• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آزادکشمیر میں 31 سال بعد بلدیاتی انتخابات

بولٹن کی ڈائری۔۔۔۔۔ ابرار حسین
آزاد کشمیر میں 31 سال بعدبلدیاتی انتخابات کا انعقاد حزب مخالف کی جماعتوں کے پروپیگنڈے کے برعکس بخیر و خوبی انجام کو پہنچ گئے، یہ انتخابات مختلف مراحل میں مکمل کیے گئے ،پاکستان میں مخالف جماعتوں کے برسراقتدار میں ہونے کے باوجود تحریک انصاف کی آزاد کشمیر حکومت نے اپنے محدود وسائل کے باوجود 3 دہائیوں سے زیادہ عرصے سے تعطل کا شکار بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کرا کر آزاد کشمیر کے خطے کے لوگوں کے دل جیت لیے ، پہلے تو جب مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت قائم تھی تو اس وقت عمران خان کی قیادت میں اور ان کی خصوصی دلچسپی سے آزاد کشمیر میں ہیلتھ کارڈ کا اجرا کیا گیا جس سے آزاد کشمیر کے غریب عوام کی دعائیں بھی عمران خان نے سمیٹیں، بلدیاتی انتخابات کے تاریخی کارنامہ کے علاوہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم سردار محمد تنویر الیاس نے چند روز قبل ریاست جموں کشمیر میں منعقدہ ایک اہم اجلاس جس میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف شریک تھے، نے وزیراعظم پاکستان کی جانب سے کشمیر کے معاملات کو یکسر نظر انداز کرنے پر بھرپور احتجاج کرکے کشمیری عوام کی بھرپور نمائندگی کا حق ادا کیا، وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے اس احتجاج کو وزیراعظم پاکستان کی طرف سے دبانے کی کوشش اور اپنے گارڈز کے ذریعے ناروا سلوک کے واقعہ کا نہ صرف ریاست جموں کشمیر بلکہ برطانیہ اور اوورسیز ممالک میں آباد کشمیریوں میں شدید اضطراب پیدا ہوگیا ہے، وزیراعظم پاکستان کو آزاد کشمیر کی متنازع حیثیت کا احساس ہی نہیں رہا کہ وہ کہاں کھڑے ہیں، انہوں نے غیر سنجیدگی کے ساتھ قومی غفلت کا شدید مظاہرہ کیا ہے جس پر برطانیہ کی کشمیری تنظیموں نے احتجاج شروع کر دیا ہے۔ لندن سے لے کر مانچسٹر اور گلاسگو، اسکاٹ لینڈ اور یورپ بھر میں وزیراعظم آزاد کشمیر کے ساتھ اس واقعہ پر یکجہتی کااظہار کیا جا رہا ہے پھر عطاء تارڑ کے انتہائی جذباتی اور بھونڈے بیان اور ساتھ ہی وزیراعظم آزاد کشمیر کے اسلام آباد میں داخلے پر پابندی اور ذاتی کاروبار کے خلاف وفاق کی بے جا کارروائیوں نے صورت حال کو مذید بگاڑ دیا، برطانیہ اور یورپ میں کشمیری یہاں کے ہاوس آف لارڈز، ہاوس آف کامنز اور یورپی یونین میں اعلیٰ مقامات تک پہنچ چکے ہیں امریکی ایوانوں میں بھی کشمیری کمیونٹی کی نمائندگی موجود ہے، یہ لوگ اب ایسی زیادتیوں پر خاموش اختیار نہیں کریں گے، اب مزید انتخابات کی طرف آتے ہیں، پی پی اور ن لیگ کے پروردہ میڈیا کی غلط اطلاعات کے برعکس آزاد کشمیر کے بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کو ہر