تفہیم المسائل
سوال: میں ایک سرکاری اسکول میں ملازمت کرتی ہوں، سال 2026ء میں میرا نام وزارت مذہبی امور کی طرف سے حج مشن کے لیے منتخب کیا گیا ہے، جس کے لیے مجھے سعودی عرب کے شہر مکہ اور مدینہ کام کے سلسلے کے لیے جانا ہوگا، چونکہ سعودی تعلیمات، موڈرن اسلامک اسکالرز اور اسلامی نظریاتی کونسل کے فیصلے کے مطابق اب سفر کے لیے محرم کی شرط نہیں ہے، کیا میں اس بنیاد پر سرکاری کام کے لیے کیے جانے والے سفر میں محرم کی شرط سے مستثنیٰ ہوں یا اس سرکاری نوعیت کے کام کے لیے بھی سفر میں محرم کی شرط لازم ہوگی، وزارت کے عہدیدار بار بار محرم کو ساتھ نہ لے جانے کا یہی جواز دے رہے ہیں کہ یہ سفر حج کا نہیں ہے، جس کے لیے محرم کی ضرورت ہو بلکہ یہ سفر کام کے لیے کیا جارہا ہے، جس میں محرم کی کوئی شرط نہیں ہوتی، نیز اس سفر میں ہمیں حج اور عمرہ کی اجازت دی جارہی ہے، تو اس کا کیا حکم ہوگا؟ (ایک دینی بہن، کراچی)
جواب: شریعتِ مُطہرہ میں ایسی مسافت ِسفر کی کم ازکم مقدار کہ جو عورت مَحرم کے بغیر نہیں کرسکتی، جدید پیمائش کے اعشاری نظام کے مطابق تقریباً 98کلومیٹر بتائی ہے، یہ سفر خواہ کسی ذاتی کام کے لیے ہو، سیاحت کی غرض سے ہویا حج وعمرہ کی ادائیگی کے لیے ہو،ہرقسم کے سفر کے لیے حکم یکساں ہے۔
لوگوں میں جو یہ مشہور ہے کہ عورت صرف حج وعمرہ کے سفر میں مَحرم کی رفاقت کی پابند ہے، صحیح یہ ہے کہ ہروہ سفر جو شرعی مسافت 98کلو میٹر یا اُس سے زائد ہے، بغیر محرم کے نہ کرے، حدیث پاک میں ہے: (۱) ترجمہ:’’ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کوئی عورت (شوہر یا) مَحرم کی رفاقت کے بغیر تین دن کا سفر نہ کرے، (صحیح مسلم :3154)‘‘۔(۲)ترجمہ:’’نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو عورت اللہ تعالیٰ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتی ہے، وہ (شوہریا) محرم کی رفاقت کے بغیرتین راتوں کی مسافت کا سفر نہ کرے، (صحیح مسلم:3156)‘‘۔
غیر مُقلد عالم قاضی شوکانی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ حدیثِ رسول :’’ عورت (شوہر یا) محرم کی رفاقت کے بغیرسفر نہ کرے ‘‘ہر سفر کو شامل ہے ،اس میں سفرِ حج بھی شامل ہے ،(نیل الأوطار ، جلد4، ص:346)‘‘ ۔ سفر کے لیے محرم کی شرط شریعتِ مُطہرہ نے بیان فرمائی ہے، علامہ علاء الدین ابی بکر بن مسعود کاسانی حنفی لکھتے ہیں: ترجمہ: اور عورتوں کے لیے (حج وعمرہ کی شرائط میں) دو شرطیں خاص ہیں: ان میں سے ایک شرط یہ ہے: اس کا شوہر یا اس کا محرم اس کے ساتھ ہو، پس اگر ان دونوں میں سے کسی ایک کو نہ پائے تو اس پر حج واجب نہیں، دوسرے مقام پر لکھتے ہیں: ترجمہ:’’محرم وہ شخص ہے جس سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہو، خواہ حرمتِ نکاح قرابت کے رشتے کی وجہ سے ہو یا رضاعت کے سبب ہو یا سسرالی رشتے کی وجہ سے(مثلاً: داماد یا سُسر)، کیونکہ دائمی حرمت سے خلوت میں تہمت کا اندیشہ زائل ہو جاتا ہے، اسی لیے فقہاء کرام نے فرمایا: اگر محرم بھی قابلِ اعتماد نہ ہو(یعنی اس سے آبرومحفوظ نہ ہو)تو اُس کے ساتھ بھی عورت کا سفر پر جانا جائز نہیں ہے،(بدائع الصنائع، جز ثانی ،ص: 87،188)‘‘۔اس سے مراد ایسا مَحرم جس کی شہرت یا عادات آوارگی کی ہوں یا شرعاً غیر محتاط ہو۔
سعودی حکومت، ماڈرن اسکالرز یا اسلامی نظریاتی کونسل کی اجازت شرعی احکام کونہ باطل یا تبدیل کرسکتی، نہ وہ شرعی احکام کے لیے حُجّت یا دلیل بن سکتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ شارع ہیں، جیسا آپ ﷺ نے حکم بیان فرمادیا، وہ حرفِ آخر ہے، بلاچوں وچِرا اُسے تسلیم کرلینے میں ہی سعادت ہے، خاتون کا سفر خواہ کسی بھی مقصد کے لیے ہو، اگر مسافتِ شرعی (یعنی 98کلو میٹر یا اُس سے زائد کا)ہے ،تو محرم کے بغیر نہ کرے۔
تاہم اگر کوئی خاتون شوہر یا مَحرم کی رفاقت کے بغیر جائے اور ارکانِ حج کو شریعت کے مطابق ادا کرے، توحج تو ادا ہوجائے گا اور اگر اس پر حج فرض ہے تو فرض ساقط ہوجائے گا، لیکن خلافِ سنّت فعل کرنے پر گنہگار ہوگی، اس پر اللہ تعالیٰ سے توبہ کرے۔