حرف بہ حرف … رخسانہ رخشی، لندن کسی بھی پیچیدہ صورت و حالات میں رہنا بہت سے لوگوں کے بس کے بات نہیں تصوراتی دنیا میں رہ کر سبھی کچھ پالینا یا چشم زن میں دنیاوی معاملات اپنی مٹھی میں بند کر لینا جاگتی آنکھوں کے سپنے ہیں جو ہماری آج کل کی ہر عمر کی نسل دیکھ رہی ہے۔ ہاتھ پرہاتھ دھرے رہنے والے لوگ سمندر دیکھتے ضرور ہیں مگر اس میں غوطہ زن ہو کر سمندر کی کوڑی لانے کے تصور سے کانپ جاتے ہیں کہ اس کی تہہ میں جاکر دیکھا جائے کہ قدرت کی کاریگری یا سمندر کی تہہ کا ماجرا کیا ہے، ذرا دیکھ ہی لیا جائے حتیٰ کہ سمندر کے ساحل تک پہنچنا بھی انہیں محال لگتا ہے، دنیا کی کٹھن راہیں مشکل ہوتی جا رہی ہیں اور لوگوں کے ذہن اتنے ہی سہل پسندی کی طرف مائل ہیں، یہ بھی کہہ لیجئے کہ کاہلی کی طرف مائل ہیں۔ فراز نے کاہلی پر کیا خوب طعنہ دیا ہے ۔ اتنے آرام طلب ہو تو محبت میں فراز۔میر بن جاؤ گے فرہاد نہیں ہونے کے۔اس شعر کا مطلب کچھ یوں بھی ہے کہ آرام طلبی اگر زندگی کا حصہ رہے تو پھر انسان میر کی طرح سخن وری ہی کرتا رہے گا مگر فرہاد کی طرح دودھ کی نہریں نہیں کھودے گا کیونکہ نہریں کھودنا ایک ایسا کام ہے جسے محنت کہتے ہیں۔ وہی بات کہ آج کل ’’نروان‘‘ نام کی لوگوں نے شرٹس پہن رکھی ہیں مگر نروان کیا ہے، اس کی کتنی اقسام ہیں،اس میں کتنی تپسیا کرنا پڑتی ہے، کتنی سوچ بچار اورفکرکے بعد نروان حاصل ہوتاہے۔ نوجوان نسل نے نروان کو فیشن کے طور پر لے رکھا نروان کی چھپائی والی شرٹس پہن لیں، کیپ پہن لیں اور تو اور بہت سے سادھو لوگ کیسری رنگ کی چادر لپیٹے ڈھول بجاتے پھرتے ہیں کہ جیسے کہہ رہے ہوں کہ ’’نروان لے لو، نروان لے لو‘‘۔ یورپ میں عموماً ایسے ہی سین دیکھنے کو ملتے ہیں کہ گروہ کے گروہ کیسری چادریں لپیٹ کر ڈھول بجائے پھرتے ہیں۔ معلوم نہیں گاگا کرکونسا پیغام دے رہے ہوتے ہیں اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے نیا نیا بدھ ازم کو اپنایا ہے۔ نروان کو نجات کا راستہ سمجھنے والے یہ کبھی نہیں سوچتے کہ اس کیلئے بھی جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ نجات (نروان) سے پہلے مراقبہ بھی ضروری ہے اپنی صلاحیت کو سمجھنا، اپنی ذات کی فکر کرنا، اپنی کارکردگی کا جائزہ لینا۔ آج کل کسی کو بھی اپنے کو یا اپنے نفس کوپہچاننے کی ضرورت نہیں تو پھر مراقبہ اور نروان کو کیسے پہچانا جائے گا۔ نروان یا مراقبہ ایک گہرائی ہے اپنے آپ سے مکالمہ ہے ، سمجھ ہے، سوچ ہے، عزم ہے، عمل ہے، کوشش ہے، درست ذہن سازی ہے، نروان ایسی حالات کا نام ہے۔