• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
خیال تازہ … شہزادعلی
برطانیہ کا نظام تعلیم دنیا میں اپنی ایک ساکھ رکھتا ہے تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ لوگ کبھی بھی سٹیٹس کو یعنی جمود کا شکار نہیں ہوتے۔ اچھے سے اچھے کی تلاش کا عمل جاری رہتا ہے۔ مروجہ کوئی بھی تھیوری چاہے وہ اچھے نتائج ہی کیوں نہ دے رہی ہو مزید بہتر Even Better کا عمل جاری و ساری رہتا ہے۔ تازہ بستیاں جیسے افکار شاید برطانیہ کے لوگوں پر ہی جچتے ہیں شاعر مشرق نے کہا تھا کہ کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد، کہ وہ قومیں اور افراد جو دور رس نگاہوں کے حامل ہوتے ہیں وہ صرف ماضی کی شان و شوکت پر ہی اکتفا نہیں کر لیتے بلکہ مستقبل پر بھی نگاہ رکھتے ہیں اور لمحہ آگے بڑھنے کے لیے نئے نئے نظریات تخلیق کرتے ہیں، تازہ بستیاں آباد کرتے ہیں ۔ ان کے ذہن جامد نہیں ہوتے۔ کہنا یہ ہے کہ ان دنوں چونکہ اسکولوں اور کالجوں کے طلباء کے جی سی ایس ای ز اور اے لیولز یا بی ٹیک کے نتائج کا موسم ہے۔ اس پس منظر میں دی گارڈین نے ایک رائٹ اپ میں بتایا ہے کہ ٹونی بلیئر انسٹی ٹیوٹ (ٹی بی آئی) کا کہنا ہے کہ ʼبنیادی اصلاحاتʼ کے مطالبے میں جی سی ایس ای اور اے لیولز کو ختم کریں ۔ انگریزی اسکولوں کو ڈیجیٹل دنیا میں ملازمتوں کے لیے تیار کرنے کے لئے طلباء کے لیے تنقیدی سوچ اور تخلیقی صلاحیتوں جیسے پہلوؤں پر توجہ دینے کی سفارش کی ہے۔ تجویز کیا گیا ہے کہ جی سی ایس ای اور اے لیولز کو ایک ایسے نظام کے حق میں ختم کر دینا چاہیے جو اسکول چھوڑنے والوں کو کام کی جگہ کے لیے بہتر طریقے سے تیار کرے۔ ٹونی بلیئر انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل چینج (TBI) کی طرف سے کی گئی اس تحقیق میں سفارش کی گئی ہے کہ انگلینڈ میں تعلیمی نظام کو یکسر تبدیل کیا جائے تاکہ طلباء ایسے کام کے ماحول میں ترقی کر سکیں جو آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت سے تیزی سے تشکیل پا رہا ہے۔ دی انڈی پنڈنٹ کے مطابق، ٹونی بلیئر تھنک ٹینک نے نئی اہلیت کے لیے بین الاقوامی بکلوریٹ کے ʼاصولوںʼ پر مبنی نظام کی سفارش کی ہے۔ سابق لیبر پی ایم ٹونی بلیئر کے تھنک ٹینک نے مشورہ دیا ہے کہ GCSEs اور A-لیولز کو ایک نئی قابلیت کے حق میں چھوڑ دیا جانا چاہیے جو اسکول چھوڑنے والوں کو کام کی جگہ کے لیے بہتر طریقے سے تیار کرے۔اگر انگلستان کے طلباء کو آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت سے بنی معیشت میں ترقی کرنا ہے تو تعلیمی نظام کو "بنیادی" تبدیلی کی ضرورت ہے۔ تھنک ٹینک نے تجویز پیش کی کہ 18 سال کی عمر کے بچوں کے لیے ایک نئی قابلیت "ان اصولوں کو تیار اور بہتر کر سکتی ہے" جو بین الاقوامی بکلوریٹ کے تحت ہیں، جسے بہت سے دوسرے سرکردہ ممالک استعمال کرتے ہیں۔موجودہ آفسٹڈ ریٹنگ سسٹم کو ختم کیا جانا چاہیے اور قومی نصاب کو ایک غیر سیاسی اور خود مختار ادارے کے ہاتھ میں دینا چاہیے۔ یہ استدلال دیا گیا ہے کہ انگلینڈ میں موجودہ تعلیمی منظر نامہ سیکھنے کی غیر فعال شکلوں پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے جو براہ راست ہدایات اور حفظ پر مرکوز ہے۔ تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت، مواصلات اور باہمی تعاون کے ساتھ مسائل کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔ امتحانات کے نظام کو نئی قابلیت کے ساتھ تبدیل کرنے کی سفارش کرتے ہوئے جس میں 16 اور 18 سال کی عمر کے درمیان باقاعدگی سے تشخیص شامل ہے، رپورٹ نے تجویز کیا کہ ثانوی تعلیم کے اختتام پر طلباء کے لیے کم داؤ پر لگائے گئے جائزوں کا ایک سلسلہ طلباء کی پسند کو مطلع کرنے اور اسکولوں کو حساب کتاب کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ ڈیلی ٹیلی گراف میں لکھتے ہوئے، ایک سابق لیبر وزیراعظم سر ٹونی بلیئر نے موجودہ نظام کے بارے میں کہا ہے کہ اگرچہ اس قسم کے امتحانات کے لیے جگہ موجود ہے لیکن ہم ان پر اکیلے بھروسہ نہیں کر سکتے۔ یہ سسٹم صرف کچھ مہارتوں کی پیمائش کرتا ہے اور وہ ہمیشہ یہ درست طریقے سے نہیں کرتا پھر محدود تدریسی طرز کو اپنایا گیا ہے جس کا مقصد دیگر کلیدی قابلیتوں کو بنانے کے بجائے امتحان پاس کرنا ہے۔ اس کےبجائے اس طرح کے مشاہدات کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا اسکول نوجوانوں کو مستقبل کے لیے تیار کر رہے ہیں جس کا انہیں سامنا ہے؟؟ جیمز سکیلز، ٹی بی آئی میں مہارتوں کی پالیسی کے رہنما کا کہنا ہے کہ جب کہ دوسری جگہوں کے طلباء تنقیدی سوچ، بات چیت اور مسائل کو ایک گروپ کے طور پر حل کرنے کا طریقہ سیکھ رہے ہیں، ہمارا نظام ماضی میں مضبوطی سے قائم ہے۔ یہ ہمارے نوجوانوں اور پورے ملک کو پس پشت ڈال رہا ہے۔ ایک نئی نسل کو آگے بڑھانے کے لیے درکار بنیادی اصلاحات کے بغیر، ہم زیادہ اجرت والی، اعلیٰ ہنر مند معیشت کی تعمیر نہیں کرسکیں گے جس کی ہمیں ضرورت ہے۔قومی نصاب میں اصلاحات کے لیے ایک ماہر کمیشن قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے جو کہ عدد، خواندگی اور سائنس میں کم از کم مہارتوں پر مبنی ہو، جو آخر کار مزید ڈیجیٹل مہارتوں کو شامل کرے گا۔ اس میں نصاب کے ڈیزائن کی ذمہ داری کو ایک غیر سیاسی ادارے کو منتقل کرنے اور اسکولوں کے نگراں ادارے آفسٹڈ کی حکمت عملی اور نقطہ نظر کو تبدیل کرنے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے تاکہ اسکول کے انتظام کے تحفظ اور معیار پر توجہ دی جا سکے جو کہ مجوزہ تبدیلیوں کے لیے لازمی ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ روایتی تعلیمی مضامین کی ایک چھوٹی سی رینج پر توجہ، جسے انگریزی بکلوریٹ، یا ایبک کہا جاتا ہے، دوسرے مضامین کو نظر انداز کرنے کا سبب بن رہا ہے، یعنی حکومتی اصلاحات نے سیکھنے کو نقصان پہنچایا ہے اورسماجی نقل و حرکت کو بہتر بنانے کی کوششوں کو روکا ہوا ہے۔ اسکول اینڈ کالج لیڈرز کی ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری جیوف بارٹن کا تبصرہ بھی شامل ہے:یہ رپورٹ قابلیت، نصاب اور معائنے کے بارے میں "تازہ سوچ" کے مطالبات میں اضافہ کرتی ہے۔ اصلاحات کی ضرورت ہے کیونکہ "ترقی کی موجودہ رفتار سے پسماندہ اور دوسرے بچوں کے درمیان حصول کا فرق کبھی ختم نہیں ہوگا _ ہمیں ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جو ماضی سے جڑے رہنے کے بجائے مستقبل کی طرف دیکھے۔ محکمہ تعلیم کے ایک ترجمان کا البتہ کہنا ہے کہ دنیا بھر میں GCSEs اور A-لیولز کا بہت احترام کیا جاتا ہے اور ہم نے ینگ پیپلز پوسٹ 16کے لیے نئے گولڈ اسٹینڈرڈ تکنیکی اہلیت کے طور پر ٹی لیولز بھی متعارف کرائے ہیں_ گارڈین نے ہی ایک الگ رپورٹ میں یہ انکشاف کیا ہے کہ امسال امتحانات میں واپسی کے بعد A-لیول پر اعلیٰ درجات کی تعداد میں تیزی سے جہاں کمی آئی ہے وہاں بڑے ریجنل سطح پر بھی نتائج میں خاصا فرق سامنے آیا ہے یعنی برطانیہ میں جو نارتھ اور ساوتھ کی تفریق پائی جاتی ہے یہ تفاوت تازہ امتحانات کے نتائج سے تعلیم کے میدان میں بھی واضح تفریق کو ظاہر کر رہا ہےمزید ریاستی شعبے اور نجی اسکولوں کے نتائج میں بھی خاصا تفاوت دیکھا گیا_ انگلینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں دیئے گئے نتائج نے پچھلے سال کے ریکارڈ نتائج پر 8.4 فیصد پوائنٹس کی کمی کا انکشاف کیا جبکہ A*s میں ہی 4.5 پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی ۔ مزید برآں زیادہ امیر لندن اور جنوب مشرقی علاقوں اور شمال مشرق کے درمیان اے لیولز کے حصول کا فرق بڑھ رہا ہے۔ جنوب اور شمال مشرق کے درمیان یہ تفاوت 2019میں 4اور 5 فیصد پوائنٹس کے درمیان تھا اب یہ 8فیصد سے زیادہ پوائنٹس پر کھڑا ہے۔ انگلینڈ میں 36 فیصد سے بھی کم A-لیول کے اندراجات نے اس سال A اور A* گریڈ حاصل کیے جبکہ پچھلے سال یہ تناسب 44.3فیصد تھا۔ اے لیول پر تین A*s حاصل کرنے والے ہائی فلائیرز کی تعداد بھی کم ہو گئی ہے جو پچھلے سال 12,865تھی اب کم ہو کر 8,570 رہ گئی ہے۔ اس فکر انگیز صورتحال پر شیڈو ایجوکیشن سکریٹری، بریجٹ فلپسن کا برملا تبصرہ ہے کہ شمال مشرق میں طلباء کم قابل نہیں ہیں لیکن، 12 سال کی کنزرویٹو پارٹی حکومتوں کے بعد، وہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کے نتائج انگلینڈ کے جنوب میں اپنے ساتھیوں کے مقابلے میں پیچھے جاتے ہیں۔
یورپ سے سے مزید