• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عامر خان ایک بار پھر انتہاپسندوں کے نشانے پر

بالی ووڈ کے اسٹار عامر خان ایک بار پھر ہندو انتہاپسندوں کے نشانے پر آگئے ہیں، اس بار وجہ ایک بینک کا اشتہار بنا ہے۔

بھارتی ہدایت کار وویک اگنی ہوتری، جنہوں نے متنازع فلم ’دی کشمیر فائل‘ بنائی تھی، اس اشتہار کو لے کر عامرخان اور اداکارہ کیارا ایڈوانی اور بینک کے خلاف بول پڑے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وویک اگنی ہوتری نے اپنے پیغام کے ذریعے عامرخان، کیارا ایڈوانی اور بینک کو ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر تنقید کا نشانہ بنایا، ساتھ ہی اشتہار کے خیال کو بکواس قرار دیا۔

عامر خان جو چند سالوں سے ہندو انتہاپسندوں کے نشانے پر ہیں، پہلے اُن کے ایک بیان کو لے کر تنقید کی گئی، پھر ان کی فلم لال سنگھ چڈھا کا بائیکاٹ کیا گیا اور اب بینک کے اشتہار کی وجہ سے آن لائن تنقید کی زد میں ہیں۔

بھارتی ہدایت کار نے اشتہار کی ویڈیو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے شیئر کی اور بھارت کے نجی بینک کو سماجی تحریک کے ذریعے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر بے وقوف تک کہہ دیا۔

اشتہار کے آغاز میں عامر خان اور کیارا ایڈوانی کار کی پیچھلی نشست پر شادی کے لباس میں بیٹھے ہیں، اداکار کہتے ہیں یہ پہلی شادی ہے جس میں دلہن اپنی شادی پر نہیں روئی، اس پر اداکارہ کہتی ہے تم بھی تو نہیں روئے۔

اس کے بعد گھر میں جوڑے کے داخلے کا سین آتا ہے، اس موقع پر عامر خان اپنی دلہن سے پوچھتے ہیں، گھر میں پہلا قدم کون رکھے گا؟ اس پر کیارا کہتی ہے اس گھر میں پہلی بار کو ن آرہا ہے؟ عامر خان گھر داماد ہونے کی وجہ سے قدم رکھتے ہیں، اس پر اُن کی ساس انہیں خوش آمدید کہتی ہے تو بیوی اتنا بڑا قدم اٹھانے پر شکریہ ادا کرتی ہے، انہیں اگلے سین میں اپنے اپاہج سسر کے ساتھ گپ شپ لگاتے دکھایا گیا ہے۔

اس دوران عامر خان کہتے ہیں صدیوں سے جو روایت چل رہی ہوتی ہے وہی چلتی رہتی ہے، ایسا کیوں؟

اگلے منظر میں عامر خان اور کیارا ایڈوانی بینک میں موجود ہیں، یہاں اداکار کہتے ہیں، اس ہی لیے تو ہم سوال اٹھاتے ہیں بینکنگ کی روایات پر تاکہ آپ کو ملے بیسٹ سروس۔

وویک اگنی ہوتری نے اس اشتہار کی ویڈیو شیئر کی اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سوال اٹھایا کہ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ بینک کب سے سماجی و مذہبی روایات بدلنے کے ذمے دار بن گئے؟

انہوں نے بینک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں انہیں یہ تحریک کرپٹ بینکنگ سسٹم میں تبدیلی پر دینا چاہیے۔

بھارتی ہدایت کار نے اشتہار پر آن لائن ہورہی تنقید کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ ہندوؤں کی روایت کو غلط تناظر میں دکھائیں گے تو ٹرولنگ ہوگی، ایڈیٹ۔

سوشل میڈیا پر کئی بھارتیوں نے بطور احتجاج بینک سے اپنا اکاؤنٹ ختم کرنے کا اعلان کیا، اس حوالے سے فی الحال بینک یا اداکار کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید