• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

IMF معاہدے میں رکاوٹیں، سب کیلئے لمحہ فکریہ !

بارشوں اور سیلاب نے ایک بار پھر پاکستان بھر میں قومی اور انتظامی اداروں کے ڈھول کے پول کھول کر رکھ دئیے ہیں، آزاد جموں و کشمیر ہو،گلگت بلتستان ہو، کے پی کے ہو، پنجاب ہو، سندھ ہو یا بلوچستان عوام غیر معمولی بارشوں اور سیلاب کی تباہی کاریوں کا شکار ہیں ، ملک میں شدید سیاسی تقسیم کی وجہ سے عنان اقتدار عوام کے اپنے منتخب نمائندوں کے ہاتھوں میں ہونے کے باوجود عوام لٹ پٹ گئے ہیں اور اپنی مدد آپ کے تحت سیلاب سے نمٹنے پر مجبور ہیں، پولرائزیشن میں اس وقت شدت دیکھنے میں آئی جب پاکستان تحریک انصاف کی آئی ایم ایف ڈیل ناکام بنانے کی’’سازش‘‘ بےنقاب ہو گئی اور ملک بھر میں سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کی پنجاب کے وزیر خزانہ محسن لغاری اور کے پی کے کے وزیر خزانہ تیمور جھگڑا کی آڈیو گفتگو ہر شخص تک پہنچ گئی۔

گفتگو میں محسن لغاری کو کہا گیا کہ آپ نےاب یہ لکھنا ہے اب ہم پہلی کمیٹمنٹ پوری نہیں کر پائیں گے ، یہی لکھنا ہے آپ نے اور کچھ نہیں کرنا ،ہم سب چاہتے ہیں ’’امپورٹیڈ حکومت ‘‘پر دباؤ پڑے یہ ہمیں اندر کر رہے ہیں ،ہم پر دہشتگردی کے الزامات لگارہے ہیں ،یہ بالکل اسکاٹ فری جارہے ہیں، یہ نہیں ہونے دینا ہے ،آپ لیٹر تیار کر کے بھیجیں ہم وفاقی حکومت کو بھیج دیں گے اور آئی ایم ایف کے نمائندوں کو بھی ریلیز کردیں گے، گفتگو میں محسن لغاری نے سوال کیا کہ اس سے ریاست کو نقصان نہیں ہوگا ،جس کے جواب میں شوکت ترین نے کہا کہ یہ جس طرح چیئرمین اور دیگر کو ٹریٹ کر رہے ہیں اس سے ریاست کو نقصان نہیں ہو رہا ؟

دیکھو یہ ضرور ہوگا کہ آئی ایم ایف کہے گا ،’’پیسے کہاں سے پورے کریں گے ‘‘ یہ منی بجٹ لے کر آجائیں گے یہ ہمیں مس ٹریٹ کر رہے ہیں اور ریاست کے نام پر بلیک میل کر رہے ہیں ،ہم ان کی مدد کرتے جائیں یہ تو نہیں ہو سکتا ، عمران خان کے ساتھ یہی طے پایا ہے، لیٹر آئی ایم ایف کو ریلیز کرنا ہے یا نہیں یہ ہم چیئرمین سے دوبارہ پوچھ لیں گے، آڈیو لیک کئے جانے کے بعد وزیر اعظم اور وزیر خزانہ سمیت اتحادی حکومت کے وزراء اور سیاسی قائدین برملا اس بات کا اظہار کرتے پائے گئے کہ کیا عمران خان کی اقتدار کی ہوس پر پاکستان کو قربان کردیں، ابتدائی طور پر وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے مطالبہ کیا کہ ملک کے خلاف سازش پر انہیں استعفے دینے اور معافی مانگنی چاہئے ،سیاسی حلقے آئی ایم ایف کی طرف پیکیج منظور کئے جانے کے بعد درگزر سے کام لینے پر زور دے رہے ہیں تاہم حکومت میں شامل سیاسی قائدین آئی ایم ایف پروگرام کے خلاف سازش کو غداری سے تعبیر کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو اقتدار کے لئے اتنا نہیں گرنا چاہئے کہ وہ وطن عزیز کے خلاف سازشوں پر اتر آئیں۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل اسد عمر کا موقف ہے کہ شوکت ترین کا محسن لغاری اور تیمور جھگڑا سے فون پر رابطہ کرنا اور مشورہ دینے میں کو قباحت نہیں ،امپورٹیڈ حکومت پر دباؤ ہمارا ہدف ہے ،جس کے حصول کے لئے ہم حکمت عملی تبدیل کرتے رہیں گے ، دوسری جانب ابتدائی طور پر وزارت داخلہ کی طرف سےسخت ردعمل کا مظاہرہ کئے جانے اور دونوں  صوبوں میں گورنر راج کا خطرہ تھا تاہم سیلابی صورتحال کی وجہ سے سخت ردعمل کا مشورہ سامنے آیا جس پر عمل کیا گیا، وفاقی حکومت اب بھی مل بیٹھ کر معاملات کو سلجھانے کی پالیسی پر چلنے کو تیار نظر آتی ہے، جو نواز شریف کی تازہ ترین ہدایت ہے، یو ں تو بارشوں کاسلسلہ 14 جون سے شروع ہوا ،محکمہ موسمیات نے سیلابی صورتحال کی پیشگوئی بھی کی مگر ذمہ دار خواب خرگوش کی طرح آنکھیں بند حملے کا انتظار کرتے رہے، 75 برسوں میں ہم متعدد بار سیلاب کی تباہی کاریوں کا نشانہ بن چکے ہیں، 2010ء کے سیلاب کے بعد کمیشن کی رپورٹ پر حکومت نے کوئی عمل نہ کیا۔

