• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عمران خان سے ملک کی جان چھوٹ جانا معجزہ ہے، شاہد خاقان

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیوکے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاہے کہ یہ معجزہ ہے کہ عمران خان سے اس ملک کی جان چھوٹ گئی ہے.

نمائندہ جیو نیوز سوات محبوب علی نے کہا کہ سوات آنے والے لوگوں میں سے بیشتر کا تعلق تحریک طالبان پاکستان سے ہے، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ باقاعدہ معاہدے کے تحت مالاکنڈ ڈویژن کے مختلف علاقوں میں آئے ہیں، ان لوگوں کی آمد سے پورے مالاکنڈ ڈویژن میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اس تمام صورتحال کا مالاکنڈ ڈویژن میں سیاحت پر بہت برا اثر پڑا ہے .

چیئرمین ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان ملک بوستان نے کہا کہ ایکسچینج کمپنیاں ڈالر سٹہ بازی میں شامل نہیں تھیں ، اس میں زیادہ کردار بینکوں کا تھا روپے کی قدر میں بہتری کی ایک وجہ حکومت کی کارکردگی بھی ہے، امپورٹ بل میں تین ارب ڈالر کی کمی آنے سے پاکستانی روپے کو بڑا سہارا ملا ہے.

 سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جھوٹ بولنا آسا ن ہے جب سے پارٹی بنائی عمران خان اسی پر گزارہ کررہے ہیں،ہمیں نہ عمران خان کا سرٹیفکیٹ چاہئے نہ کسی کی ضرورت ہے، مشترکہ اپوزیشن آئین کے مطابق عدم اعتماد کے ذریعہ اقتدار میں آئی ہے، حکومت مدت پوری کرے گی اس کے بعد الیکشن میں جائیں گے،عمران خان ہمیں قبول نہیں کرتے تو یہاں قبولیت کی ضرورت نہیں ہے،تحریک انصاف نے پارلیمان میں بیٹھنے کے بجائے راہ فرار اختیار کی آج الیکشن یاد آگئے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ شہباز گل نے ٹی وی چینل پر جو باتیں کیں وہ سارے پاکستان نے سنی ہیں، کیا شہباز گل کی باتیں قانون کے مطابق ہیں؟،شہباز گل جیسی باتیں پورا پاکستان کرے تو کیا وہ آئین کے مطابق ہیں، آپ قانون توڑیں گے تو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا، ہمیں بغیر ثبوت کے گرفتار کیا گیا تھا،شہباز گل کے خلاف پرچہ درج کرایا گیا یہ ریاست کی ذمہ داری تھی،آئین توڑنے اور فوج میں نفاق ڈالنے کی کوشش پر کارروائی کرنا پڑتی ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پولیس نے شہباز گل کے ڈرائیور کے گھر چھاپہ مار کر کسی خاتون کو گرفتار کیا تو بالکل غلط کیا گیا ہے، توقع کرتا ہوں رانا ثناء اللہ خاتون کی گرفتاری کا نوٹس لیں گے، اگر مزاحمت ہوئی بھی ہے تو خاتون کو ضمانت دے کر معاملہ ختم کردینا چاہئے، میں خواتین کے خلاف کسی بھی کارروائی کا حصہ نہیں بن سکتا، ہماری کوشش ہے معیشت کو سنبھالا اور حالات بہتر کیے جائیں۔

شاہد خاقان عباسی کاکہنا تھا کہ سیاستدان انتقام لینا شروع کردیں تو نقصان ملک کا ہی ہوتا ہے، عمران خان نے چار سال حکومت میں دھمکیوں ،گالیوں اور غلیظ باتوں کے سوا کچھ نہیں کیا، یہ تاثر غلط ہے کہ حکومت کسی کیخلاف انتقامی کارروائی کررہی ہے، وزیراعظم یا کابینہ کی سطح پر کبھی بھی انتقاماً کسی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی بات نہیں کی، قانون کو ردی کا کاغذ سمجھیں گے تو قانون کو حرکت میں آنا پڑتا ہے۔

 سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہماری انتخابات میں جیت کسی کی نااہلی پر منحصر نہیں ہے، ہماری جیت ملکی مسائل حل کر کے عوام کے پاس جانے پر منحصر ہے، عمران خان کو جتوانے کیلئے منتخب وزیراعظم کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر تاحیات نااہل قرار دیا گیا، 150کروڑ روپیہ سامنے آچکا ہے جو عمران خان نے غیرقانونی طور پر لیے.

قانون سب کیلئے برابر ہونا چاہئے اس کے فیصلے اب ہمیں کرنا پڑیں گے، میں کسی کی نااہلی کے حق میں نہیں ہوں، کیاالیکشن سے ملک کے معاملات بہتر ہوجائیں گے؟، آج ملک جس نازک حالت میں ہے استحکام کی ضرورت ہے، ہم نے اپنی سیاست کو نہیں ملکی مفاد کو ترجیح دی ہے، یہ معجزہ ہے کہ عمران خان سے اس ملک کی جان چھوٹ گئی ہے۔

 شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ہر تین سال بعد آرمی چیف کی تقرری کا معاملہ آتا ہے، میں اس بات کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا ہوں، چار سال کی غفلت ،کوتاہی اور کرپشن چار ماہ میں دور نہیں ہوتی، الیکشن میں عوام فیصلہ کرے گی کہ انہیں پی ٹی آئی کے چار سال چاہئیں یا ن لیگ کا ایک سال چاہئے۔

چیئرمین ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان ملک بوستان نے کہا کہ روپے کی قدر میں بہتری کی ایک وجہ حکومت کی کارکردگی بھی ہے، امپورٹ بل میں تین ارب ڈالر کی کمی آنے سے پاکستانی روپے کو بڑا سہارا ملا ہے، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی اپیل بھی کارگر ثابت ہوئی ہے.

 آرمی چیف نے سعودی عرب اور دبئی سے بھی بات کی ہے، آئی ایم ایف کی طرف سے مثبت خبر کے بعد ایکسپورٹرز نے 215ڈالرز انٹربینک میں فروخت کیے، روپے کی قدر میں مزید کمی آئے گی ڈالر کی قیمت 180روپے تک پہنچ جائے گی، اس وقت ڈالر خریدنے والا کوئی نہیں بیچنے والوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں، اوورسیز پاکستانیوں نے مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا.

 ایکسچینج کمپنیاں سٹہ بازی میں شامل نہیں تھیں ، اس میں زیادہ کردار بینکوں کا تھا جو بیس بیس روپے مہنگی ایل سیز اوپن کررہے تھے۔

نمائندہ جیو نیوز سوات محبوب علی نے کہا کہ سوات آنے والے لوگوں میں سے بیشتر کا تعلق تحریک طالبان پاکستان سے ہے، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ باقاعدہ معاہدے کے تحت مالاکنڈ ڈویژن کے مختلف علاقوں میں آئے ہیں

 ذرائع کے مطابق ان لوگوں کی تعداد ڈھائی سو کے قریب ہے، ان طالبان میں سے بیشتر کا تعلق سوات کی تحصیل مٹہ کے بالائی علاقوں سے ہے، طالبان نے ان علاقوں میں ایک ڈی ایس پی کو بھی تحویل میں لیا تھا جسے بعد میں چھوڑ دیا گیا، ان لوگوں کی آمد سے پورے مالاکنڈ ڈویژن میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے، لوگوں کوڈر ہے کہ 2007ء سے 2009ء جیسے حالات دوبارہ نہ ہوجائیں۔

اہم خبریں سے مزید