• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کورنگی ٹاؤن شپ کے 14 رفاحی پلاٹس پر قبضہ، کے ڈی اے وضاحت دے، چائنہ کٹنگ کیسے ہوئی، ہائیکورٹ

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس سید حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے صدر میں کیٹرک روڈ پر 89 دکانیں مسمار کرنے کے خلاف درخواست پر کراچی کنٹونمنٹ بورڈ حکام سے جامع جواب طلب کرلیا، درخواست گزاروں کے وکیل نے کہا کہ 1954 سے دکانیں قائم تھیں، سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی گئی، دکانیں قانونی تھیں غلط توڑی گئیں،کنٹونمنٹ بورڈ کے وکیل نے موقف اپنایا کہ یہ نالے پر دکانیں تھیں جنہیں توڑا گیا، اسی نوعیت سے متعلق دوسری درخواست بھی زیر سماعت ہے، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کے ایم سی کی ساری دکانیں نالوں پر تھیں،عدالت نے دوکانیں توڑنے سے متعلق دو درخواستوں کو یکجا کردیا گیا،دریں اثنا سندھ ہائی کورٹ نے کورنگی کراسنگ سیکٹر 30اے کے 14رفاحی پلاٹس پر قبضے کے خلاف چیف ایگزیکٹو انجینئر کے ڈی اے کوریکارڈ سمیت طلب کرلیا، درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ سیکٹر تیس اے کورنگی ٹاؤن شپ کے 14 رفاحی پلاٹس ختم کر دیئے گیے، کنٹونمنٹ بورڈ کورنگی کریک نے جمع کرا ئے گئے جواب میں کہا کہ مذکورہ علاقہ ہماری حدود سے باہر ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ آپ بتائیں، کے ڈی اے کا کیا موقف ہے، کے ڈی اے حکام نے جواب دینے کے لیے مہلت طلب کرلی، عدالت نے 2018 میں ہونے والی انسپکشن کے تناظر میں کے ڈی اے سے جواب طلب کرلیا، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کے ڈی اے وضاحت دے چائنہ کٹنگ کیسے ہوئی؟ رفاحی پلاٹس کی جعلی لیز میں کون ملوث ہے؟ قبضہ کیسے ہوا اور کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ عدالت سماعت 27 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

شہر قائد/ شہر کی آواز سے مزید