• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال: میرا کزن ہے ، وہ خنثیٰ ہے ، نہ مرد ہے نہ عورت ، لیکن شروع سے وہ ہمارے ساتھ کھیلتا ہے، اور کام کاج وغیرہ حتیٰ کہ بھاری بھاری کام ہمارے ساتھ مل کر کر لیتا ہے ، اس لیے ظاہری حساب سے آج تک ہمارے محلے والوں کو بھی معلوم نہیں کہ وہ مرد نہیں ہے۔ ہمارے خاندان والوں نے مشورہ کیا کہ ہم اس کا آپریشن کروا کر اسے لڑکا بنوا لیتے ہیں، لیکن پچھلے دنوں ٹرانس جینڈر سے متعلق علماء کے بیانات سنے کہ اللہ تعالیٰ جسے جیسا پیدا کرے اسی پر انسان کو راضی رہنا چاہیے، تبدیلی حرام اور ایک طرح سے اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر ناخوشی اور اعتراض ہے، تو مجھے یہ بتا دیں کہ کیا آپریشن کے ذریعے ہم خنثیٰ کی جنس تبدیل کر واسکتے ہیں؟ مثلاً یہ ہمارا کزن مرد کے قریب ہے تو کیا اسے آپریشن کے ذریعے مرد بنا سکتےہیں ؟

جواب: جو خنثیٰ "خنثیٰ مشکل" نہ ہو ، تو اگر وہ مردانہ صفات کا حامل ہو تو اس پر از رُوئے شرع مردانہ احکام لاگو ہوتے ہیں، اور جو خنثیٰ زنانہ صفات کا حامل ہو، اس پر زنانہ احکام لاگو ہوتے ہیں، لہٰذا اگر سائل کا کزن مردانہ صفات کا حامل ہے، لیکن مکمل مرد نہیں ہے تو اس کے موجودہ عیب کے ازالے کے لیے آپریشن کرکے اسے مکمل مرد بنانے کی گنجائش ہے، یہ چونکہ خدا کی خلقت کو بدلنا نہیں، بلکہ عیب کا ازالہ ہے، جیسا کہ زائد انگلی کو کاٹنا، اس لیے یہ جنس کی تبدیلی نہیں کہلائے گی، لہٰذا اس کی گنجائش ہے۔ (الفتاویٰ العالمگیریۃ، کتاب الکراھیۃ، الباب الحادی والعشرون فيما يسع من جراحات بنی آدم والحیوانات، ج:5، ص:360، ط:المکتبۃ الرشیدیۃ)

اقراء سے مزید