سیاسی حلقے اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ پاکستان دنیا کی چھٹی ایٹمی قوت ہے ،کیا ہوا اگر ہم دوسرے ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں کے 55 بلین ڈالرز کے مقروض ہو گئے ہیں، صرف حکمران ہی نہیں پوری قوم چھٹی ایٹمی قوت کے اعزاز کے مطابق وی آئی پی پروٹوکول کی خواہاں ہے، ہم بہت جلد وقت کی جمع کا مطلب بول جاتے ہیں، 2013ء کے انتخابات کے بعد سے شروع ہونے والا سیاسی بحران 2022ء میں بھی اپنی جگہ موجود ہے، کل چہیتے قرار دئیے جانے والے آج 20 لاکھ لوگ لانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں، جماعت اسلامی پاکستان اور الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار متاثرین سیلاب کی آغاز سے ہی خدمت کر رہے ہیں اور شہریوں سے لئے گئے 50 کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز ملک بھر میں خرچ کر رہے ہیں، الخدمت کے 150 سے زائد میڈیکل سنٹر کام کر رہے ہیں، سیلاب کی تباہی کاریوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف کو بھی تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کو یہ دعوت دینے پر مجبور کر دیا۔

جس میں انہوں نے کہا کہ بلاامتیاز سب سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر متاثرین کے لیے متحد ہو جائیں اور تمام توانائیاں سیلاب زدگان کی مدد کے لیے وقف کر دیں، یہ وقت کوئی اور کام کرنے کا نہیں، ہماری مائیں، بہنیں، بچیاں، بزرگ اور بیٹے ہر طرف کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں،ان کی دل کھول کر مدد کریں، ان کے زخموں پر مرہم رکھیں، ان کی پریشان حال آنکھیں آپ کی طرف دیکھ رہی ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری تو اپنے آبائی علاقے میں سیلاب کے آغاز میں ہی وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے ہمراہ پہچ گئے تھے۔ 

جس کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی سندھ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے سندھ حکومت کو متاثرین کی بحالی پروگرام کے لیے 15 ارب روپے دینےکا اعلان کیا تھا، راولپنڈی میں کور کمانڈر کانفرنس میں چیف آرمی سٹاف سمیت تمام جنرلوں کی طرف سے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ متاثرین فنڈز میں دینے کے اعلان کے بعد بیوروکریسی بھی متحرک ہوئی اور اس بات کا احساس ہوا کہ متاثرین سیلاب کی آبادکاری ہم نے خود ہی کرنی ہے۔

پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہونے کی دعویدار پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین سابق وزیراعظم عمران خان بڑی مشکل سے سیلاب متاثرین کی امداد پر آمادہ ہوئےاور انہوں نے ٹیلی تھون کا انعقاد کر کے اندرون ملک اور بیرون ملک پاکستانیوں سے فنڈز کی فراہمی کی اپیل کی۔ 

سابق وزیراعظم ملک میں سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال سے قطعاً پریشان نہیں، وہ حقیقی آزادی کے حصول کے لیے جو جدوجہد کر رہے ہیں وہ سیلابوں کے دوران بھی جاری رہے گی، سابق وزیر اعظم کی خواہش ہے کہ 6 دن کے اندر ایندہ انتخابات کا اعلان کیا جائے، ورنہ وہ اخری کال دے کر 20لاکھ عوام کے سمندر کو روک نہیں سکیں گے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید