• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال: میرے پاس کچھ زرعی زمین ہے۔ اس کی زکوٰۃ کس شرح سے ادا کرنی ہوگی؟

جواب: زرعی زمین پر زکوٰۃ نہیں ہے، البتہ اس کی پیداوار پر عشر کی شرح آبیاری کے اس نظام پر منحصر ہے جس سے اس زمین کو سیراب کیا جاتا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے زرعی زمینوں کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک وہ جن کی آبیاری کا انحصار بار ش یا قدرتی چشمے سے حاصل ہونے والے پانی پر ہو۔ دوسری قسم وہ جس کی آبیاری کے لیے انسان محنت کرے۔ عام بول چال میں پہلی قسم کو بارانی اور دوسری قسم کو نہر ی زمین کہتے ہیں۔

بارانی زمینوں کی پیداوار پر زکوٰۃ کی شرح پیداوار کا دسواں حصہ ہے اور نہری زمین کی پیداوار پر زکوٰۃ کی شرح پیداوار کا بیسواں حصہ ہے۔ اس نصاب کی وضاحت ایک اورحدیث میں بھی کی گئی ہے جو بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: دسواں حصہ اس فصل کا ادا کیا جائے جو بارش یا چشمے کے پانی سے سیراب ہوئی ہو یا گہری جڑوں نے خود زمین کی گہرائی سے پانی حاصل کیا ہو اور اس دسویں حصے کا آدھا اس فصل کا ادا کیاجائے، جسے انسانی کوشش سے سیراب کیا گیا ہو۔ اس تفصیل کے مطابق آپ کی زمینوں سے جو پیداوار ہو، اس کا دسواں یا بیسواں حصہ ادا کرنا واجب ہے۔

اقراء سے مزید