مفتی محمد راشد ڈسکوی
آج کل ہر طرف مہنگائی کے از حد بڑھ جانے کے سبب ہر بندہ ہی پریشان نظر آتا ہے، کسی بھی مجلس میں شرکت کی جائے ، وہاں ہر کوئی اپنی اپنی عقل و فہم کے لحاظ سے اس کے اسباب و وجوہات پر تبصرے کرتا نظر پڑتا ہے، لیکن بڑی ہی عجیب بات یہ سامنے آتی ہے کہ عام طور پر مہنگائی کی ظاہری وجوہات اور ظاہری اسباب پر توتجزیہ نگار تبصرے فرما رہے ہوتے ہیں، لیکن اس کی اصل وجوہات اور حقیقی اسباب کی طرف عموماً توجہ نہیں جاتی۔
جب ملکی و معاشی مسائل کے حل کے لیے کسی بھی سمجھ دار اور دانش ور تجزیہ نگار کی بات کو بغور سنا جاتا ہے، تو پھر کیا وجہ ہے کہ ان موجودہ پریشان کن اہم مسائل کے حل کے لیے دنیا کی سب سے عقل مند ترین ہستی، صادق و امین آقائے دو جہاں حضرت محمد ﷺ (جن کے بارے میں فرمانِ رب ذوالجلال ہے ’’وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰى اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰى‘‘) کی طرف کیوں نظر نہیں کی جاتی کہ اس مبارک ہستی نے ہمارے ان مسائل کی کیا وجوہات واسباب بیان کیے ہیں؟
جو وجوہات سرورِ دو عالم، سید الانبیاء احمد مجتبیٰﷺ نے بیان فرمائی ہیں، ہمارے مسائل کی حقیقی وجوہات اور حقیقی اسباب وہی ہیں، اس بات کو حقیقی جاننا ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ باقی اپنی عقل و فہم سے جو جو اسباب و وجوہات بیان کیے جا رہے ہیں، وہ سارے اسباب ظاہری و طبعی ہیں، نہ کہ اصلی اور حقیقی۔ چنانچہ جب تک اصل مرض کی تشخیص نہ ہوجائے ،اس وقت تک علاج کار گر نہیں ہوسکتا، اصل مرض کی تشخیص اور موجودہ مسائل کے حقیقی اسباب کو جاننے اور ان کے حل کے لیے حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی ؒؒ نے قرآن و حدیث کو سامنے رکھتے ہوئے اس موضوع پر گفتگو فرمائی اور احادیث کی روشنی میں مہنگائی کی وجوہات اور اسباب بیان فرمائے، اللہ تعالیٰ ہمیں ان سب کو سمجھنے اور ان پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)
شریعت کی روشنی میں مہنگائی کی وجوہات واَسباب:۔حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہماری طرف متوجہ ہوکر فرمایا: اے مہاجرین کی جماعت! پانچ باتیں ہیں جب تم ان میں مبتلا ہوجاؤ گے، اور میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ تم اس میں مبتلا ہو، (وہ پانچ باتیں یہ ہیں: پہلی یہ کہ جب کسی قوم میں علانیہ فحش (فسق و فجور اور زناکاری) ہونے لگ جائے، تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھوٹ پڑتی ہیں جو ان سے پہلے کے لوگوں میں نہ تھیں۔
دوسری یہ کہ جب لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگ جاتے ہیں تو وہ قحط، معاشی تنگی اور اپنے حکمرانوں کی ظلم و زیادتی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ تیسری یہ کہ جب لوگ اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش روک دیتا ہے، اور اگر زمین پر چوپائے نہ ہوتے تو آسمان سے پانی کا ایک قطرہ بھی نہ گرتا۔ چوتھی یہ کہ جب لوگ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے عہد و پیمان کو توڑ دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان پر ان کے علاوہ لوگوں میں سے کسی دشمن کو مسلط کردیتا ہے، وہ جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے، چھین لیتا ہے۔ پانچویں یہ کہ جب ان کے حکمراں اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلے نہیں کرتے، اور اللہ نے جو نازل کیا ہے اس کو اختیار نہیں کرتے، تو اللہ تعالیٰ ان میں پھوٹ اور اختلاف ڈال دیتا ہے۔ ‘‘(سنن ابن ماجہ)
امام احمد ؒ نے وہب ؒ سے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے فرمایا: جب میری اطاعت کی جاتی ہے تو میں راضی ہوتا ہوں، اور جب میں راضی ہوتا ہوں تو برکت عطا کرتا ہوں، اور میری برکت کی کوئی انتہا نہیں، اور جب میری نافرمانی کی جاتی ہے، تو میں غضب ناک ہوتا ہوں، تو میں لعنت کرتا ہوں، اور میری لعنت کا اثر سات پشتوں تک رہتا ہے۔ ‘‘ (کتاب الزہد لاحمد بن حنبل)
