہوئے۔ ضلع مردان میں بارش اور طغیانی سے کھڑی فصلوں اور باغات کو شدید نقصان پہنچا۔ صوابی اور ٹانک سمیت کئی علاقوں میں درجنوں خاندان کُھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہوئے۔
سیلاب سے متعلق سرکاری طور پر اطلاعات کی عدم فراہمی کے سبب افواہوں کا بازار گرم رہا،جس سے خوف وہراس کی فضا میں مزید ہوا۔ بڑے پیمانے پر تباہی و بربادی کے باعث متاثرہ علاقوں میں ہر طرف غم و اندوہ اور اداسی کا عالم ہے، اکثر لوگ زندگی بَھر کی جمع پونجی کھو چُکے ہیں۔ صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق،’’ بارش اور سیلاب سے مختلف اضلاع میں 100سے زاید مکانات مکمل تباہ، جب کہ 272 سے زاید کو جزوی نقصان پہنچا،اِسی طرح مختلف اضلاع میں مجموعی طور پر30 اموات ہوئیں اور 50سے زاید افراد زخمی ہوئے۔متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کی سرگرمیاں جاری ہیں، ٹانک سمیت دیگر اضلاع میں متاثرہ افراد کو خیمے، خوراک، پینے کا پانی اور دیگر سہولتیں فراہم کر دی گئی ہیں۔
ٹانک میں میڈیکل کیمپ لگایا گیا ہے اور محکمہ لائیواسٹاک کی طرف سے جانوروں کی ویکسی نیشن اور ضروری ادویہ کی فراہمی کے لیے ٹانک میں فری کیمپ بھی قائم کیا گیاہے۔ متاثرہ علاقوں میں ٹی ایم اے اور ریونیو فیلڈ اسٹاف کی معاونت سے پینے کا پانی بلا تعطّل فراہم کیا گیا، علاوہ ازیں ریسکیو1122کی ٹیمز گلی کُوچوں سے بارش اور سیلاب کا پانی نکالنے میں مصروف ہیں۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے صوبے میں مون سون کنٹجنسی پلان تشکیل دے دیا گیا ہے اور اِس سلسلے میں تمام متعلقہ اداروں اور محکموں کو بروقت ایڈوائزری بھی جاری کی ہے۔ پی ڈی ایم اے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطے میں رہی۔
انتظامیہ اور ادارے ہائی الرٹ ہیں اور صوبے کے تمام اضلاع میں ناخوش گوار صُورت حال سے نمٹنے اور متاثرہ عوام کو سہولتوں کی فراہمی کے لیے مطلوبہ ساز و سامان کا وافر اسٹاک بھی موجود ہے۔‘‘ تاہم، صوبائی حکومت کی اِس رپورٹ کے برعکس، پرووینشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے غلط اندازوں نے صوابی اور مردان کے ہزاروں افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا، کیوں کہ پی ڈی ایم اے نے دونوں اضلاع کو گرین زون قراردیتے ہوئے کہا تھا کہ ان اضلاع میں بارشوں اور سیلاب کے خطرات انتہائی کم ہیں، لیکن بارش اور سیلاب نے ان اضلاع ہی میں تباہی مچادی۔
صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ دستاویز کے مطابق، پی ڈی ایم اے نے مون سون2022ء کے لیے جو درجہ بندی جاری کی، اس میں صوابی، مردان، ہری پور، ہنگو، بونیر اور بنوں کو انتہائی کم خطرے والے علاقے قرار دیا، بعد ازاں، سیلاب آنے کے بعد بھی پی ڈی ایم اے کی جانب سے عام لوگوں سے علاقہ خالی کرنے کے لیے فوری طور پر رابطہ نہیں کیا گیا، جس کے نتیجے میں نقصانات میں مزید اضافہ ہوا اور لوگ بُری طرح پھنس گئے۔
اِس سلسلے میں پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل، شریف حسین نے بتایا کہ’’ درجہ بندی مون سون میں پائے جانے والے کثیر خطرات کے اسکور پر مبنی ہے، یہ درجہ بندی مختلف خطرات مثلاً سیلاب، ندی نالوں میں طغیانی، لینڈ سلائیڈنگ، گلیشئرز پھٹنے، طوفان اور گرج چمک کو مدّنظر رکھ کر کی جاتی ہے۔نیز اس درجہ بندی میں پچھلے سال کے نقصانات بھی مدّ ِنظر رکھے جاتے ہیں۔‘‘ اُنہوں نے بتایا کہ’’ صوابی اور مردان میں مختصر وقفے میں ہونے والی شدید بارشوں کی وجہ سے صُورتِ حال خراب ہوئی، جس کے نتیجے میں سڑکوں اور فصلوں میں پانی بھر گیا۔‘‘