نروان ایک عظیم امن اور خوشی کی حالت ہے، نروان یہ بھی ہے کہ ایسی حالت جو مراقبہ اور روحانی روشن خیالی کے ذریعے حاصل کی جاسکتی ہے یہ روحانی خوشی کا انفرادی شعور ہے، خواہشات، مصائب و مسائل سے الگ!نروان سے پہلے یعنی نجات سے پہلے مراقبہ بھی زندگی کے فکرات سے دور رہنے کا نام ہے مگر مراقبہ یا نروان یہ نہیں کہ آپ جنگل بیاباں میں ہاتھ دعا کی صورت پھیلا کر بیٹھ جائیں اور اسی حالت میں کئی کئی دن بیٹھے رہیں حتیٰ کہ پرندے آپ کے پھیلے ہاتھوں پر گھونسلے بنالیں اور آپ دنیا سے کٹ کر رہ جائیں۔ آج کل ایسا مراقبہ کوئی کرتا بھی نہیں ہے کیونکہ جان جوکھوں میں ڈالنے کا رواج نہیں رہا وہ پہلے ہی لوگ تھے جو سکون کی تلاش میں جنگلوں، بیابانوں میں نکل جایا کرتے تھے۔ آج سکون کیلئے ہزاروں قسم کے نشے آچکے ہیں لوگ انہیں استعمال کرکے کہیں بھی سکون حاصل کر سکتے ہیں۔ آج ہر کوئی اپنی اپنی مصیبت و مسائل میں گھراہے، سکون کو وہ کسی محنت یا اچھے اعمال میں تلاش نہیں کرتا مگر اس کے سکون کا دارومدار اس کی تن آسانی میں ہے اس کی سستی و کاہلی میں ہے، نروان کی تلاش میں نہیں، مراقبہ و فکر میںبھی نہیں ہے۔کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ عجیب بات ہے کہ ہم سکون ڈھونڈنے کیلئے بھی پریشان رہتے ہیں۔ زمانے کے حالات انسان کو پریشان سے پریشان اور سست و کاہل کرتے جارہے ہیں بناوٹی دنیا کے لوگ ہر چیز فیشن کے طور پر لیتے ہیں چاہے وہ نروان ہو یا مراقبے کی فکر ہو اسی لئے ایسے لوگوں میں سکون کی کمی ہوتی ہے۔ مراقبہ بھی تردد کا نام ہے جو ہر کوئی آجکل نہیں کر رہا وہ برگزیدہ ہستیاں کر چکیں گئے زمانوں میں۔ لگن تھی ان میں کچھ کھوجنے کی، سکون کی تلاش سے زیادہ ان میں خدا کو ڈھونڈنے کی جستجو اور لگن بھی تھی۔آج جو طبقہ سکون میں ہے وہ محنت کش ہیں جنہیں سکون کیلئے کمانا پڑتا ہے انہیں سکون کی تلاش میں زندگی کے حقائق نہیں ڈھونڈنے پڑتے، دورجنگل و بیاباں میں نہیں جانا پڑتا، دنیا سے کٹ کر الگ تھلگ دنیا نہیں بساناپڑتی۔ نجات کی تلاش میں ریاضتیں نہیں کرتے۔ خود کو مشقت میں نہیں ڈالتے، جگہ جگہ سرگرداں نہیں پھرتے۔ اپنی محنت پر یقین رکھ کر رنج و غم سے پاک ہو کر روح کی تسکین کیلئے اپنے لئے متحرک رہنے کے اصول پر عمل کرے۔ ایسے ہی عوامل اختیارکرنے کو ’’نروان‘‘ کہتے ہیں۔ آج کے دور کا نروان تو سستی و کاہلی میں نہیں محنت و مشقت میں ہے۔سکون دل جہاں بیش و کم میں ڈھونڈنے والے۔یہاں ہر چیز ملتی ہے سکون دل نہیں ملتا۔