جگہ کامیابی ملی ہے اور برطانیہ کے ہر علاقے میں کمیونٹی بیرسٹر سلطان محمود چوہدری صدر آزاد کشمیر کی جانب سے آزاد کشمیر میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے وعدے کی تکمیل پر ان سے تشکر کا اظہار کر رہی ہے، اب آزاد کشمیر میں اقتدار گراس روٹ پر منتقل ہو رہا ہے اور اس منتقلی کو مفاد پرست سیاست دانوں نے 31 سال تک روکے رکھا مگر جب پاکستان میں عمران خان نے تبدیلی کا بیانیہ دیا تو اس کی کرنوں کی روشنی سے آزادکشمیر بھی مستفید ہوا ہے الیکشن میں ہار جیت تو لگی رہتی ہے، اصل کام اس کا انعقاد ہے اور آج برطانیہ کے اندر تمام باشعور کشمیری چاہے وہ کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں وہ حقیقی معنوں میں سیاسی ورکرز ہیں میں سیاست کے نام پر ظلم کا،راج روا رکھنے والوں کی بات نہیں کر رہا مگر جو بھی حقیقی سیاسی لوگ ہیں وہ 31 سال بعد بالآخر کشمیر کے خطے کے لوگوں کو بلدیاتی انتخابات کا حق دلوانے پر اور تحریک انصاف کی آزاد کشمیر حکومت کے اس کارنامے کو دل سے سراہا رہے ہیں، خیال رہے کہ آزاد کشمیر میں پہلے لوکل گورنمنٹ الیکشن1979ء دوسرے 1983ء تیسرے 1987ء اور چوتھے 1991ء میں انعقاد پذیر ہوئے تھے۔ اس کے بعد تقریباً اکتیس سال کے تعطل کے بعدپانچویں لوکل گورنمنٹ الیکشن مرحلہ وار 27نومبر، 03اور08 دسمبر2022ء کو بالترتیب مظفرآباد، پونچھ اور میرپور ڈویژن میں منعقد کیے گئے ۔ ایک جائزہ کے مطابق آزاد کشمیر میں جولائی2021ء کے عام انتخابات میں 28 لاکھ 17 ہزاررجسٹرڈ ووٹرز تھے، حالیہ لوکل گورنمنٹ الیکشن میں 2 9 لاکھ48 ہزارمرد و خواتین ووٹرز نے حق رائے دہی استعمال کیا،آزادکشمیر میں پہلی مرتبہ لوکل گورنمنٹ کے انتخابات چیف الیکشن کمشنر کے ادارہ کے ماتحت ہوئے ہیں قبل ازیں چاروں الیکشنز، الیکشن کمشنر لوکل باڈیز کے تحت ہوئے تھے۔ پھر یہ کہ یہ الیکشن جماعتی بنیادوں پر کئے گئے ہیں جس میں تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی جیسی قومی اور پاکستان مسلم لیگ ن جیسی برادری ازم کے خمیر پر گوندھی گئی جماعت اور علاقہ کی سطح پر بنائی جانے والی جماعتوں کے علاوہ آزاد امیدواران کی 10556 کی تعداد نے بھی حصہ لیا، لوکل گورنمنٹ کے ادارہ جاتی نظام میں آزادکشمیر میں 10ضلع کونسلیں، 278یونین کونسلیں، 5 میونسپل کارپوریشنز ،14میونسپل کمیٹیزاور12ٹاؤن کمیٹیز کے ادارے موجود ہیں،مذکورہ جائزہ کے مطابق، منتخب ہوکر آنیوالی لوکل گورنمنٹ کے نمائندگان کے ساتھ محکمہ لوکل گورنمنٹ ودیہی ترقی اور لوکل گورنمنٹ بورڈ کے 2500سے زائد ملازمین بھی اسی نظام کا حصہ بنیں گے اور فیصلہ سازی میں منتخب نمائندگان کی معاونت کرینگے۔ یوں پورے آزادکشمیرمیں ضلع کونسل کے ممبران کی مجموعی تعداد 348ہوگی۔ یونین کونسل کے چیئرمینز کی تعداد 278ہوگی، انتخابات سے پہلے شائع کردہ اس جائزہ کی تفصیلات شاید جنگ لندن کے سیاسی قارئین کے لیے دلچسپی کا باعث بنیں،آزادکشمیر کے موجودہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے اور کئی قانونی پیچیدگیوں کو دور کرنے میں سپریم کورٹ آف آزادکشمیر نے بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے جس کی بدولت الیکشن کمیشن کیلئے ان انتخابات کو قابل عمل بنانا ممکن ہوا۔ ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان کے بلدیاتی نظام میں مختص نشستوں پر خواتین اور نوجوانوں کے علاؤہ مزدور، کسان، اقلیتی آبادیوں اور شیڈول کاسٹ کا کوٹہ بھی رکھا گیا ہے، اس کے علاوہ پنجاب اور خیبر بختونخوا میں پرائمری ہیلتھ، پرائمری ایجوکیشن،زراعت،سوشل ویلفیئر، کھیل، شہری دفاع، ٹرانسپورٹ، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، آرٹس کلچر، ٹورازم، میونسپل اداروں کولوکل گورنمنٹ سسٹم کا حصہ بنایا گیاہے اور ضلعی سطح پر متعلقہ اتھارٹیز بنائی گئی ہیں، تقریباً اکتیس سال بعد اس نظام کے دوبارہ فعال ہونے پر عوام الناس میں جوش و خروش پایا گیا وہیں پر اس نظام کے لئے بیشمار چیلنجز بھی ہیں، یہ انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے آزادکشمیر کے بعض ووٹرز نے پہلی بار اس عمل میں حصہ لیا ہے جس کے باعث لوگوں میں فطری طور پر انتہائی خوشی کا اظہار کیا گیا اور اس سلسلے میں ان کا سیاسی جذبہ دیکھنے میں آیا، بولٹن سمیت برطانیہ کے مختلف شہروں سے سیاسی سوجھ بوجھ کے حامل لوگ اپنے اپنے عزیز وقارب کی انتخابات میں کامیابی کے لیے آزاد کشمیر گئے ہوئے تھے، اسی طرح لندن کے قریبی شہر وٹفورڈ سے ممتاز شخصیت چوہدری غلام مصطفی مہتہ بھی ان خوش نصیب افراد میں شامل تھے جو اپنے بھائی چوہدری رستم علی جو ضلع کونسل کوٹلی سے تحریک انصاف کے امیدوار تھے کی کامیابی کے لیے وطن عزیز تشریف لے گئے تھے، ان کے بھائی چوہدری رستم علی واضح اکثریت سے کامیاب ہوئے ہیں،ادھر کوٹلی میں ہمارے ایک عزیز سابق ایڈمنسٹریٹر بلدیہ کوٹلی خورشید احمد قادری کے نوجوان صاحبزادہ سرمد خورشید قادری پہلی بار سیاسی دنگل کا حصہ بنے گو بد قسمتی سے وہ کامیاب نہیں ہو سکے مگر انہوں نے اس عمل کا حصہ بن کر والد کی روایات کو تازہ کر دیا ہے اور آئندہ سیاسی جانشین ہونے کا ثبوت دیا ہے، اسی طرح بولٹن سے راجہ طارق محمود تھروچی کونسل سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے سیاسی دوڑ میں شامل ہوئے مگر کامیاب نہ ہوسکے لیکن ایک بات طے ہے کہ وہ اپنے علاقے کے لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کا بھرپور جذبہ رکھتے ہیں، وہ سات سمندر پار رہ کر بھی اپنے آباد اجداد کی روایات کے مطابق اپنے علاقے کے غریب لوگوں کی مدد کرتے رہتے ہیں جب کہ ان کے مدمقابل بولٹن سے مسلم لیگ ن کے سابق صدر محمد شفیق پوتہ کے بڑے بھائی کامیاب ہوگئے۔ 
یورپ سے سے مزید