اُنہوں نے وضاحت کی کہ’’ وارننگ جنریشن محکمۂ موسمیات کا مینڈیٹ ہے، پی ڈی ایم اے صرف ضروری مشورے کے ساتھ وارننگ پھیلانے میں مدد کرتی ہے۔‘‘دوسری جانب وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا، محمود خان نے مون سون بارشوں کے باعث صوبے میں سیلابی صُورتِ حال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ صوبائی اداروں کے اقدامات اور ریلیف سرگرمیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’’ صوبائی حکومت آزمائش کی اس گھڑی میں متاثرین کی ہر ممکن مدد کررہی ہے اور اُنھیں تمام تر ضروری سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔‘‘
وزیرِ اعلیٰ نے صوبائی حکومت کی پالیسی کے مطابق متاثرین کے نقصانات کے ازالے کے لیے بلا تاخیر مالی معاونت کی فراہمی اور بحالی کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کی، اُنہوں نے ٹانک اور صوابی سمیت سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں صُورتِ حال معمول پر آنے تک میڈیکل کیمپس برقرار رکھنے اور متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض سے بچاؤ کے لیے باقاعدگی سے اسپرے وغیرہ کی سرگرمیاں جاری رکھنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ’’ صوبائی حکومت مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور اُنھیں ریلیف کی فراہمی کے لیے تمام تر دست یاب وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔‘‘ اُنھوں نے اِس موقعے پر متعلقہ حکّام کو صوبے بھر کے حسّاس علاقوں کو مستقبل میں سیلاب کے نقصانات سے بچانے کے لیے باضابطہ پلان تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی اور واضح کیا کہ پلان میں دیرپا حفاظتی/ترقّیاتی اقدامات کے لیے ترجیحات کا تعیّن کیا جائے اور کم مدّتی، وسط مدّتی اور طویل مدّتی اقدامات تجویز کیے جائیں۔
سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں خطرناک امراض پھیلنے کا خطرہ ہے، پروفیسر ڈاکٹر محمّد حسین
پاکستان پیڈیا ٹرکس ایسوسی ایشن کے صدر، پروفیسر ڈاکٹرمحمّد حسین نے خدشہ ظاہر کیا کہ’’ مون سون کی تباہ کُن بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے بچّوں میں خطرناک امراض پھیلنے کا خطرہ ہے، کیوں کہ سیلاب سے متاثرہ علاقے پیتھوجینز کی افزائش کے لیے آئیڈیل ماحول کا کام کرتے ہیں اور بعدازاں یہی صورتِ حال بیماریوں کے تیزی سے پھیلاؤ کا باعث بنتی ہے۔‘‘
اُنہوں نے مزید کہا کہ’’ بے گھرافراد کے لیے قائم کیمپس میں حفظانِ صحت کے ناقص انتظامات بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے عام شہریوں میں اِن بیماریوں اور خطرات سے متعلق آگاہی کا فقدان ہے۔‘‘ ڈاکٹر محمّد حسین کا کہنا تھا کہ’’ بارشوں اور قدرتی آفات کے بعد سب سے زیادہ خطرہ ہیضے کے پھیلنے کا ہوتا ہے، جو آلودہ پانی کے استعمال سے پھیلتا ہے، پھر صفائی کی ابتر صورتِ حال اور نکاسیٔ آب کے ناقص انتظامات بھی اس خطرناک بیماری کا موجب بنتے ہیں۔
جب کہ طوفانی بارشوں اور سیلابی صورت ِحال میں یرقان کے تیزی سے پھیلاؤ کا خطرہ بھی رہتا ہے۔ اسی طرح سانس کی نالی کا انفیکشن بھی متاثرہ علاقوں کا ایک اہم مرض ہے۔ نیز، متاثرہ علاقوں میں الرجک برونکائٹس، دمے، پلمونری ایئر ویز میں دائمی رکاوٹ، نمونیا اور وائرل فلو کا بھی خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر سیلاب سے متاثرہ علاقے ڈینگی مچھروں کی افزائش کے لیے نہایت موزوں ہوتے ہیں، اِس لیے سیلاب زدہ علاقوں میں ڈینگی بخار، ملیریا اور ٹائیفائیڈ بخار کے پھیلاؤ کی روک تھام کے ہنگامی اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔‘‘