حضرت ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: ترجمہ: ’’نیکی ہی عمر کو بڑھاتی ہے، اور تقدیر کو دعا کے علاوہ کوئی چیز نہیں ٹال سکتی، اور کبھی آدمی اپنے گناہ کی وجہ سے ملنے والے رزق سے محروم ہو جاتا ہے۔ ‘‘(سنن ابن ماجہ)حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: ’’نہیں روکا کسی قوم نے زکوٰۃ کو، مگر روک لیا اللہ تعالیٰ نے ان سے بارش کو۔‘‘ (المعجم الکبیر للطبرانی) مذکورہ احادیث مبارکہ سے قحط سالی،بارشوں کا بروقت نہ ہونا، مہنگائی کا ہو جانا، اور رزق میں کمی ہو جانے کے اسباب یہ معلوم ہوئے: ناپ تول میں کمی … زکوٰۃ ادا نہ کرنا… زنا کرنا… مطلق اللہ کی نافرمانی اور گناہ کرنا…قرآن وسنت کے خلاف فیصلے کرنا۔
مہنگائی کا علاج:۔ حضرت تھانویؒ لکھتے ہیں: ’’ذکر کردہ تفصیل سے موجودہ دور کی مشکلات کے اسباب متعین ہو چکے، تو علاج اس کا اُن اسباب کا ازالہ ہے، یعنی: ایمان کی درستی، تمام معاصی سے توبہ واستغفار کرنا، خصوصاً حقوق العباد میں کوتاہی کرنے سے، اور زکوٰۃ ادا نہ کرنے سے، اور زنا اور اس کے مقدمات سے کہ وہ بھی بحکم زنا ہی ہیں، جیسے: بُری نگاہ کرنا، نامحرم سے باتیں بقصدِ لذت کرنا، اس کی آواز سے لذت حاصل کرنا، خصوصاً گانے بجانے سے، چنانچہ حق تعالیٰ نے صریحاً اسے علاج فرمایا ہے کہ اپنے پروردگار کے روبرو (اعمالِ سیاہ سے) استغفار کرو، پھر (اعمال صالح سے) اس کی طرف متوجہ ہو، وہ تم پر بارش کو بڑی کثرت سے بھیجے گا۔
اب اکثر لوگ بجائے ان اسبابِ اصلیہ کے اسبابِ طبیعیہ کو مؤثر سمجھ کر علاجِ مذکور کی طرف توجہ نہیں کرتے، اور صرف حکایت، شکایت، یا رائے زنی، وپیش گوئی، یا تخمینی کا شُغل رکھتے ہیں، جو محض اضاعتِ وقت ہے۔ ہم اسبابِ طبیعیہ کے منکر نہیں، مگر اس کا درجہ اسبابِ اصلیہ کے سامنے ایسا ہے جیسے: کسی باغی کو بحکمِ شاہی گولی سے ہلاک کیا گیا۔ دوسرا دیکھنے والا اصلی سبب، یعنی: قہرِ سلطانی کو سبب نہ کہے، اور طبعی سبب، یعنی: صرف گولی کو سبب کہے، حالانکہ اس طبعی سبب کے استعمال کا سبب وہی سببِ اصلی ہے، مگر جو شخص اسے نہ سمجھے گا وہ بغاوت سے پرہیز نہیں کرے گا، گولی کا توڑ تجویز کرے گا جو کہ اس کی قدرت سے خارج ہے، سو کیا یہ غلطی نہیں ہو گی؟ یہی حالت ہم لوگوں کی ہے۔‘‘ (سال بھر کے مسنون اعمال، مہنگائی اور قحط کے اسباب، ص: ۴۰- ۴۱)
مولانا محمد یوسف کاندھلوی ؒکا ایک ملفوظ:۔ اگر کوئی شخص چاہتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں معاشی اعتبار سے تنگی پیدا نہ ہو تو اس کا حل شریعت میں بہت واضح انداز میں بیان کر دیا گیا ہے، اس بات کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے تو مولاناؒکا ایک ملفوظ ملاحظہ فرمالیا جائے، تا کہ بات کو آگے لے کر چلنا آسان ہوسکے: مولانا یوسف صاحبؒ کے زمانے کا قصہ ہے کہ ان کے زمانے میں مہنگائی بہت بڑھ گئی، کچھ لوگ مولانا کے پاس آئے اور مہنگائی کی شکایت کی اور کہا کہ کیا ہم حکومت کے سامنے مظاہرے کرکے اپنی بات پیش کریں؟
حضرت ؒ نے ان سے فرمایا : مظاہرے کرنا اہلِ باطل کا طریقہ ہے۔ پھر سمجھایا کہ دیکھو! انسان اور چیزیں، دونوں اللہ تعالیٰ کے نزدیک ترازو کے دو پلڑوں کی طرح ہیں،جب انسان کی قیمت اللہ تعالیٰ کے یہاں ایمان اور اعمالِ صالحہ کی وجہ سے بڑھ جاتی ہے تو چیزوں کی قیمت والا پلڑا خودبخود ہلکا ہوکر اُوپر اٹھ جاتا ہے اور مہنگائی میں کمی آجاتی ہے اور جب انسان کی قیمت اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کے گناہوں اور معصیتوں کی کثرت کی وجہ سے کم ہوجاتی ہے تو چیزوں والا پلڑا وزنی ہوجاتا ہے اور چیزوں کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، لہٰذا ! تم پر ایمان اور اعمالِ صالحہ کی محنت ضروری ہے، تاکہ اللہ پاک کے یہاں تمہاری قیمت بڑھ جائے اور چیزوں کی قیمت گرجائے۔
پھر فرمایا: لوگ فقر سے ڈراتے ہیں، حالانکہ یہ شیطان کا کام ہے۔ اس لیے تم لوگ جانے انجانے میں شیطانی لشکر اور ایجنٹ مت بنو۔ اللہ کی قسم ! اگر کسی کی روزی سمندر کی گہرائیوں میں کسی بند پتھر میں بھی ہوگی تو وہ پھٹے گا اور اس کا رزق اسے پہنچ کر رہے گا۔ مہنگائی اُس رزق کو روک نہیں سکتی جو تمہارے لیے اللہ پاک نے لکھ دی ہے۔ (جاری ہے)