• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سی ویڈ سے پیکیجنگ بنانے والی برطانوی فرم ملین پونڈ پرائز حاصل کرنے والوں میں شامل

لندن (پی اے) سی ویڈ سے پیکیجنگ بنانے والی ایک برطانوی فرم پرنس ولیم کے ایک ملین پونڈ کے ارتھ شاٹ کلائمیٹ پرائز کی فاتحین میں شامل ہے۔ لندن سٹارٹ اپ نوٹپلا نے پلاسٹک کا متبادل تیار کیا ہے۔ اس فرم کی بنیاد روڈریگو گارشیا گونزالیز اور پیئر پاسلیئر نے رکھی تھی، جب وہ امپیریل کالج لندن اور رائل کالج آف آرٹ کے طالب علم تھے۔ ارتھ شاٹ پرائز ان فرمز کو گرانٹ دیتا ہے، جو انوائرمنٹ کیلئے اینوویٹو آئیڈیاز تیار کرتی ہیں تاکہ ماحول کو آلودگیی پھیلانے والے پلاسٹک کے استعمال سے پاک کیا جا سکے۔ پلاسٹک آلودگی جانوروں اور انوائرمنٹ کیلئے نقصان دہ ہو سکتی ہے اور اس سے گرین ہاؤس گیسز میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ہیکنی بیسڈ نوٹپلا نے پہلے ایڈی ایبل ببل تیار کیا تھا جس کو اوہو کہتے ہیں جو کہ پانی کو روک سکتا ہے اور پھر اس نے سی ویڈ کے ذریعے پلاسٹک کا متبادل تیار کیا، جسے نوٹپلا کہا جاتا ہے۔ اس کی پروڈکٹس میں ٹیک اوے باکسز کیلئے کوٹنگ، فلم، سی ویڈ پلپ سے تیار کردہ پیپر اور ریجڈ پلاسٹک الٹرنیٹیو جو سی ویڈ سے بنایا جاتا ہے، شامل ہیں۔ اس فرم نے سال رواں میں ٹیک اوے ڈلیوری پلیٹ فارم جسٹ ایٹ کیلئے ایک ملین سے زائد ٹیک اوے باکسز تیار کئے تھے۔ بوسٹن میں ارتھ شاٹ پرائز ایوارڈ تقریب میں پرائز کیلئے ونر پانچ فرمز میں نوٹپلا بھی شامل ہے، پرنس آف ویلز نے کہا کہ کہ ارتھ شاٹ ونرز یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہم اپنی کرہ ارض کو درپیش بڑے چیلنجز پر قابو پا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج رات کے ونرز اور فائنلسٹس اور وہ ادارے جو مستقبل میں اس حوالے سے فروغ پائیں گےم ارتھ شاٹ لیگیسی کو جاری رکھیں گے اور یہ ہماری کمیونٹیز اور سیارے کے پھلنے پھولنے میں مدد کرے گی۔ نوٹپلا کے شریک بانی پاسلیئر نے کہا کہ جب روڈریگو اور میں نے آٹھ سال پہلے اپنے سٹوڈنٹس کچن میں نوٹپلا شروع کیا تھا تو ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ہم آج اس مقام پر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی پلاسٹک کچرے سے بھری دنیا میں نہیں رہنا چاہتا اور ابھی کچھ کرنے کیلئے تاخیر نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پلاسٹک چیلنجز کو حل کرنے کیلئے نیچرل سلوشن کو استعمال کرنے کیلئے اس سے بڑا وقت کبھی نہیں آیا۔ پلاسٹک آلودگی عالمی سطح پر اثرات مرتب کر رہی ہے، جس میں پولر سی آئس سے لے کر سمندر کے گہرے حصے تک پلاسٹک پایا جاتا ہے۔ پلاسٹک ہیبیٹاٹس کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ وہیل اور دیگر سمندری حیاتیات کیلئے مہلک ہو سکتا ہے۔ پلاسٹک چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ سکتی ہے، جسے مائیکرو پلاسٹک کہتے ہیں۔اس ماہ کے شروع میں ویلز میں ریسرچرز نے پتہ لگایا تھا کہ سمندری پرندے پلاسٹک اور چمکدار چیزوں کو غلط طور پر مچھلی سمجھ کر کھا رہے ہیں۔ایڈلٹ برڈز چھوٹے پرندوں کو پلاسٹک کھلا رہے ہیں جو فشنگ اکوپمنٹس یا شکار کے ذریعے آتے ہیں۔حال ہی میں ریسرچرز نے پتہ لگایا تھا کہ دور دراز برٹش آئزلینڈ اور ساؤتھ اٹلانٹک سے ہزاروں پلاسٹک ٹکڑوں کو صاف کیا گیا۔
یورپ سے سے مزید