• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یوکرین بھیجا جانے والا اسلحہ کہاں جاتا ہے؟ امریکا اور مغربی ممالک لاعلم

کراچی (نیوز ڈیسک) امریکا کے ایک نشریاتی ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا کو علم نہیں کہ اس کی طرف سے یوکرین بھیجا جانے والا اسلحہ کہاں جاتا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جس مقصد کیلئے یہ اسلحہ بھیجا جا رہا ہے وہ شاید پورا نہیں ہو رہا اور لگتا ہے امریکی اسلحہ کسی بلیک ہول میں جا رہا ہے۔ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ امریکا ایک مرتبہ پھر افغانستان، عراق اور شام میں کی جانے والی غلطی دہرا رہا ہے کیونکہ مغربی ممالک کی طرف سے یوکرین میں روس کیخلاف استعمال کرنے کیلئے جو اسلحہ بھیجا جا رہا ہے اس کا 70؍ فیصد حصہ غائب ہو جاتا ہے جبکہ صرف 30؍ فیصد ہی یوکرین میں لڑنے والے فوجیوں اور جنگجوئوں تک پہنچ پاتا ہے۔ سی بی ایس نیوز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مغربی ممالک کا یہ اسلحہ شاید ضایع ہو جاتا ہے یا پھر کرپشن اور بلیک مارکیٹ میں فروخت ہو جاتا ہے۔ امریکا نے فروری سے لیکر اب تک یوکرین کیلئے 54؍ ارب ڈالرز کی معاشی اور عسکری امداد کی منظوری دی ہے جبکہ برطانیہ نے تین ارب ڈالرز اور یورپی یونین نے ڈھائی ارب ڈالرز کا اسلحہ یوکرین کو دینے کی منظوری دی ہے۔ امریکا کی سرپرستی میں مغربی ممالک کی جانب سے فراہم کیے جانے والے اسلحے میں رائفلیں، دستی بم، ٹینک شکن میزائل اور کثیر الجہتی راکٹ فائرنگ سسٹم شامل ہیں۔ یہ اسلحہ و گولہ بارود مغربی ممالک کی فیکٹریوں سے نکل کر پولینڈ کے راستے یوکرین جاتا ہے۔ تاہم، اسلحے کی یہ منتقلی پرسکون نہیں۔ یوکرینی فوج تک یہ اسلحہ پہنچانے کی ذمہ دار لتھوانیا کی تنظیم کے بانی جونس اوہمن نے سی بی ایس کو بتایا کہ یہ تمام اسلحہ یوکرین کی سرحد پار جاتا تو ہے لیکن پھر پتہ نہیں کیا ہوتا ہے کہ صرف 30؍ فیصد ہی اپنی اصل منزل تک پہنچ پاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرینی فوجیوں تک اسلحہ پہنچانے کیلئے طاقتور قبائلی سرداروں، با اثر لوگوں اور سیاسی کھلاڑیوں کے پیچیدہ نیٹ ورک سے گزرنا پڑتا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل میں سینئر کرائسز ایڈوائزر ڈوناٹیلا روویرا کہتی ہیں کہ کوئی علم نہیں کہ یہ اسلحہ کہاں جاتا ہے، جو بات پریشان کُن ہے وہ یہ ہے کہ اسلحہ بھیجنے والے کچھ ملک ایسے ہیں جو یہ ذمہ داری لینے کو تیار نہیں کہ پتہ لگائیں کہ اُن کا دیا ہوا اسلحہ کہاں جاتا ہے، اور ایسا کرنے کیلئے ایک متحرک نگرانی کے میکنزم کی ضرورت ہے۔ یوکرین کا اصرار ہے کہ وہ بھیجے جانے والے ہر اسلحے کی ٹریکنگ کرتا ہے۔ وزیر دفاع الیکسی زیرنیکوف کے مشیر یوُری ساک نے گزشتہ ماہ فنانشل ٹائمز کو بتایا تھا کہ اسلحہ کھو جانے کی اطلاعات اور خبریں ممکنہ طور پر روس کی طرف سے پھیلائی جانے والی غلط معلومات ہو سکتی ہیں تاکہ یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے سے روکنے کیلئے بین الاقوامی شراکت داروں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ لیکن صورتحال ایسی نہیں۔ مغربی ممالک کے حکام نے اس صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے اور ان ملکوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجنا شروع ہو چکی ہیں۔ امریکی انٹیلی جنس کے ایک ذریعے نے بھی یہی بتایا ہے کہ امریکا کی طرف سے بھیجا جانے والا اسلحہ معلوم نہیں کہ کہاں جاتا ہے کیونکہ یوکرین میں جاتے ہی لگتا ہے یہ اسلحہ کسی بلیک ہول میں چلا جاتا ہے۔ کینیڈا کے سرکاری ذرائع نے بھی اسی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یورو پوُل نے دعویٰ کیا ہے کہ مغربی ممالک کا بھیجا گیا اسلحہ یورپی یونین کے منظم جرائم پیشہ گروپس کے پاس پہنچ جاتا ہے جبکہ روسی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ کچھ اسلحہ مشرق وسطیٰ بھی جا رہا ہے۔ جون 2022ء میں کی گئی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ایسے آن لائن اسٹورز موجود ہیں جہاں مغربی ممالک کا جدید ترین اسلحہ فروخت ہو رہا ہے جس میں جیویلین اور این لاء ٹینک شکن میزائل اور فینکس گھوسٹ اور سوئچ بلیڈ ڈرون وغیرہ شامل ہیں اور تشویش ناک بات یہ ہے کہ لاکھوں ڈالرز مالیت کا یہ اسلحہ کوڑیوں کے دام فروخت ہو رہا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے اگر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی فہرست دیکھیں تو یوکرین دنیا کے 180؍ کرپٹ ترین ممالک کی فہرست میں 122ویں نمبر پر رہا ہے۔ اس فہرست میں 180؍ کرپٹ ترین جبکہ صفر رینکنگ کرپشن سے پاک کو ظاہر کرتا ہے۔ امریکا میں یوکرین نژاد رکن کانگریس وکٹوریا اسپارتز کو متعدد مواقع پر ان کے ساتھیوں حتیٰ کہ وائٹ ہائوس والوں نے بھی اس بات پر ’’آنکھیں دکھائی‘‘ ہیں کہ انہوں نے تجویز پیش کی تھی کہ امریکی کانگریس کو چاہئے کہ یوکرین کو دیے جانے والے اسلحے کی نگرانی ہونا چاہئے کیونکہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی حکومت میں کرپشن موجود ہے۔ ایسے ہی حالات ماضی میں بھی دنیا کے جنگی محاذوں پر دیکھے جا چکے ہیں اور اس کے نتائج تباہ کن رہے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل میں سینئر کرائسز ایڈوائزر ڈوناٹیلا روویرا کا کہنا تھا کہ جب 2003ء میں امریکا نے عراق پر حملہ کیا تھا اور پھر جب 2014ء میں داعش نے ملک کے کئی حصوں پر قبضہ کرلیا تو ان کے پاس امریکی اسلحے کا ایک بڑا ذخیرہ تھا، حالانکہ یہ سب اسلحہ امریکا نے عراقی فوج کیلئے بھیجا تھا۔ اور پھر 2001ء میں امریکی فوج کے افغانستان پر حملے کو دیکھ لیں، طالبان کے پاس اُس وقت وہ تمام اسلحہ تھا جو 1980ء کی دہائی میں امریکا نے ان کے پیش روئوں کو دیا تھا۔ جب امریکا نے افغانستان سے 2021ء میں مکمل انخلاء کیا تو لاکھوں یا کروڑوں نہیں بلکہ اربوں ڈالرز مالیت کا فوجی ساز و سامان طالبان کے ہتھے چڑھ گیا۔ یہ وہ ساز و سامان تھا جو افغان فوج کیلئے تھا اور تھوڑا اگر ماضی میں جھانکیں تو ہمیں ایک دہائی قبل ہی یہ اطلاعات مل گئی تھیں کہ امریکا سے افغانستان بھیجا جانے والے اسلحے کا ایک بڑا حصہ بمشکل ہی منزل تک پہنچتا تھا۔
اہم خبریں سے مزید